• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آخرکار صالحہ آپا کی پوسٹنگ اُسی شہر میں ہوگئی، جہاں اُن کے شوہر کی پوسٹنگ تھی۔ صالحہ گورنمنٹ کالج میں لیکچرار تھیں۔ اُن کے شوہر چھے مہینے پہلے اس شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں بطور ڈائریکٹر ایڈمن ٹرانسفر ہوئے تھے اور ابھی تک اسپتال کے ہاسٹل میں رہ رہے تھے۔ صالحہ کی پوسٹنگ کے بعد اُنھوں نے کرائے کا گھر لیا اور وہاں شفٹ ہوگئے۔ بیوی بچّوں کا پاس آجانا اُن کے شوہر کے لیے آرام و راحت کا باعث تھا۔ بچّے کالج، یونی ورسٹی جانے لگے اور یہ دونوں میاں بیوی اپنی اپنی نوکریوں پر۔ زندگی ایک معمول پر آگئی تھی۔

’’وحید صاحب! مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ مَیں اور آپ اپنی اپنی جابز پر چلے جاتے ہیں اور بچّے کالج، یونی ورسٹی۔ سارا دن ہمارے گھر میں کوئی نہیں ہوتا۔ دن کے وقت سوائے ایک فریج کے بجلی کا استعمال بالکل نہیں۔ مَیں بتیاں تک بجھا کر جاتی ہوں، پھر بھی بجلی کا بل اتنا زیادہ کیوں آجاتا ہے۔ تیسرا مہینہ ہے، یہ پچاس ہزار روپے سے نیچے ہی نہیں آرہا۔

آخر یہ اتنے یونٹس کیسے استعمال ہوجاتے ہیں ہمارے۔‘‘ صالحہ بجلی کا بل ہاتھ میں لیے پریشانی کا اظہار کر رہی تھیں۔ ’’یار! استعمال ہوتے ہیں، تو ہی بل آتا ہے ناں، اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن نہ لیا کریں بیگم صاحبہ۔‘‘ بِل پرلکھے ہوئے یونٹس میٹر کے مطابق ہی ہوتے تھے، مگر بجلی استعمال نہ ہونے کے باوجود اتنے یونٹس۔ ہر مہینے بل دیکھ کر زیادہ بل کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہو کر بل جمع کروایا جاتا اور پھر دونوں اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہوجاتے۔

’’سُنیں، چھوٹی کی طبیعت کافی دِنوں سے ٹھیک نہیں ہے، تو کیا مَیں لاہور کا ایک چکر لگا آؤں۔‘‘ صالحہ نے وحید صاحب کو اُن کی سب سے چھوٹی بہن کی طبیعت کی خرابی کی اطلاع دے کر اجازت چاہی۔ ’’میرا خیال ہے آپ لاہور نہ جائیں، چھوٹی کو یہاں بُلا لیں۔ مَیں اپنے اسپتال میں اُس کا اچھے سے چیک اپ کروا دوں گا، پتا توچلے مسئلہ کیا ہے آخر۔‘‘ وحید صاحب نے تجویز دی۔ ’’یہ تو زیادہ بہتر رہے گا۔‘‘ صالحہ فوراً مان گئیں۔

چھوٹی آئی، تو مختلف ٹیسٹس کی وجہ سے اُسے ایک ہفتے کے لیے بھائی، بھاوج کے پاس رہنا پڑا۔ ’’بھابھی! یہ آپ کا بجلی کا بل آیا ہے۔‘‘ چھوٹی نے بل صالحہ آپا کی طرف بڑھایا۔ ’’اُف! ایک تو مَیں بجلی کے اتنے زیادہ بل سے بہت تنگ ہوں۔ بل پر پینتالیس ہزار کی رقم درج دیکھ کرصالحہ آپا کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔ ’’بھابھی! مَیں بھی یہی دیکھ رہی تھی کہ سارادن آپ کے گھر میں صرف ایک فریج چل رہا ہوتا ہے، پھر بھی اتنے یونٹس کیسے استعمال ہوئے۔‘‘ ’’چھوٹی! یہی تو… جب سے یہاں آئی ہوں بس بجلی کا بل بَھرے جا رہی ہوں۔‘‘ ’’بھابھی! ایک بات کہوں، آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ کی بجلی چوری ہو رہی ہے۔‘‘ چھوٹی کا لہجہ و انداز پُریقین تھا۔ ’’ارے نہیں چھوٹی! کون چوری کرے گا بجلی۔

نیچے ہم رہتے ہیں اور اُوپر مالک مکان خُود، تو ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔‘‘ ’’آپ سب کے جانے کے بعد مَیں باہر چکر لگا رہی تھی تو دونوں بل مَیں نے ہی وصول کیے۔ آپ کے مالک مکان کا بل پتا ہے کتنا تھا، دس ہزار روپے۔‘‘ ’’ہیں…؟‘‘ حیرت کے مارے صالحہ آپا کا منہ کُھل گیا۔ ’’مَیں بھی ایسے ہی حیران ہوئی تھی۔ مالک مکان کے بچّے مِلاکر کُل آٹھ لوگ ہیں۔ تین کمروں میں اے سی ہے۔ پانی کی موٹر چلتی ہے۔ واشنگ مشین، فریج، پنکھے، استری… تو پھر اُن کے استعمال شدہ یونٹس اتنے کم کیسے ہوئے؟‘‘ چھوٹی نے ابرو اُچکائے۔ ’’نہیں چھوٹی! اچھے خاصے شریف انسان ہیں بدرصاحب۔ اتنے نیک اور عبادت گزار۔‘‘

