السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک سے بڑھ کر ایک
’’ حالات وواقعات‘‘ میں منور مرزا اپنی خُوب صُورت، جامع تحریر کے ساتھ موجود تھے۔ اُن کا تجزیہ ہمیشہ کی طرح بہت اچھا لگا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے سلیمہ ہاشمی پر کیا شاہ کار مضمون قلم بند کیا۔ بلاشبہ ہرایک خاکہ اپنی مثال آپ اور ایک سےبڑھ کرایک ہی آرہا ہے۔
آپ کا ’’مدرزڈے ایڈیشن‘‘ ہمیشہ ہی لاجواب ہوتا ہے۔ اِس بار بھی اول تا آخر کمال تھا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں اس مرتبہ آسٹریلیا سے عالیہ توصیف نے ایک بہترین نگارش ہماری نذرکی اور’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ سلسلے کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہوتا۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
جریدے کا اسیر
’’سنڈے میگزین‘‘ بڑے شوق سے ہر اتوار کو دل لگا کر پڑھتا ہوں۔ آج کل رحمان فارس جو خاکے لکھ رہے ہیں، اُنہوں نے تو جریدے کا اسیر کر دیا ہے، خاص طور پر دو خاکے تو بہت ہی اچھے لگے۔ ایک ڈاکٹرامجد ثاقب اوردوسرا اعتزاز احسن کا۔ انورشعور پربھی بہت ہی اُجلی تحریر قلم بند کی گئی۔
اس کے علاوہ کتابوں پر تبصرہ بہت اچھا ہوتا ہے اور حافظ ثانی کے مضامین سے بھی بہت کچھ سیکھنے سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ کچھ ’’اقوالِ زریں‘‘ بھیج رہا ہوں۔ شایع کر کے، شکریے کا موقع دیجیے گا۔ (محمّد ہاشم خان نیازی، فضہ عارف نیازی، دھمیال روڈ، راول پنڈی کینٹ)
ج: خط شایع کیے دے رہے ہیں اور اقوالِ زرّیں بھی ضرور شاملِ اشاعت ہو جائیں گے۔
جادونگری سا لگتا ہے
نفسانفسی، افرتفری کے اِس دَور، گُھپ اندھیرے میں اپنا ’’سنڈے میگزین‘‘ اِک ’’جادونگری‘‘ سا لگتا ہے۔ کبھی جواس کے آنے میں دیر سویر ہو جائے، تو آنکھوں میں پانی سا اُمنڈنے لگتا ہے۔ ماہِ صیام کا شمارہ ’’ایماں کی حرارت سے، رُوحوں کی طہارت تک…‘‘ باحجاب مہمان خاتون کے نورانی و رُوحانی تاثرات کے ساتھ ملا۔ درحقیقت، عورت کی یہی شان ووقار ہے۔
ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی، ’’لیلۃ القدر‘‘ کی شان بیان کررہے تھے، تو رابعہ فاطمہ ’’قرار دادِ پاکستان،تحریکِ آزادی کا اہم سنگِ میل‘‘ کے عنوان سے مفصّل مضمون لائیں۔ مستنصر حسین تارڑ کی ’’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ کی آخری قسط لاجواب تھی۔ شائستہ اظہر کا رائٹ اَپ بھی بےمثال تھا۔ نظیر فاطمہ کا افسانہ سبق آموز لگا۔
ساجد علی شمس نے بھی موبائل صارفین کو فراڈیوں سے محتاط رہنے کے مدبّرانہ طریقے سمجھائے۔ مجموعی طور پر پورا جریدہ ہی بہترین تھا، جب کہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ستاروں کی محفل بھی خُوب جگمگا رہی تھی۔ طویل غیرحاضری کے بعد نواب زادہ تشریف لائے۔ شمائلہ نیاز بھی ایک وقفےکےبعد رونقِ محفل تھیں۔ قرأت نقوی بھی پیاری پیاری یادوں، باتوں کےساتھ شاملِ محفل ہوئیں۔
