• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کا صفحہ: کُھل کر بولنے، لکھنے کی مکمل آزادی ...

السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

شان دار نثر نگاربھی…

آج کا شمارہ قبل از وقت ملا، دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا، سرِورق لاجواب تھا۔ ہردَروبام میں، صُبح وشام میں، واقعتاً مائوں، بہنوں اور بیٹیوں ہی سے گھربار کی ساری رونق ہے۔ عیدین کے موقعے پر پورے خاندان کے بچّوں، بڑوں کی یک جائی ہی دراصل عیدین کا اصل حُسن ہے۔ ڈاکٹر حافظ محمد ثانی ماہِ رمضان کے انعام ’’عیدالفطر‘‘ پر بہترین مضمون لائے۔

رابعہ فاطمہ نے ’’عید ایک تہذیبی ادارہ‘‘ کے عنوان سے شان دار نگارش رقم کی۔ ثانیہ انور دوسروں کے دُکھ، درد کے احساس کی یاد دہانی کروا رہی تھیں۔ ڈاکٹر سکندر اقبال کا مضمون تو ہمیشہ کی طرح بے مثل ہی رہا، خصوصاً قیدیوں میں عیدی کی تقسیم کا آئیڈیا بہت اچھا لگا۔ رحمان فارس ایک بہترین شاعر ہی نہیں، شان دار نثرنگار بھی ہیں، یہ بات تو اب طےشدہ ہے۔

ذکی طارق بارہ بنکوی ،بھارت سے جب بھی کچھ لکھتے ہیں، بہت اچھا لکھتے ہیں۔ ؎ میری ہی طرح عشق کے جذبات کا تم بھی…اے جانِ تمنا کرو اظہار کسی دن۔ واہ، واہ! طلعت عمران کے مرتب کردہ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کا بھی کیا کہنا اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ تو ہمیشہ ہی کی طرح لاجواب تھا۔ (شمائلہ نیاز، دائرہ دین پناہ، تحصیل کوٹ ادّو، ضلع مظفّر گڑھ)

پروین شاکر کا خاکہ

اب میرے چل چلائو کا زمانہ ہے۔ واقعتاً پتا نہیں چلتا کہ کیا لکھتا چلا جاتا ہوں۔ ہاں، مگر میں بہت حسّاس، نرم دل، ناچیز ماٹی کا پُتلا ہوں۔ ’’سنڈے ایڈیشن‘‘ جب پڑھتا ہوں، تو کافی کے گھونٹ کے ساتھ لُطف اندوز ہوتا ہوں، میری اپنی ایک علیحدہ سوچ ہے، جو دل میں ہوتا ہے، ویسا لکھ دیتا ہوں، بے جا تعریف بھی نہیں کرتا، شاعر کا کوئی عہد نہیں ہوتا، اس کا ہر شعر اثاثہ ہوتا ہے۔ یہ جو آپ ہر اتوار کسی ایک شخصیت سے ملاقات کروا رہی ہیں، اس سلسلے کا تو کوئی مول ہی نہیں، ممکن ہو تو پروین شاکر کا بھی خاکہ لکھوائیں۔ (سیّد شاہ عالم زمرد، راول پنڈی)

مانا ہی نہیں گیا

اُمید ہے، خیریت سے ہوں گی، اِس بار بھی دو ہی شماروں پر تبصرہ کروں گا۔ دونوں میں’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کےصفحات، شان و شوکت سے موجود تھے۔ ’’مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور تارکینِ وطن‘‘ اچھا موضوع تھا۔ تارکینِ وطن بے چارے مفت میں مارے جا رہے ہیں۔ بلوچستان سے اقبالیات پر پہلے پی ایچ ڈی، ڈاکٹر عبدالرئوف رفیقی کا انٹرویو زبردست تھا۔ 