صالحہ آپا ماننے کو تیار نہ تھیں۔ ’’ہوں گے وہ عبادت گزار، مگر معاملات میں کھرے نہیں ہیں وہ۔ مَیں بتا رہی ہوں آپ کو، کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ چیک کرنے کے لیے مَیں نے تھوڑی دیر کے لیے نیچے والا مین سوئچ آف کردیا تھا۔ یقین جانیں، چار چکر لگائے انکل بدرنے نیچے کے، جھانک جھانک کر چلے جائیں، چوتھے چکر پر مَیں نے پوچھ ہی لیا۔ ’’انکل! خیریت ہے؟‘‘ کہتے ہیں۔

’’ہاں بیٹا، خیریت ہے، وہ بس ہماری پانی کی موٹرنہیں چل رہی، وہ دیکھنے آیا تھا۔‘‘ مَیں نے کہا۔ ’’شاید کوئی خرابی ہوگئی ہو، آپ کسی میکینک کو بُلا کردکھا لیں۔‘‘ تو چُپ چاپ اوپر چلے گئے۔ صالحہ آپا کے لیے اب بھی یقین کرنا مشکل تھا۔ ’’اچھا! آپ میرا یقین نہ کریں۔ مَیں تو کل چلی جاؤں گی۔ آپ نے ایک کام کرنا ہے۔ آفس جانےسے پہلے اپنا مین سوئچ آف کردیا کریں۔ فریج میں اضافی چیزیں نہ رکھیں۔ صرف ایک مہینہ یہ کرکے دیکھ لیں، اگر فرق نہ پڑا تو بتائیے گا۔‘‘

چھوٹی تو اگلے دن چلی گئی اور صالحہ آپا نے اُس کی ہدایت پر عمل شروع کردیا۔ پھر ایک مہینہ مین سوئچ آف کرنے سے یہ ہوا کہ چالیس پچاس ہزار تک آنے والا بل دس ہزار تک آگیا۔ وحید صاحب نے الیکٹریشن بُلا کر بورڈ چیک کروایا، تو پتا چلا کہ مین سوئچ سے ایک کنیکشن اوپرجا رہا ہے۔ اب صالحہ کو بھی یقین آیا اوراُن کے دماغ کی بتی روشن ہوئی۔ دو تین بار انھیں اوپرجانےکا اتفاق ہوا تو دن کے وقت ان کے لاؤنج کا اے۔ سی سولہ پر چل رہا تھا اورگھرمیں جتنے افراد موجود تھے، سب وہیں بیٹھے تھے۔

باقی سارے گھر کی بتیاں اور پنکھے بند تھے یعنی ان کی پانی کی موٹر اور لاؤنج کا اے۔ سی اُن کے میٹر پر چلتے تھے۔ ’’او میرے اللہ، حد ہے بے ایمانی کی، ویسے حکومت کی کرپشن کے خلاف کتنا بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں اور خود کیاکر رہے ہیں۔ مَیں پوچھتی ہوں جا کر۔‘‘ صالحہ کاغصّہ حد سے سوا تھا۔ ’’نہیں رہنے دو، ہم گھر بدل لیں گے۔‘‘ وحید صاحب لڑائی جھگڑے سے دور رہنے والے انسان تھے۔ ’’مگر اس طرح تو یہ سب کو بے وقوف بناتے رہیں گے۔‘‘ صالحہ آنے والوں کے لیے فکرمند ہوئیں۔ ’’نہیں بنائیں گے۔ مَیں اِن کا علاج کر کے جاؤں گا۔‘‘

نیا گھر دیکھتے وقت وحید صاحب نے سنگل یونٹ والے گھر کو ترجیح دی تاکہ دوبارہ ایسی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ’’یار! بڑا اچھا وقت گزر رہا تھا آپ کے ساتھ ہمارا، اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں ؟‘‘ وحید صاحب اور صالحہ سارا سامان نئے گھر میں بھجوا چُکے تھے۔ خود بھی بس نکل ہی رہے تھے کہ بدر صاحب نیچے آئے۔ ’’کیوں کہ ہمارا وقت یہاں اچھا نہیں گزرا، ہم توبجلی کا بل بھر بھر کر پاگل ہوگئے تھے۔‘‘

وحید صاحب نے کہا۔’’بیٹا! بل تو سب ہی کے زیادہ آرہے ہیں آج کل۔‘‘’’مگر ہمارا تو آپ کی وجہ سے زیادہ آرہا تھا۔‘‘ صالحہ کی برداشت جواب دے گئی، پھربھی مُسکراکربولیں۔ ’’کیا مطلب؟‘‘بدرصاحب اَن جان بن گئے۔’’مطلب آپ اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔‘‘ ’’آپ الزام لگا رہی ہیں ہم پر؟ ’’بالکل نہیں۔ ثبوت ہے ہمارے پاس، ہمارے جانے کے بعد جو کنیکشن اس میٹر سے اوپر جاتا ہے، اُسے کٹوا کر اپنے میٹر میں لگوا لیجیے گا، کیوں کہ بجلی چوری کرنا بھی کرپشن ہے، اور اگر نہیں کریں گے، تو یہاں جو بھی نیا کرایہ دار آئے گا، اُسے میں خُود آگاہ کروں گا اس واردات سے۔‘‘ وحید صاحب نے اتنا کہہ کر صالحہ کا ہاتھ تھاما اورخدا حافظ کہہ کر باہر نکل گئے۔

سنڈے میگزین سے مزید