’’عیدالفطر ایڈیشن‘‘ عیدِ سعید کے سارے رنگ سمیٹے آیا اور دل ودماغ پر چھا گیا۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ کی تحریر مدیرہ نے خُود لکھی اور ہمیشہ کی طرح بہت خُوب۔ دیگر نگارشات میں ثمینہ نعمان کی ’’اپنوں کی دید‘‘، رابعہ فاطمہ، ثانیہ انور، افشاں نوید کی نگارشات اور’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے لیے بھیجے جانے والے تمام پیغامات بہت بہت پسند آئے۔ ( محمّد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
معیاری اشیاء ہضم نہیں ہوتیں
سنڈے میگزین میں ارب پتی بننے کے آسان طریقے شائع کریں تاکہ ہم بھی مختصر وقت میں ارب پتی بن سکیں۔ ایک بات اور، یہ سنڈے میگزین کا معیار دن بہ دن بلند کیوں ہوتا جارہا ہے۔ براہِ مہربانی اس کے معیارمیں کچھ کمی لائیں کہ پاکستانی قوم ملاوٹ شدہ چیزوں کی اتنی عادی ہے کہ خالص اوراعلیٰ معیار کی اشیاء تو اسے بدہضمی کر دیتی ہیں۔ بےشک، ہمارے لیے ایک اوسط درجے کا جریدہ ہی زیادہ بہتر ہے۔ (نواب زادہ بے کار ملک، سعید آباد، کراچی)
ج: آپ مطالعے کے بعد ہاضمے کا چورن کھا لیا کریں۔ آپ کے لیول پر آکر تو بس یہی مشورہ دیا جاسکتا ہے۔
قلم ہی توڑ دیا
اس مرتبہ سرِورق اور بیچ کے صفحات بہت پسند آئے۔ ’’عبادتوں کا زمانہ ہے، دُعا کا موسم ہے…‘‘ سب لوگ بالکل گھر کے افراد جیسے ہی لگے۔ سب ایک خاندان کی طرح ہاتھ اُٹھائے دُعا مانگ رہے تھے۔ رائٹ اَپ میں آپ کی خاصی کمی محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے ’’واقعۂ فتحِ مکّہ‘‘ کے واقعات عُمدگی سے بیان کیے۔ منور مرزا نے افغانستان کو دہشت گردی کا گڑھ قرار دیا۔
ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خواتین کی آزادی کے موضوع ہر ایک شان دار مضمون لکھا۔ حافظ بلال بشیر بھی ’’عالمی یومِ خواتین‘‘ کی مناسبت سے اچھا مضمون لائے، جب کہ کلثوم پارس کا افسانہ ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ تھا۔ اگلے شمارے کے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹر حافظ ثانی نے لیلۃ القدر کی بھرپور فضلیت بیان کی۔
رابعہ فاطمہ نے قراردادِ پاکستان پر معلوماتی مضمون رقم کیا۔ محمّد ریحان نے کالا باغ کی خُوب سیر کروائی۔ ڈاکٹر ریاض علیمی اور بلقیس متین کے مضامین اچھے تھے۔ اور ’’نئی کہانی، نیا فسانہ‘‘ میں مستنصر حسین تارڑ نے ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ لکھ کرتو قلم ہی توڑ دیا، بہت خُوب عرفان جاوید کہ انتخاب کی داد تو بنتی ہے۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ٹرانس پورٹرز کی بدمعاشی، غنڈہ گردی
