• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عشاء خان

کہتے ہیں، کچھ جگہیں نقشوں پر موجود نہیں ہوتیں، وہ وقت کی کسی دراڑ میں سانس لیتی ہیں۔ وہاں کی فضا میں نہ ہنسی کی بازگشت سُنائی دیتی ہے اور نہ آہٹوں کی صدا آتی ہے، وہاں صرف خاموشی بسیرا کرتی ہے۔ ایسی پُر اسرار خاموشی، جو صدیوں پر محیط ہو، مگر کسی سماعت پر دستک نہ دے سکے۔ ایک ایسی دنیا، جو آئینے میں نہ دیکھی جا سکے، بس جس کا پتا ٹوٹے خواب کے احساسات دیتے ہوں کہ شاید کچھ رہ گیا- شاید بہت کچھ، جیسے یادیں، اندیشے اور خاموش وعدے کسی نادیدہ قفس میں مقیّد ہوگئے ہوں۔

ایسے ہی ایک خاموش شہرکی گلیوں میں ایک سایہ گشت کیا کرتا تھا، وہ اِک احساس تھا، جو ہر در کے پرے قید تھا- نہ مکمل تنہا، نہ مکمل آزاد۔ اُس کے گزرنے سے کھڑکیوں پر جمی دھند میں لکیریں پڑ جاتیں، جیسے یادوں کی پرچھائیں اچانک نمودار ہوئی ہو۔ وہ شاید خُود ایک دھندلا خواب تھا، ایک مبہم سی تڑپ یا کوئی اَن کہی خواہش، جو اُس سے منسلک تھی۔ وہ کسی نامعلوم در کا متلاشی تھا، مگر منزل سے بےخبر۔ منزل اور راستے دونوں ہی پُراسرار تھے۔ اس کے اردگرد دیواروں پر فریب کی گرد جمی تھی۔

وہاں احساس تھا، خواب تھے، مگر جو چیز بیش قیمت تھی، اس کی کمی تھی، وہاں آزادی نہیں تھی۔ اِس قید کا قفل، اس کی دسترس سے باہر تھا۔ وہ افکار و نظریات کا قیدی تھا۔ اُس کے پاؤں میں بیڑیاں اُس کے اپنے تخیلّات کی تھیں، جو اُسے جنبش سے روکتی تھیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا، جس سائے کی وہ تقلید کررہا ہے، وہ دیواروں میں تحلیل ہو جائے اور وہ خود گردِ راہ بن جائے۔

اُس کے ہر جانب ایک بےہنگم سی حیات تھی۔ ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے اذہان، جنہوں نے فکر سے آنکھیں کب موند لی تھیں، کسی کو یاد نہیں تھا۔ بیرونی فضا پُرمسرت تھی، مگر وجود میں بسی تاریکی، کردار کی وہ گہری دھند تھی، جس میں دُور دُور تک کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔ وہ خود کو ایک ایسے پرندے کی طرح محسوس کرتا، جس کے جھلسے ہوئے پَر اب بھی اُسے اڑان کی اُمید دلاتے تھے۔

وہ اُس آسمان پر پَروں کو پھیلانا چاہتا تھا، جس کی فضاؤں کو اُس کے نغمے معطّر کرتے تھے، مگر جونہی وہ نظر اُٹھا کر دیکھتا، کوئی نہ کوئی تلخ حقیقت اُس کی منتظر ہوتی۔ کیوں کہ اب وہاں پرندے درختوں پر نہیں بلکہ تاروں پر بیٹھا کرتے تھے۔ جیسے وہاں بےیقینی کے سائے ٹھہرتے ہوں اور ان پر دھویں اور شور کے ساتھ ادھورے خواب لٹکتے ہوں۔ وہ شاید تنہا ان مناظر کا شاہد تھا کہ یہی معمولاتِ زندگی تھے۔

جہاں صُبح کو وجود تو جاگتے تھے، مگر ذہن غفلت کی نیند سو رہے تھے۔ ہر نظر کسی اَن دیکھے قفس سے ٹکرا کر پلٹ آتی تھی۔ ایسی نگاہیں، جو حق شناس نہیں رہی تھیں۔ لوگوں کی زندگیاں، زندگیاں نہیں، محض آلاتِ حیات تھیں، ایسے پرزے، جو بس محدود اندازہی میں کام کرنا جانتےتھے۔ اُن کے احساسات و جذبات اُن کورے صفحوں کی مانند تھے، جن پر لکھا تو بہت کچھ جا سکتا تھا، مگر زبان پر قفل تھے اور الفاظ، شاید رسم الخط ہی بھول چُکے تھے۔