’’احسنِ تقویم‘‘ میں نجیب الطرفین ادیبہ، نجیبہ عارف اور نُور و شعور سے بھرپور انور شعور کے خاکوں کا تو کوئی مول ہی نہ تھا۔ رحمان فارس کی نظم ’’رو پڑے ہیں‘‘ پڑھ کر تو واقعی رونا آگیا۔ ’’بذریعہ اے۔ آئی جنگوں میں اہداف کا تعیّن‘‘ غلط ڈیتا کی وجہ سے جنگوں میں بےگناہ موت کے گھاٹ اُتررہے ہیں، پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

ہنگری میں انتخابی انقلاب میں عوام نے اپنا فیصلہ سُنا دیا۔ ایک اور مُلک میں بھی عوام نے فیصلہ سُنایا تھا، مگر مانا ہی نہیں گیا۔ ’’سفرِ حج اور ذیابطیس کے شکار افراد‘‘ مضمون میں ڈاکٹرصاحب نے بہت ہی معلوماتی باتیں بتائیں، میرے خطوط کوپسند فرمانے پر نازلی فیصل، ضیاء الحق قائم خانی اور محمّد سلیم راجا کا بہت بہت شکریہ۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)

ج: تو کیا یہ پہلی بارمانا نہیں گیا…؟؟ اگر پہلی بار ہی عوام ڈٹ گئے ہوتے، توآج حالات کا دھارا کسی اور سمت ہوتا۔

احاطۂ کاغذ و قلم سے بالا

اللہ تبارک تعالیٰ پاکستان کو سدا خوش حال، سلامت تاقیامت رکھے۔ ہمیں اِس سےخوشیاں، راحتیں نصیب، ٹھنڈی ہوائیں آتی رہیں کہ یہ مُلک ہے، تو ہم سب ہیں۔ اپنے رسالے ’’سنڈے میگزین‘‘ کی کیا بات کریں کہ اِس کی تعریف احاطۂ کاغذ و قلم سے بالا ہے۔ سچ کہوں تو میرے پاس اتنے اچھے الفاظ ہی نہیں، جو اس کی درست تعریف و توصیف کا حق ادا کرسکیں۔ (شری مرلی چند جی گوپی چند گھوگھلیہ، شکارپور)

ج: آپ کی مُلک و قوم اور سنڈے میگزین سے محبّت و عقیدت قابلِ صد ستائش ہے۔

دُکھ کے ساتھ ایک خوشی بھی…

تازہ شمارہ ؎ پھول کہتے ہیں تمہیں سب لوگ تو مہکا کرو… عبارت کےساتھ ملا۔ ٹائٹل تا وسطی صفحات جلوہ افروزماڈل تو سچ مچ ہی مہک رہی تھی، وہ بھی سُچّے گلاب کی مانند، بال توبہت ہی خُوب… خیر چھوڑیں، زیادہ کچھ نہیں کہتے، پھر رولا رپا ہی بن جاتا ہے۔ تحریر شائستہ اظہر نے لکھی اور باکمال۔ جتنی تعریف کی جائے، کم ہے، سونے پہ سہاگا، انجم سلیمی کا کلام شامل کرکے تو چہارسُوپھول ہی پھول کِھلا دیئے۔ 

’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی ہمارے بغیر ہی خُوب چمک دمک رہا تھا۔ ایک انتہائی افسوس کی بات یہ کہ مقررہ تاریخ سے پہلے رجسٹرڈ ڈاک سے ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ روانہ کیا، لیکن شاملِ اشاعت نہ ہوا۔ خیر، اس دُکھ کے ساتھ ایک خوشی بھی ملی کہ پروفیسر منصور علی خان کے پیغام کے توسط سے ایڈیٹر ’’سنڈے میگزین‘‘ کی تصویر دیکھنے کو مل گئی۔

قرات نقوی کی پیاری یادوں، باتوں پر مشتمل ای میل بھی شاملِ اشاعت تھی۔ دیگر مندرجات میں رابعہ فاطمہ کی تحریر ’’فرد کی اندرونی تنہائی اور سماجی بگاڑ‘‘ کا جواب نہ تھا۔ اریبہ سہیل نے بھی بڑے پیارے انداز سے وقت کی قدرو قیمت سے آگاہ کیا۔