ابھی ’’عیدالفطر ایڈیشن‘‘ کےمطالعےسےفارغ نہیں ہوا تھا کہ اگلا جریدہ وصول پایا۔ حسبِ معمول’’آپ کا صفحہ‘‘ سے آغازِ مطالعہ کیا۔ ’’احسنِ تقویم‘‘ کے لیے رحمان فارس کا تحریر کردہ خُوب صُورت خاکہ سامنے تھا، ڈاکٹر امجد ثاقب سے متعلق پڑھ کراندازہ ہوا کہ’’اللہ کا ولی‘‘کسے کہتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کے فرمانِ عالی شاہ کے مطابق ’’خیرالناس من ینفع الناس‘‘ کی عملی تفیسر توڈاکٹرامجد ثاقب ہیں۔
دلی دُعاہے، اللہ تعالیٰ عُمرِ خضر عطا فرمائے، تاکہ مخلوقِ خدا علم و ہُنر اور سخاوت سے تادیر مستفید ہوتی رہے۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ میں ڈاکٹراحمد حسن رانجھا کی ناگہانی وفات کا پڑھ کر دلی صدمہ ہوا۔ بھیگی آنکھوں سے آخری تحریر بعنوان گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول، بھانبڑہ پڑھی، دیر تک طبیعت اداس رہی۔ اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے۔ کرپٹوکرنسی کی شروعات کرنے والے مُلک چین ہی نے اُس کے نقصانات کے پیشِ نظر پابندی عائد کر دی۔ عبدالستار ترین نے ریلوے لائن کی بندش اور اہم ریلوے اسٹیشنز کی معطلی کے سنگین اثرات کا ذکر کیا۔
یہ صورتِ حال تومُلک بھرمیں ہے، کئی گاڑیاں، برانچ لائنز بند کردی گئی ہیں، حالاں کہ ریلوے کو بچّوں، خواتین، بوڑھوں اورغریب عوام کے لیے آرام دہ، سستی محفوظ اورکسی حدتک تفریحی سواری خیال کیاجاتا ہے۔ ریلوے میکنیکل، الیکٹریکل اور سول انجینئرز، نیز ٹیکنیکل عملے سے بھرپور محکمہ ہے۔ سول سروسز کے اعلیٰ افسران بھی وابستہ ہیں، مزدور یونینز بھی ہیں، مگر سب مل کربھی اِسے ایک خدمت گزار اور منافع بخش ادارہ نہیں بناپارہے، المیہ ہی ہے، جب کہ پرائیویٹ روڈ ٹرانس پورٹ میں جس قدر بدمعاشی، غنڈہ گردی اور بداخلاقی ہے، لگتا ہے، حکومت نےاُنھیں لوٹ مار اورعوام کو ذلیل و خوار کرنے کی کُھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
تعلیم کے سلسلے میں متعدد مرتبہ شیخوپورہ سے لاہور آنا جانا لگا رہتا ہے، یقین کیجے بسز، بالخصوص مزدا ہائی ایس کے ڈرائیور، کنڈکٹرز مسافروں کی سخت تذلیل کرتےہیں۔ منہ مانگا کرایہ وصول کر کے جیسے اندرٹھونستے ہیں، الامان والحفیظ۔ ستم یہ کہ ٹریفک پولیس اہل کار اور افسران بھی یہ سارا غیر قانونی عمل اور عوام دشمنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے دُور کھڑے مسکراتے رہتے ہیں اور جب تک وہ ظالمانہ طریقے سے اپنی ویگنز اوورلوڈڈ نہیں کرلیتے، اُن کےساتھ گپ شپ بھی لگاتے ہیں، گویا یہی اُن کی ڈیوٹی ہے۔
بندۂ ناچیز نے بعض غیرضروری باتیں بھی تحریر کردیں، تو خط طویل ہوگیا، معذرت خواہ ہوں۔ بات یہ ہے کہ عام آدمی آخر اپنا رونا کس کے آگے روئے۔ یہ جنگ، سنڈے میگزین اور ’آپ کاصفحہ‘‘ ہی کا حوصلہ ہے، جو عمومی تحریروں کو بھی عزت بخشتا ہے۔ آپ کی حوصلہ افزائی نے یہ سب لکھنے کی ہمت دی۔ اللہ کریم صحت وتن درستی، عافیت، خوش حالی، امن و سلامتی اور سکونِ قلب کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے۔ (حافظ عُمر عبدالرحمٰن ڈار، ہرن مینار روڈ، شیخو پورہ)
