مدینہ اور مکّہ کے نظارے یاد آتے ہیں
جہاں دیکھے تھے جو منظر، وہ سارے یاد آتے ہیں
مَیں واپس آگیا ہوں، پر یہ لگتا ہے وہیں پر ہوں
وہاں کے جگمگاتے چاند تارے یاد آتے ہیں
زمینِ پاک پر جس جس جگہ میرے قدم پہنچے
وہاں جاکر جو دن مَیں نے گزارے، یاد آتے ہیں
مقدّس وادیاں یوں میری آنکھوں میں سمائی ہیں
کہ جن کی دل کشی کے ماہ پارے یاد آتے ہیں
وہاں کے ذرّے ذرّے نے ہماری میزبانی کی
اُنہیں کیسے بُھلا دوں، وہ جو سارے یاد آتے ہیں
قرآنِ پاک اور سنّت نے ہر پل رہ نمائی کی
بنے تھے جو عبادت میں سہارے یاد آتے ہیں
(معین قریشی بریلوی، نصیرآباد، ایف بی ایریا، کراچی)