ہمارے خیال میں اس بار تحریر ’’مسبب الاسباب‘‘ نمبر ون رہی،جب کہ منور مرزا بھی ’’مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل عدم استحکام کیوں؟‘‘ کے تحت بڑی عرق ریزی سےتفصیلاً سمجھا رہے تھے۔ (محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف خادم، راہوالی، گوجرانوالہ)

ج: اللہ نہ کرے کہ کبھی آپ کو حقیقتاً یہ خوشی دیکھنی نصیب ہو۔ آپ ہمیشہ اِسی طرح اے۔ آئی جنریٹڈ خواتین ایڈیٹرز دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہیں۔

آنکھوں کی تکلیف کے سبب

آپ نےجریدے میں رحمان فارس کا قارئین سےتعارف کروا کے آراء طلب کیں۔ رحمان فارس میں ماشاء اللہ کئی شخصیات پنہاں ہیں، وہ سینئر بیورو کریٹ، ہر دل عزیز شاعر اور کالم نگار بھی ہیں، مَیں نے اُن کےخاکوں کا بغور مطالعہ کیا ہے، اُن میں واقعی قوتِ گویائی اور قوتِ تحریر ہے، مگر بات یہ ہےکہ ان شخصیات کو تولوگ عموماً میڈیا پر دیکھتے، سنتے ہی ہیں۔

بات تو تب ہے، جب وہ تاریخ کی نام وَرہستیوں مولانا رومی، شیخ سعدی، حافظ شیرازی، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، عطاءاللہ شاہ بخاری، علامہ انورشاہ کشمیری، محمّد علی جناح اور ڈاکٹر اقبال وغیرہ پر کچھ لکھیں۔ مثالی بیوروکریٹس کے خاکے تحریر کریں۔ منور مرزا کا تو ہرمضمون ہی قابلِ تعریف ہوتا ہے، ماشاءاللہ عالمی واقعات و حالات تو جیسے اُن کی انگلیوں پر ہیں، کم ہی لوگ ہوں گے، جو اُن کی طرح معلومات کا بحرِبے کراں ہوں گے۔

منیر خلیلی کے بھی تمام تر مضامین انتہائی ذوق و شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ وہ بھی تاریخ پرخاصا عبور رکھتے ہیں۔’’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے‘‘ ایک لاجواب نگارش تھی۔ شہد کی مکھی پر حیرت انگیز معلومات پر مبنی تحریربہت پسند آئی۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ کا صفحہ طویل تعطّل کے بعد شایع ہوا۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

گوشۂ برقی خطوط میں ایک قاری نے بھی صفحہ جاری ہونے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کا انٹرویو زبردست تھا۔’’گداگر مافیا اور ہمارے سماجی رویے‘‘ مضمون بھی عُمدگی سے لکھا گیا۔ مَیں نے اپنی آنکھوں کی تکلیف کے سبب روز، روز لکھنے کی بجائے ایک ہی دن متعدّد جرائد کا چیدہ چیدہ حال لکھ ڈالا ہے۔ اب اِسے قابلِ اشاعت بنانا آپ کا کام ہے۔ ( شوکت محمود، گلشنِ راوی، ملتان روڈ، لاہور)

ج: گرچہ آپ کی غیرضروری طور پر طویل تر اور انتہائی گنجلک تحریر کو قابلِ اشاعت بنانا، مطلب اپنی آنکھیں پھوڑنا ایک کارِمحال ہی تھا، لیکن بالآخر ہم نے یہ معرکہ سر کر ہی لیا ہے۔ اور…اب ہمیں ایک عدد آئی اسپیشلسٹ کی ضرورت ہے۔