ج: کچھ باتیں یقیناً ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے فارمیٹ سے ہٹ کر ہیں، لیکن محض اس لیے شایع کیے دے رہے ہیں کہ نہ جانے آپ جیسا مہذّب، شائستہ انسان کس قدر ہرٹ ہوگا کہ یہ سب لکھنے پر مجبور ہوگیا۔
پلیٹ فارم نمبر1 پر
میگزین موصول ہوا، سرِورق پر اِک ’’نگاہِ درست‘‘ ڈالتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی ’’تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں سوشل میڈیا کے مثبت، تعمیری استعمال اور اس کے تقاضے‘‘ کے عنوان سےلکھے گئے مضمون کی چوتھی قسط لائے۔ بلاشبہ، اسلامی نظریۂ ابلاغ میں نیکی کا فروغ ہی وہ بنیادی اینٹ ہے، جس پر پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ منیر احمد خلیلی ایران میں بادشاہت اور انقلاب کی تفصیل بتا رہے تھے۔ ایرانی قوم عقل مند تو ہے، مگر کچھ زیادہ غوروغوض نہیں کرتی کہ کیا کھویا، کیا پایا۔
رؤف ظفر نے انکشاف کیا کہ مصنوعی ذہانت کا غلط ڈیٹا بےگناہ انسانوں کے قتلِ عام کا سبب بن رہا ہے۔ ڈاکٹر شکیل احمد اور ربیعہ ترمذی کے مضامین معلوماتی تھے۔ رحمان فارس نے انور شعور سے ملاقات کروائی۔ روزنامہ جنگ کے قارئین تو روزانہ ہی ان کے شعور و ہنر سے مستفید ہوتے ہیں۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں شائستہ اظہر کا رائٹ اَپ خاصا تیکنیکی سا تھا۔
سعد علی چھیپا نے درست کہا کہ خواتین کی آدھی عُمر تو ’’آج کیا پکائیں؟‘‘ ہی میں گزر جاتی ہے۔ بےچاریاں روزانہ یہی ذہنی ورزش کرتے بوڑھی ہو جاتی ہیں، مگر حضرات کو گھرکی مرغی دال برابر ہی لگتی ہے۔ ایم شمیم نوید نے ریٹائرڈ افراد کو حقیقت پسندانہ مشورہ دیے، اکثر یہی دیکھا گیا ہےکہ یہ افراد خُود کو ناکارہ سمجھ کر تنہائی کے کرب سے گزرتے ہیں اور پھر جلد زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں۔ ہمیں ریٹائر ہوئے تقریباً 25 سال ہوگئے۔ (بوجوہ قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی تھی) مگر مذہبی، سیاسی، سماجی کاموں میں مصروف رہ کر اللہ کے فضل سے زندگی کا صحیح لُطف اٹھا رہے ہیں۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کی دونوں کہانیاں متاثرکن تھیں۔
ہمارے صفحے پر حسبِ معمول محمد سلیم راجا ایکسپریس ہی پلیٹ فارم نمبر 1 پر کھڑی تھی۔ بھائی ضیاء الحق! ہمارے نصیب میں تو آخری نمبر ہی ہے، صوابدید کی آمریت کا شکوہ بےکار ہے۔ پھر عسکری آمروں کو بھی کیوں کوسنا، ان کی بھی صوابدید پر ہے، بیرکس میں رہیں یا حکومت میں۔ (شہزاد بشیر محمّد نقش بندی، میرپورخاص)
ج: پچھلے کچھ ہفتوں سے تو اوپر تلے آپ ہی کی نام کا قرعہ نکل رہا ہے، محمّد سلیم راجا تو شاید پھر ’’ہائبرنیشن‘‘ میں چلے گئے ہیں۔ اس پر بھی ’’صوابدید کی آمریت‘‘ کا طعنہ دیا جائے تو جواباً خواجہ آصف ہی کے الفاظ دہرائے جا سکتے ہیں ۔