یہاں ہر ہر موڑ پر گرد میں چُھپی داستانیں بکھری دکھائی دیتی تھیں اور وہ اُن نظریات کے قفس میں تھیں، جو صرف تباہی کی راہ ہم وار کر رہے تھے۔ جو لوگوں کی املاک ہی کو نقصان نہیں پہنچا رہے تھے بلکہ اُن کے دِلوں، دماغوں میں سرایت کرچُکے تھے اور اس کا پتا سماجی و معاشرتی اقدار کی کھوکھلی جڑیں دے رہی تھیں۔ لوگ اُن روایات، نظریات کی تقلید کررہے تھے، جو اُنہیں ہلاکت کی جانب دھکیل رہے تھے۔ وہ جذبات کے کھنڈروں پر منافرت کے مینار بلند کررہے تھے۔

مگر… وہ تو ان میناروں کو گرانا چاہتا تھا۔ الحاد کی زنجیریں توڑ دینا چاہتا تھا۔ لوگوں کو بھوک و افلاس کی قید سے رہائی دلا کر، فکر وتدبّر کی آزادی دینا چاہتا تھا۔ مگر کیسے… اُس کے اپنے قفس کی جالیاں اضطراب کے زنگ سے مزید گہری ہوتی جارہی تھیں۔ اُس کی تمناؤں کی زنجیریں اُسے مزید اذیت سے دوچار کررہی تھیں، کیوں کہ وہ جب بھی اپنےآس پاس نظر دوڑاتا، خود پسندی اوربےحسی کے شعلے اپنے بہت قریب محسوس کرتا۔

اُن سے اٹھنے والا نا انصافی کا دھواں اس کے لیے سانس لینا بھی دشوار کررہا تھا۔ بس ایک سوال تھا، جو اُسے اندر ہی اندر کھا رہا تھا کہ کیا اِس قید سے نجات ممکن ہے؟ کیا آہیں بھی اتنی خاموش ہوسکتی ہیں کہ سُنائی نہ دی جائیں؟ جہاں قدامت پسند افراد صرف ماضی کےان دریچوں سے ہوا کے اُن جھونکوں کے منتظر ہوں، جو اس شہر پر عرصے سے بند ہو چُکے ہیں۔ اور حقیقت پسند کہلانے والے کسی اجنبی روشنی کے انتظار میں ہوں۔

اچانک اُس کی نگاہ آسمان پر پھیلی اُس روشنی پر پڑی، جس کا ذریعہ سورج تھا۔ ہاں وہی سورج، جو آسمان کی لامتناہی وسعت میں قید ہونے کے باوجود بھی تمام خلق کو روشنی مہیا کرتا ہے۔ شاید اب اُس کو اپنے تمام سوالوں کا جواب مل گیا تھا، کیوں کہ وہ تو خُود بھی روشنی ہی بننا چاہتا تھا۔ اُن تمام دیواروں کو گرانا چاہتا تھا، جوخود ساختہ خدشوں اور بےیقینی سے مضبوط کی گئی تھیں۔ اُس نےارادہ کیا کہ وہ ان سب ناتمام باتوں، ادھورے مکالموں اور ارمانوں کو مکمل کرے گا۔

اس لیے اب وہ قفس سے گھبرا نہیں رہا تھا بلکہ اِس شہر کی فصیلوں کے اندر ہی ایک کارواں بنا رہا تھا۔ وہ جان چُکا تھا کہ قفس ہمیشہ باہر نہیں ہوتے، کبھی کبھی وہ ہمارے تصورات، خیالوں، واہموں اور خوابوں میں پنپتے ہیں۔ اور جب قید کا شعور پیدا ہوجائے، تب بےداری کا پہلا لمحہ جنم لیتا ہے۔ اسی لیےشاید راستہ بنانا، دَر کھولنے سے زیادہ کٹھن ہوا کرتا ہے۔

آزادی شاید مکمل طور پر حاصل نہ ہو، مگر اب فرق صرف اتنا تھا کہ اُسے اس خاموشی میں اِک ارتعاش کی اُمید پیدا ہوچلی تھی۔ اُس کی آنکھیں روشنی کو پہچاننا چاہتی تھیں۔ اب بےجہتی، بے سمتی بھی ایک متعین سمت کا پتا دے رہی تھی۔ بس… وہ ایک لمحہ تھا، قفس کے شعور کا لمحہ!! اوراب بےداری اورخُودی کا ِدیا، شعور کے ایندھن میں جلنا چاہ رہا تھا۔