مزید خاکوں کا شدت سے انتظار

ملک کے نام وَر لوگوں کی داستانِ حیات، علمی و ادبی خدمات کی معلومات اور رحمان فارس کا اندازِ تحریر… واللہ! کا بات ہے، سبحان اللہ۔ سلیمہ ہاشمی اورمنیزہ کے واقعات پڑھ کے اَن گنت پرانی یادیں تازہ ہوگئیں۔

اِس سے پہلے انورمسعود، افتخار عارف، تارڑ صاحب، عطاءالحق قاسمی، انور مقصود، نورالحسن، اعتزاز احسن بلکہ تقریباً تمام ہی شخصیات کے خاکے زبردست انداز سے لکھے گئے۔ بس، اب دیکھنا یہ ہےکہ شوبز اوراسپورٹس کی شخصیات کی باری کب آتی ہے۔ ہر اتوار شدت سے انتظار رہتا ہے۔ (سعید احمد خانزادہ، سکرنڈ)

ج: خاکے تو مسلسل ہر شعبۂ زندگی کی متنوّع شخصیات ہی پر لکھے جارہے ہیں۔ شوبز کی بھی کئی شخصیات کور ہوچُکیں۔ دراصل رحمان فارس کی اولین ترجیح یہ ہے کہ وہ اُن ہی شخصیات کو زیرِقلم لائیں، جن سےاُن کی ذاتی طور پر یاد اللہ ہے۔

کُھل کر بولنے، لکھنے کی مکمل آزادی

سنڈے میگزین کا تازہ شمارہ دیکھا، بھئی واہ! کیا ہی بات ہے۔ میگزین دن بہ دن نکھرتا ہی جارہا ہے، خال ہی کہیں کوئی غلطی، خامی دکھائی دیتی ہے۔ گویا آپ لوگوں کی محنت رنگ لے آئی ہے۔ ماشاءاللہ، جریدے کا ہر ہر صفحہ اپنی مثال آپ ہوتا ہے، خصوصاً ’’آپ کا صفحہ‘‘ میرا پسندیدہ ترین صفحہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ اِس میں میرے خطوط شائع ہوتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ سب کا صفحہ ہے۔

اس میں ہر قاری کو کُھل کر بولنے، لکھنے کی مکمل آزادی ہے۔ مَیں گزشتہ کئی برس سے اِس جریدے سے جڑا ہوا ہوں اور اس ضمن میں، مَیں آپ لوگوں کا تہہ دل سے شُکر گزار ہوں۔ (اسلم قریشی، آٹو بھان روڈ، ٹھنڈی سڑک، حیدرآباد، سندھ)

ج: شُکر گزار تو ہمیں آپ کا ہونا چاہیے کہ آپ طویل عرصے سے جریدے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اور اِس حُسنِ ظن کا بھی بےحد شکریہ کہ آپ کو ہماری طرف سے دی گئی لکھنے، بولنے کی آزادی، ’’مکمل آزادی‘‘ معلوم ہوتی ہے، حالاں کہ ایسابالکل نہیں ہے، وگرنہ آپ کا خط 50 سے70 فی صد ایڈٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی۔

          فی امان اللہ

اس ہفتے کی چٹھی

شمارہ موصول ہوا، سفید رنگ ہمیں بھی بہت پسند ہے کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مرغوب رنگ ہے اور اُن ہی کی پیروی میں تقریباً 40 سال سے ہم نے سفید رنگ کے سِوا کسی رنگ کا لباس نہیں پہنا۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی ’’تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں، سوشل میڈیا کا کردار‘‘ کی چھٹی قسط لائے۔ یہ ہمارے حُکم راں آخرصرف بیانات ہی تک کیوں محدود رہتے ہیں۔ ایسے قوانین کیوں نہیں بناتے کہ جن کے تحت مُلک و قوم کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاسکیں۔ منور مرزا ایک بار پھر انسان کے چاند پر اُترنے کی نوید سُنا رہےتھے۔