فی امان اللہ
سرِورق کی ماڈل کچھ زیادہ ہی سنجیدہ، پُرفکر انداز لیے ہوئے تھی، جب کہ یہ سوچنے سمجھنے کا کام ماڈلز پر کچھ زیادہ سُوٹ نہیں کرتا۔ سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر ڈاکٹر حافظ محمد ثانی کی نگارش کی دوسری قسط بھی مفید رہی۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس فکری وتہذیبی یلغار سے تدبر وحکمت کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔
منور مرزا مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور تارکینِ وطن کے مسائل زیرِبحث لائے۔ ادویہ سازی میں اے- آئی کے کردارپر جویریہ کرن کی تحقیق دل چسپ اورلائقِ تحسین ٹھہری۔ اقبالیات پر بلوچستان کے پہلے پی ایچ ڈی، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی سے گفتگو دل چسپی کی حامل تھی۔ ایم ایس سی باٹنی کرنے کے بعد اقبالیات کی طرف ایسے راغب ہوئے کہ 50 سے زائد کتب لکھ ڈالیں، واہ جی واہ۔ طب کے موضوعات پر ڈاکٹر سکندر اقبال اور ڈاکٹر ایم عارف سکندری نے بھی خُوب لکھا۔ رحمان فارس کاخاکہ ’’نجیب الطرفین ادیبہ‘‘ پڑھا۔
ابتدایے میں نجیبہ کے سینئر ادیبوں کے قدموں میں بیٹھنے کے ذکر نے بہت متاثر کیا۔ واقعتاً بڑے لوگ اپنے ظرف ہی سے بڑے ہوتے ہیں اوررحمان فارس کا یہ جملہ ہی ایسی شخصیات کا مختصر خاکہ ہے کہ ’’جاننے والا اگر اپنے علم کا رعب جمانے کے بجائے محض ایک خاموش گہری مسکراہٹ پر اکتفا کرے تو جان لو کہ وہ عالی ظرف ہے۔‘‘ ’’پیارا گھر‘‘ کی دونوں تحریریں اہم تھیں۔ ساجد علی شمس نے موبائل فون اور اس سےمنسوب مصنوعی زندگی، مصنوعی خوشیوں کو دل چسپ انداز میں بیان کیا۔ خدیجہ طیب بھی علم کی معراج، تدبر، بندگی اور معرفتِ الہٰی کی روشنی سے ِدلوں کو منور کر رہی تھیں۔
ڈاکٹر معین نواز لاطینی امریکا کی ایک منفرد رسم، جب کہ دانیال حسن شہد کی مکھی کی زندگی پر معلوماتی تحریر لائے۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ پر سجاد جہانیہ کی ’’نیا گھر‘‘پڑھی۔ آخری جملوں نے تو آنکھیں بھگودیں۔ یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے کہ ہم اپنے تئیں جس نئے نکور، جدید طرز گھر میں شفٹ ہوتے ہیں، آنے والی نسلوں کے لیے وہی باعثِ شرمندگی ہوجاتا ہے۔
سچ ہے کہ ہم زندہ انسان جدّت کی تلاش میں اتنی دُور چلے جاتے ہیں کہ اپنے اصل، اپنی جَڑوں ہی کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ سجاد جہانیہ کا طرزِ تحریر بہت منفرد ہے۔ اُنھیں جنگ میگزین کے لیے مستقلاً لکھنا چاہیے۔ اور آپ نے اپنے جواب میں مجھے خوش خط کہا، بہت شکریہ، مگر مجھے آپ کی طویل خط لکھنے کی بات سے اختلاف ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال پہلےجب مَیں اس صفحے کا باقاعدہ حصّہ بنا تو ابتدا کے ایک، دو خطوط کے بعد خود کوہمیشہ ایک ہی صفحے تک محدود رکھا اور ایسا ارادتاً کیا کہ آپ کے لیے بھی آسانی رہےاوردوسرے لکھنے والوں کے لیے بھی جگہ بنی رہے۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
