حوثیوں نے سعودی عرب پر پھر میزائل داغے، جنہیں تباہ کردیا گیا۔
سعودی فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی شہر ’خمیس مشیط‘ کی طرف داغے گئے 3 بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔
امریکی سینیٹر الزبتھ وارن کا کہنا ہے کہ تنازع کو تقریباً 8 ماہ ہونے والے ہیں، تاہم کوئی یہ وضاحت نہیں کر پا رہا کہ اس جنگ سے کیا حاصل ہوا ہے اور یہ کب ختم ہو گی؟
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز سابق امریکی صدور کو بہت پہلے کر دینا چاہیے تھا۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا مقصد تنازعات کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
اماراتی وزارت کا کہنا ہے کہ بدبو سے شہریوں کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
سعودی فوجی اتحادی کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے اسرائیل کے وجود کو خطرات لاحق ہیں، اس بار اسرائیل ٹرمپ سے پوچھے بغیر ایران پر حملہ کرے گا۔
خوبصورت منظر کی تصویر لینے کے لیے نشان زدہ راستے سے ہٹتے ہوئے اس کا پاؤں پھسل گیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران درحقیقت ایک بہت بری حکومت ہے، وہ صرف یہ امید کرسکتے ہیں کہ امریکی عوام اور پوری دنیا سمجھ جائے کہ ایرانی حکومت کتنی بری ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آج ایرانی پانیوں میں 7 غیر ملکی بحری جہاز نشانہ بنے ہیں۔
اماراتی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مملکت کی سلامتی کیلئے سعودی عرب کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
برطانوی وزیر بیرونس لائیڈ کے مطابق ممکنہ گلوبل سائبر سیکیورٹی مسائل کے باعث کام جاری ہونے کے دوران حکومت کی 32 سروسز آف لائن ہو گئی ہیں، جبکہ چار سروسز جزوی طور پر غیر فعال ہیں۔
جرمنی سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر اور مقبول ملٹی پلیئر گیم ’اسٹک رن‘ کے خالق مینوئل اوٹو 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
اماراتی سفارتکار لانا نسیبہ اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل بننے کی دوڑ میں شامل ہوگئیں۔ ابوظبی سے رپورٹ کے مطابق لانا نسیبہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک اقوام متحدہ میں اماراتی سفیر رہیں۔
انسانی حقوق کا سخاروف انعام 2026 عالمی فوجداری عدالت کے نام رہا۔ برسلز سے خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے عالمی فوجداری عدالت کو انسانی حقوق کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا۔
سیکریٹری ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو یقین ہو گیا ہے کہ امریکی فوج اپنے اڈوں کا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں۔
امریکا حوثی خطرات اور ایران کی براہِ راست دھمکیوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے فوجی اڈوں سے امریکی اہلکاروں کی موجودگی خاموشی سے کم کر رہا ہے