علامہ اقبالؒ نے تو ہمارے نوجوانوں کو ستاروں پر کمند ڈالنے کی ترغیب دی تھی، مگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہیں۔ حال یہ ہے کہ ؎ اِک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صُورت کو بگاڑ…اِک وہ ہیں، جنہیں تصویر بنا آتی ہے۔ امین اللہ فطرت، زیارت میں صنوبر کے درختوں کی کٹائی کا نوحہ پڑھ رہے تھے۔ زیارت کی تو یوں بھی خصوصی اہمیت ہے کہ قائدِاعظمؒ نے زندگی کے آخری ایام وہاں گزارے، مگر ہم نے تو قائدؒ کا مُلک ہی دو ٹکڑے کردیا، زیارت پر کیا خاک توجّہ دیں گے۔

رابعہ فاطمہ کتاب کی اہمیت بتارہی تھیں، اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کتنی ہی ترقی کرلے، چاند، کیا مریخ پر پہنچ جائے، کتاب کی اہمیت برقرار رہے گی، آخری الہامی کتاب ’’قرآنِ مجید‘‘ تو لوحِ محفوظ پر لکھی ہوئی ہے، جس کا مطالعہ فرشتے ہمہ وقت کرتے رہتے ہیں۔ محمّد ریاض ایڈووکیٹ نے’’عالمی یومِ صحافت‘‘ پر، صحافت کو درپیش مسائل پہ خصوصی توجّہ دلائی۔ خصوصاً پاکستان میں تو صحافت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے بلکہ حالتِ نزع میں ہے۔ کتنے ہی اخبارات وجرائد بند ہوچُکے۔

روزنامہ جنگ کی ہمّت ہے،جو ہنوز ڈٹا ہوا ہے۔ نادیہ احمد استحصال زدہ مزدوروں کا ذکر کر رہی تھیں، ویسے شکاگو کے مزدوروں سے زیادہ آج کا مزدور ظلم کا شکار ہے، یکم مئی 100 سال سے منایا جارہا ہے، مگر محنت کشوں کی حالت نہیں بدلی۔ اقبالؒ بھی ان کی حالت پرتڑپتے تھے؎ اُٹھو مِری دنیا کے غریبوں کو جگا دو…کاخِ امراء کے درودیوار ہلادو…جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی… اُس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلادو۔

صحافی بھی قلم کے مزدور ہیں اوراُن کی بپتا بھی انتہائی دُکھ بھری ہے۔ رحمان فارس راحتِ جاں، راحت فتح علی خان کی نجی وعوامی زندگی سے رُوشناس کروا رہے تھے۔ شائستہ اظہر کے رائٹ اَپ کا جواب نہ تھا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال’’معاشیاتِ صحت‘‘ کی اصطلاح کے ساتھ ادویہ مارکیٹ کی جانچ پڑتال کرتے نظر آئے۔

جب ادویہ ساز کمپنیاں معالجین کو یورپ، امریکا کےدورے کروائیں گی تو پھر یہ اخراجات ڈاکٹرز کے توسّط سے بمع سُود عوام کی جیبوں سے بھی نکلوائیں گی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں دانیال حسن، مہمان نوازی کی اعلیٰ روایت کا ذکر لائے۔ دورِ حاضرمیں تو اِس کی سخت ضرورت ہے کہ باہمی میل جول، محبت کے رشتے دن بہ دن کم زورسےکم زورترہورہے ہیں۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ پُرخلوص رشتوں کی مالا سے گندھا تھا۔ طارق بلوچ صحرائی کافی عرصے بعد نظرآئے۔

اختر سعیدی نے ہمیشہ کی طرح ماہرانہ تبصرہ کیا اور ہمارے صفحے پر سلیم راجا کی مفسرانہ اندارز میں لکھی چٹھی ٹاپ پر رہی۔ شائستہ کی تحریر واقعی شائستہ ہوتی ہے۔ آپ کا دستِ شفقت اُس کے سر پر رہا، تو ایک روزادبی میدان میں بڑے کارنامے انجام دے گی اور کسی روزاخترسعیدی اُس کے افسانے کے مجموعے پر تبصرہ کر رہے ہوں گے۔ (شہزادہ بشیرمحمّد نقش بندی، میرپورخاص)