ج: آپ کے خطوط پر جو ہمارا اصل اعتراض ہے، اُس کا تو آپ ذکر ہی گول کرگئے۔آپ ہزار تاکید کے باوجود سطر چھوڑ کر لکھنے کا تردّد نہیں فرماتے، نتیجتاً ایڈیٹنگ کا عمل کسی دردِ سر سے کم نہیں ہوتا۔
* ٹیکساس میں برفانی طوفان آیا ہوا تھا، کاروبارِ زندگی معطل تھا، تو ہم گھروں ہی میں بند تھے۔ کل سے گلی سے ایک بھی گاڑی نہیں گزری۔ بس کہیں کہیں گلہریوں، خرگوشوں کے پیروں کے نشانات دکھائی دے رہے ہیں۔ خیر، قسط وار افسانے ’’آسیہ‘‘ کی آخری قسط بھی پڑھ ڈالی۔ اور اب سمجھ آیا کہ اِس کا نام ’’آسیہ‘‘ کیوں تھا۔ ویسے اختتام پڑھ کے بہت ہنسی بھی آئی۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں طرح طرح کے حلووں کی تراکیب پیش کی گئیں۔
بچپن میں میری والدہ بھی گڑ، مونگ پھلی اور تل کا لذیذ حلوا بناتی تھیں۔ ’’اسٹائل‘‘ کے صفحات کام دارپہناووں سے سجے تھے۔ مَیں تو بھول ہی گئی ہوں کہ شادیوں میں جانا کیسا لگتا ہے۔ دو سہیلیوں ڈاکٹر وردہ اور ردا کی داستان پڑھ کے تو دل ہی دہل گیا، آج کے دَور میں کسی پر بھی بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ ’’ادبی شگوفے‘‘ میں آخری انتخاب بہت مزے کا تھا کہ صاحب اپنے ہی گھر کا رستہ بھول گئے۔
’’آپ کا صفحہ‘‘ میں اپنی ای میل پڑھ کے ہنسی آگئی کہ کہاں گرما کی چلچلاتی دھوپ کا ذکر اور ہم یہاں لحافوں میں دبکے چمنی کے پاس پڑے ہیں۔ فروری کے شمارے میں اہم ایام والا مضمون نظر نہیں آیا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ کا معیار واقعتاً بہت بہتر ہو گیا ہے۔ مہوش عروج کے افسانے’’مَیں زندہ ہوں‘‘ کے کیا ہی کہنے۔ ’’بےدیارم‘‘ کی چاروں اقساط ایک ساتھ پڑھیں۔ ایسا لگا، جیسے یہ میرے لیے لکھا گیا ہو۔ مَیں بھی تو ہمیشہ ماضی ہی کی گلیوں میں بھٹکتی رہتی ہوں۔
رحمان فارس کے نئے سلسلے نے تو دل ہی جیت لیا۔ تارڑ صاحب سے کیا شان دار ملاقات کروائی، پڑھ کے دل جُھوم جُھوم گیا۔ ایک تحریر ’’تجربات کا نچوڑ‘‘ بھی پڑھنے کو ملی، مگر لکھاری کا نام نظر نہیں آیا۔ افسانہ ’’انتظار‘‘ بھی عُمدگی سے لکھا گیا۔
ویسے اس کا عنوان ’’انتقام‘‘ ہوتا، تو زیادہ بہتر تھا۔ ’’پیارا گھر‘‘مختلف النوع تراکیب سے سجا تھا۔ رحمان فارس ’’عطاالحق قاسمی‘‘ کے خاکے سے محفل زعفران زار کررہے تھے۔ ہر ہر جملے پہ ہنسی آئی۔ ویسے فارس صاحب خُود بھی بڑے ہینڈسم ہیں، بالکل کسی انگریزی فلم کے ہیرو کی طرح۔ تصویر دیکھ کر تو بس دیکھتی ہی رہ گئی۔ (قرات نقوی، ٹیکساس، امریکا)
ج: تمھاری اوپر تلے کئی ای میلز شایع کی ہیں، مگر تم پھر بھی کافی پیچھے ہی چل رہی ہو، تو اب خود ہی بتاؤ، اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے۔
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk