امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا کے ایک اسپتال پر الزام ہے کہ اس نے 1988ء میں پیدا ہونے والے 2 نومولود بچوں کو غلطی سے تبدیل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خاندانوں کے حوالے کر دیا تھا جس کا انکشاف 36 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹ سے ہوا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 26 جنوری 1988ء کو دونوں بچے ایک ہی اسپتال میں پیدا ہوئے تھے۔
خاندانوں کا کہنا ہے کہ اسپتال کے عملے نے بچوں کی شناخت میں غلطی کی اور انہیں ان کے حقیقی والدین کے بجائے ایک دوسرے کے گھر بھیج دیا۔
پیدائش کے وقت بدلے جانے والے دونوں بچوں میں سے ایک نے بتایا کہ مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ میں اپنے خاندان سے مختلف دکھائی دیتا ہوں۔
شبے کی بنیاد پر کروائے گئے ڈی این اے ٹیسٹ سے حقیقت سامنے آ گئی جس کے بعد دونوں افراد نے اپنے حیاتیاتی والدین سے آن لائن ملاقات کی تاہم دونوں اب تک ایک دوسرے سے آمنے سامنے نہیں ملے مل سکے ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے ایک سال تک مالی تصفیے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ملنے پر اسپتال کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔
دوسری جانب اسپتال نے واقعے کے جذباتی اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی اپنی قانونی ذمے داری سے انکار کیا ہے اور عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی ہے۔