ج: ان شاء اللہ تعالیٰ۔

گوشہ برقی خطوط

* حافظ بلال بشیر نے پہاڑوں سے متعلق ایک عُمدہ مضمون تحریر کیا۔ تاہم، حافظ صاحب پہاڑوں سے جُڑی ایک بڑی غلط فہمی کا ذکر بھول گئے۔ یہ سائنسی طور پر درست ہے کہ پہاڑ زمین کے موسموں پر اثر انداز ہوتے ہیں، مگر یہ کہنا کہ پہاڑ زمینی زلزلوں کو روکتے ہیں، سراسر غلط ہے کہ جدید جیوآلوجی سے یہ بات ثابت نہیں۔ منور مرزا اسلحہ انڈسٹری پر ایک اچھا مضمون لائے۔

ویسے یہ ایک حیرت انگیز اورافسوس ناک بات ہے کہ یورپ اورلاطینی امریکا کی نسبت ایشیا اور افریقا جیسے غریب ممالک میں خانہ جنگی اور جنگ کا بخار زیادہ ہے۔ یقیناً بنیادی وجہ غریب ممالک کے مفاد پرست حُکم ران ہیں، جو اپنی حکومتیں مضبوط کرنے کی خاطر کبھی اپنے ہی عوام پر اسلحہ استعمال کرتے ہیں تو کبھی طاقت وَرممالک کے آلۂ کار بن کربڑی طاقتوں کی جنگیں اپنےممالک میں لے آتے ہیں۔ یہی دیکھیے، افغانستان، صومالیہ، سوڈان، یمن، لبنان وغیرہ جیسے ممالک کے پاس ڈھنگ کےاسپتال بنانے کا پیسا نہیں، مگر دنیا بھر کا جدید اسلحہ وہاں دست یاب ہے۔ (محمد کاشف، کراچی)

* چالیس برس کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ روزنامہ جنگ جب لاہورشہر سے شائع ہونا شروع ہوا، مَیں تب سے اس مؤقرو معتبر اخبار کامستقل قاری ہوں۔ جنگ سے تعلق، وابستگی ہواورسنڈے میگزین کا تذکرہ نہ ہو، ممکن ہی نہیں، اس لیے کہ دونوں لازم وملزوم ہیں۔ ویسے یہ جریدہ آپ اور آپ کی ٹیم کی خداداد صلاحیتوں کا مظہر، حُسنِ انتخاب کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کی ہراشاعت ہی خصوصی اشاعت کا درجہ رکھتی ہے۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سلسلے کا تو کوئی ثانی ہی نہیں۔

شہ سوارِ قلم ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی کےمضامین، موتیوں کی لڑی بن کر سامنے آتے ہیں۔ ’’حالات و واقعات‘‘ کے زیرِعنوان منور مرزا کے شان دار و جان دار تجزیات کا بھی کیا ہی کہنا۔ پروفیسر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے اینٹی بائیوٹکس کے صحیح استعمال کے ضمن میں بہترین تحریر رقم کی اور ’’متفرق‘‘ کے ذیل میں متنوّع موضوعات پر لکھے گئے مضامین گویا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہوتے ہیں۔

ویسے ہماری نگاہ میں تو اِک رشتہ، اِک کہانی، نئی کتابیں، آپ کا صفحہ، سب ہی سلسلےخاصّے کی چیزیں ہیں۔ نیز، آئندہ کے لیے بھی نیک تمنائیں، خوش گوار امیدیں آپ کی پوری ٹیم سے وابستہ و پیوستہ ہیں۔ (نعیم اختر عدنان، پیپلز کالونی فیروزوالہ اسکیم، شاہدرہ، لاہور)

ج: تعریف و توصیف، حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔

قارئینِ کرام کے نام !

ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔

نرجس ملک

ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘

روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی

sundaymagazine@janggroup.com.pk