افشاں نوید
’’اِن خاتون سے ذرا بچ کے رہیے گا۔‘‘ نادیہ ابھی اُس محلے میں نئی نئی آئی تھی، جب اُس کے بیٹے نے سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’کیوں…؟‘‘ ’’امّی! پورے محلے سے لڑائی ہے اِن کی۔ خُود کو ڈاکٹر کہتی ہیں، مگر زبان کی ایسی تیز کہ کوئی دومنٹ برداشت نہیں کرتا۔ بہت ہی ٹاکسک خاتون ہیں۔‘‘ نادیہ نےسرہلا دیا۔ ’’ویسے آج کل کسی کے بارے میں بھی رائے قائم کرنا بہت آسان ہوگیا ہے۔ عموماً صرف ایک لفظ کافی سمجھ لیا جاتا ہے، ٹاکسک۔‘‘ وہ بس سوچ ہی کے رہ گئی۔
چند دن بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔ سامنے وہی خاتون کھڑی تھیں۔ چہرے پر سختی، لہجے میں کُھردرا پن اور باتوں میں وہ مٹھاس بالکل بھی نہیں تھی، جس کی لوگ عادی ہوتے ہیں۔ نادیہ نے دل ہی دل میں سوچا۔ ’’ شاید لوگ اِن کے بارے میں ٹھیک ہی کہتے ہوں۔‘‘
پھر ایک دن وہ اُن کے گھرگئی۔ اور وہاں اُس نے ایک ذہنی ، جسمانی معذور شخص کو وہیل چیئر پر بیٹھے دیکھا۔ ’’یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ خاتون نے بہت محبت سے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ نادیہ چونکی۔ ’’بیٹا…؟‘‘ ’’ہاں، اگرچہ میرے پیٹ سے پیدا نہیں ہوا۔‘‘ پھر انھوں نے آہستہ آہستہ ساری حقیقت بیان کی۔ ’’دراصل پینتیس سال پہلے ایک نومولود بچّہ اسپتال میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ ماں کو اسکیننگ کے ذریعے پتا چل گیا تھا کہ اُس کا پیدا ہونے والا بچّہ نارمل نہیں ہوگا۔ ماں کی خواہش تھی کہ وہ اپنا حمل ختم کردے۔
مگر مَیں نےاُس سے کہا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ تم یہ بچّہ پیدا ہونے دو، مَیں اِسے گود لے لوں گی۔ اور پھر… پیدائش پر اس کی ماں اِسے چھوڑ کر چلی گئی۔ میرے اپنے بھی تین بچّے ہیں، ماشاءاللہ، تب سب سے چھوٹا شیرخوار تھا۔ مَیں اِسے اپنے ساتھ گھر لے آئی۔ اِسے اپنا دودھ پلایا۔ مَیں نے اِس کی خاطر اپنی پریکٹس چھوڑ دی بلکہ ساری دنیا ہی چھوڑ دی اوربس، اِسے پالنے پوسنے میں لگ گئی۔
نامعلوم، اللہ نے میرے دل میں اِس کی کیسی محبّت ڈال دی کہ مجھے اِس کے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا تھا۔ اس کی نگہ داشت کے معاملے میں میرے شوہر نے بھی میرا بہت ساتھ دیا، پھر وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اُن کے جانے کے بعد رفتہ رفتہ سب عزیز، رشتےدار ساتھ چھوڑتے گئے۔ اور، زندگی محدود ترہوتی گئی۔ ایک ایک کر کےساری خواہشیں مرتی چلی گئیں۔ یہ بچّہ جوان ہوگیا اور مَیں مزید کم زور، بوڑھی ہونے لگی۔ آج یہ پینتیس سال کا ہوچُکا ہے۔‘‘ نادیہ چُپ چاپ بیٹھی ان کی باتیں سُنتی رہی۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ بعض لوگ نرم لہجے میں نہیں، قربانیوں کی زبان میں محبّت لکھتے ہیں۔
واپسی پر نادیہ کےذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا۔ ’’کیا واقعی یہ خاتون ٹاکسک ہیں، جیسے محلے والے کہتے ہیں؟ یا ہم نے اِن کی پوری زندگی کی سخت مشقّت و ریاضت کو محض ایک تلخ لفظ میں قید کردیا ہے؟‘‘ اُس رات نادیہ دیر تک سوچتی رہی، سو نہ سکی۔ وہ لیڈی ڈاکٹر، ماں بن کر 35سال سے کسی اور کے بچّے کے ڈائپرز بدل رہی ہیں۔ ایسا بھی کہیں ہوتا ہے دنیا میں۔ اُسے اپنی ساس یاد آگئیں۔
وہ ساس، جنہیں وہ برسوں اُن کی تلخ کلامی کے باعث سخت دل سمجھتی رہی تھی کہ ابتدا میں اُس نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ ایک بیوہ عورت نے چار بچّوں کو کن کٹھن حالات میں پالا تھا۔ اُسے اپنی ایک دوست یاد آئی، جو ہر وقت بہت الجھی سی رہتی، ہمہ وقت شکوے شکایات اُس کی عادت تھی۔ مگر کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس نے اپنے جوان بیٹے کی میت دیکھی تھی۔ اُسے اپنا آپ بھی یاد آیا۔
وہ لمحات، جب شاید اُس نے شدید پریشانی میں کسی کا دل دُکھایا تھا۔ کیا کسی کی کہانی میں وہ خود بھی تو ’’ٹاکسک‘‘ نہیں تھی؟ ہم دوسروں کے رویے دیکھتے ہیں۔ ہم دوسروں کی زبان سنتے ہیں۔ اُن کی اندر بپا خاموش جنگیں نہیں سُنتے، دیکھتے۔ ہم بس فیصلہ سناتے ہیں، مقدمہ نہیں سنتے۔ اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر غلط رویہ درست ہے، ہرگز نہیں۔ غیر شائستگی اور حق تلفی برداشت کرنابھی دانش مندی نہیں۔ مگر ہر کڑوا انسان، زہریلا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہ صرف زخمی ہوتا ہے اور زخمی لوگ ہمیشہ خوب صورت گفتگو نہیں کر پاتے۔
نادیہ نے اگلے دن اپنی پڑوسن کے دروازے پر دستک دی۔ خاتون نے دروازہ کھولا۔ ’’خیریت…؟‘‘ نادیہ نے مسکراتے ہوئے دہی بڑے کا پیالہ آگے بڑھایا۔ ’’بس آپ کی خیریت پوچھنے آئی تھی۔‘‘ خاتون کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ شاید مدتوں بعد کسی نے اُن سے شکایت نہیں کی تھی، اُن کی خیریت پیار سے پوچھی تھی۔ اُسی لمحے نادیہ کو قرآن کا وہ ارشاد یاد آیا۔ برائی اور بھلائی برابر نہیں ہوسکتے۔
برائی کو اُس بھلائی سے دفع کرو، جو بہترین ہو۔ کبھی کبھی نفرت کا سلسلہ دلیل سے نہیں ٹوٹتا، ایک چھوٹی سی نیکی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اور کبھی کبھی جس شخص کو ہم ٹاکسک کہتے ہیں، وہ اللہ کے ہاں اپنی خاموش قربانیوں کے باعث ہم سب سے زیادہ محترم ہوتا ہے۔ اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے رُک جائیں۔ ہر انسان کے اندر ایک کہانی دفن ہوتی ہے۔ اور بعض کہانیاں سُننے کے بعد تو لفظ ’’ٹاکسک‘‘ اپنے معنی ہی کھو دیتا ہے۔