(ایک سماجی کارکن کی سرگزشت)
مصنّف: ڈاکٹر فیاض عالم
صفحات: 335، قیمت: 1500روپے
ناشر: فضلی سنز( پرائیوٹ) لمیٹڈ۔
زیرِ نظر کتاب کے مصنّف، ڈاکٹر فیاض عالم نظریاتی طور پر جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہیں، لیکن اُن کی پوری زندگی سماجی خدمات سے عبارت ہے۔ اُن کے سماجی کاموں کا دائرہ خاصا وسیع ہے اور اگر اُن کے سماجی کاموں کی تفصیلات بیان کی جائیں، تو اُن کے لیے کافی صفحات درکار ہوں گے، لیکن اختصار ہماری مجبوری ہے۔ فی الحال تو ہم دریا کو کوزے میں بند کرنے کی کوشش کریں گے۔ اِس کتاب کے دو حصّے ہیں۔
پہلا حصّہ اُن کے نجی اور خانگی حالات و واقعات پر مشتمل ہے، جب کہ دوسرے حصّے میں اُنہوں نے اپنی سماجی زندگی کا احوال بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر فیاض عالم کی یہ خُود نوشت، تسنیم فاروقی کا کارنامہ ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر فیاض عالم کا 23اقساط پر مشتمل انٹرویو نہ کرتے، تو اُن کے لیے کتاب تصنیف کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ اِس خُود نوشت کے لیے اُنہوں نے48عنوانات قائم کیے ہیں۔
کتاب کے مطالعے سے 70ء کی دہائی کے مشرقی پاکستان کے حالات کا بھی علم ہوگا اور یہ بھی اندازہ ہوگا کہ ڈاکٹر فیاض عالم نے سماجی شعبوں میں کس قدر مختلف النوع منصوبوں پرکام کیا ہے۔ اُنھوں نے 1992ء میں فیڈرل بی ایریا سے اورنگی ٹاؤن جاکر 1973ء میں حاصل کردہ خالی پلاٹ پر فلاحی اسپتال کا خواب دیکھا تھا، پھر اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر ذاتی اسپتال قائم کرنے کی بجائے الخدمت اور دیگر فلاحی تنظیموں کے لیے ادارے بنائے۔
آج ایک سماجی کارکن کی حیثیت سے اُن کی نمایاں شناخت ہے۔ یہ ڈاکٹر فیاض عالم کی تیسری کتاب ہے، اُن کی پہلی کتاب کا نام’’ دوسرا رُخ‘‘، جب کہ دوسری کتاب کا نام’’ پاکستان میں زیتون کی کاشت: تاریخ، تجربات اور امکانات‘‘ ہے۔
کتاب میں سابق امیر جماعتِ اسلامی، پاکستان سراج الحق، سینئیر صحافی ہارون الرشید اور کتاب کے بنیادی محرّک، تسنیم الحق فاروقی کے جو مضامین شامل ہیں، اُن سے بھی اس کی اہمیت و افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