شاعر: ڈاکٹر محمود غزنوی
صفحات: 296، قیمت: درج نہیں
ناشر: دی کری ایٹر
فون نمبر: 2472267 - 0332
زیرِ نظر کتاب کے مصنّف، ڈاکٹر محمود غزنوی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ اُن کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے۔ اپنے دَور کے مقبول ترین طالبِ علم رہنما رہے۔ جامعہ کراچی میں طلبہ یونین کے دو مرتبہ صدر منتخب ہوئے۔ صحافت میں پی ایچ ڈی کیا، پھر جامعہ کراچی کے شعبۂ صحافت سے بحیثیت استاد منسلک ہوگئے اور بعدازاں صدرِ شعبہ کے عُہدے پر بھی فائز ہوئے۔
اُنھوں نے دورِ طالبِ علمی میں ایک شعلہ بیاں مقرّر کی حیثیت سے مُلک گیر شہرت حاصل کی۔ ڈاکٹر محمود غزنوی خوش فکر شاعر، محقّق، ماہرِ تعلیم اور مذہبی اسکالر کے طور پر بھی اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔
ہمارے پیشِ نظر اُن کا تیسرا شعری مجموعہ ہے۔ اُن کا پہلا مجموعۂ کلام’’خوابوں کی دہلیز‘‘ 1984ء میں اور دوسرا مجموعۂ کلام’’حریمِ خواب‘‘2024ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اُن کا زیرِ نظر مجموعۂ کلام چھے نعتوں اور121 غزلوں پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر محمود غزنوی نے اپنے پیش لفظ میں لکھا ہے کہ’’یہ مجموعۂ کلام جذبوں، یادوں، تمنّاؤں اور شکستہ خوابوں کا آئینہ ہے۔ یہ محبّت بھی ہے اور محرومی بھی، تجسّس بھی ہے اور تسکین بھی۔
دل کے نہاں خانے سے اُتر کر جو کچھ محسوس کیا، لفظوں میں ڈھال دیا۔ یہ اشعار کا مجموعہ نہیں، احساسات کی جمالیاتی روداد اور رُوح کی ایک خاموش مسافت ہے۔‘‘یہ سطور پڑھنے کے بعد اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اِس مجموعے کی شاعری کس طرزِ احساس اور معیار کی ہوگی۔
ڈاکٹر محمود غزنوی نے داخلی واردات اور وجدانی کیفیات کو بے پناہ تخلیقی قوّت کے ساتھ رقم کیا ہے۔ اُن کا منفرد طرزِ احساس، غم سے کشید مسرّت کا حوصلہ رکھتا ہے۔
وہ رجائیت، بلند ہمّتی اور زندہ اقدار کے ترجمان ہیں۔ اپنے جذبات و احساسات کی طرح کھرے اور سچّے شاعر۔ اُن کی غزل ہر اعتبار سے منفرد، معتبر اور تکمیلِ فن کی مظہر ہے۔ اِس مجموعۂ کلام میں ڈاکٹر محمود غزنوی کی جو نعتیں شامل ہیں، اُن کا اسلوب بھی جُداگانہ آہنگ رکھتا ہے۔ بقول ڈاکٹر یونس حسنی’’محمود غزنوی نے اپنے مجموعے میں نعت کو تمہیدِ کلام کے طور پر برتا ہے۔
اُن کے یہاں نعت، محض تبرّک نہیں رہی، بلکہ اُن کا سرمایۂ حیات بن کر، اُن کے کلام میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ اُنھوں نے ایک، دو نعتیں کہہ کر بس نہیں کردیا، بلکہ اپنی تسکین کی حد تک وہ نعت گوئی کو برتتے رہے۔‘‘ ڈاکٹر محمود غزنوی ایک نظریاتی آدمی ہیں، اِس لیے اُنھوں نے اپنی غزلوں میں بھی طہارت و پاکیزگی کا خیال رکھا ہے۔
اُن کی جمالیاتی شاعری میں بھی کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی، جس میں تہذیب و شائستگی مجروح ہو۔ زیرِ نظرکتاب میں جن صاحبانِ علم و دانش نے ڈاکٹر محمود غزنوی کی شخصیت اور شاعری پر اظہارِ خیال کیا، اُن میں ڈاکٹر یونس حسنی، ڈاکٹر معین الدّین عقیل، ڈاکٹر عبدالرؤف پاریکھ، پروفیسر خیل الرحمان چشتی، سیّد ایاز محمود اور ڈاکٹر عقیل عباس جعفری کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