• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم لوگ بھی عجیب ہیں، اپنے من کا خالی کٹورا لیے اپنی ذات کے خالی گنبد میں اپنی ہی صداؤں کی بازگشت سُنتے سُنتے عُمر گزار دیتے ہیں۔ مَیں لڑکپن میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ایسا ہو نہیں سکتا کہ نیلی چھتری والا خلیفۃ الارض کو، جو مسجودِ ملائک بھی ہے، زمین پر اُتارے اور کوئی سائبان دے کر نہ بھیجے۔ جب تک سانسوں کے گھنگھرو رقص میں رہتے ہیں، غموں کی پائل سے چھن چھنا چھن کی صدا آتی رہتی ہے۔

اہلِ دل بھی چھتری کی طرح ہوتے ہیں، جو زیست کی جھلسا دینے والی زرد دھوپ اور وسوسوں کی بارش میں آپ پر اپنے حوصلے اور محبّت کی چھتری تانے رکھتے ہیں اور محبّت کی بے شمار کرامات میں سے ایک یہ بھی ہےکہ یہ ہر دَم تروتازہ رہتی ہے۔ اِس کے معانی اپنے لفظ کو مرشد مانتے ہیں۔ محبّت کی کتاب کو دیمک نہیں چاٹ سکتی۔ یہ ہر ذی نفس کے لیے اُتنی ہی اہم ہے، جیسے ایک پنچھی کے لیے اُس کے پنکھ۔ زیست کی بساط پر مُہرے اگر محبّت کے ہوں تو زندگی ناقابلِ شکست ہوجاتی ہے۔

یہ کائنات بہت خُوب صُورت ہے، مگر ماں کے گالوں پر اُس کے ننّھے بچّے کے بوسے سے زیادہ نہیں۔ اگر میرے پاس استحقاق ہوتا تو مَیں مرتے دَم تک ایک چھوٹا سا بچہ ہی رہتا، جو ہروقت اپنی ماں کا پَلّو پکڑکر اُس کے پیچھے پیچھے پِھرتا، اُس کو دیکھ کر مُسکراتا رہتا اور ماں کبھی بوڑھی ہوتی، نہ کبھی مرتی۔ ماؤں کو مرنا نہیں چاہیے کہ پھر بچّوں کی رُوحیں شہر کے ویرانوں میں بھٹکنے لگتی ہیں۔ یہ مائیں ہی تو ہوتی ہیں، جو زندہ لاشوں کو بھی بانہوں کے آنچل میں سمیٹ لیتی ہیں۔ مَیں نے ہر بڑے آدمی کوسادہ اور عاجز پایا۔ میری نانی ماں کہا کرتی تھیں۔ ’’عاجزی اختیار کرو، جو کم زور چراغوں کا احساس نہیں کرتا، اُسے چڑھتے سورج کو پوجنا پڑتا ہے۔‘‘

گھر کےسارے لوگ پریشان تھے۔ دادا جی بازار گئے ہوئے تھے اور بارش تھی کہ رُکنےکا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ مجھے بارش اچھی لگتی ہےکہ یہ اپنےساتھ بادل لاتی ہے۔ بادل بن برسے گزر جائیں تو زمین کے سینے میں آگ لگ جاتی ہے۔ نہ جانے مجھے کیوں لگتا کہ میرے اندر کوئی بارانی شخص رہتا ہے، جس کے اندر کا صحرا ازل سے پیاسا ہے۔ کہتے ہیں، دریا کے کنارے کوئی پیاسا مر جائے، تو وہ صحرا بن جاتا ہے۔ دریائے باکڑہ اُس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اب یہ تو چُولستان ہی جانتا ہے کہ وہ پیاسا کون تھا۔

اچانک سب کے چہروں پر خوشی، ہونٹوں پر مسکان پھیل گئی۔ دادا جان آدھے سوکھے، آدھے بھیگے گھر میں داخل ہو رہےتھے۔ بہن نے آگے بڑھ کر دادا جی کو سلام کیا اور گیلی چھتری پکڑ کراُس کو کیل کے ساتھ سوکھنے کے لیے اُلٹا لٹکا دیا، پھر بھاگ کر گئی اور دادا جی کے لیے اُبلا ہوا انڈا، گرم گرم چائے لے آئی۔ دادا جی چائے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بہن کو دُعا دی۔ چھوٹا بھائی انڈا دیکھ کربولا۔ ’’ماما! مجھے بھی انڈا کھانا ہے۔‘‘ امّی بھائی کی بات سُن کر کچن میں گئیں اور تین انڈے اُبال کر لے آئیں۔

دادا جی نے مُسکرا کر امّی کی طرف دیکھا اور بولے۔ ’’پروفیسر صاحبہ! مائیں جتنا مرضی پڑھ لکھ جائیں، اُنہیں گنتی نہیں آتی۔‘‘ امّی نے حیرانی سے مُسکرا کر دادا جی کی طرف دیکھا، تو بولے۔ ’’بچّہ ایک چیز مانگتا ہے، مائیں کئی لادیتی ہیں۔ اولاد کے لیے اُن کی محدود سانسوں میں بھی دُعائیں لامحدود ہوتی ہیں۔‘‘ پھر انگلی سے بھائی کے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے بولے۔ ’’مائیں تو بال بھی بکھرنے نہیں دیتیں، اور اُن کے بعد زندگی بکھرجاتی ہے۔

ماں کا وجود دل کی طرح ہوتا ہے، جو جسم سے جتنا خون لیتا ہے، سب آگے بھیج دیتا ہے اپنے لیے کچھ بھی نہیں رکھتا۔ یہ سچ ہے کہ ماں اور درویش کبھی بددُعا نہیں دیتے۔‘‘ پھر آہستگی سے بولے۔ ’’جب تک میری ماں زندہ رہی، مَیں نے اپنے رب سے کبھی جنّت نہیں مانگی۔‘‘ میرے بابا بولے۔ ’’ابّو جان! ہمیں اپنی امّی، میری دادی کے بارے میں کچھ اور بتائیں۔‘‘ ’’اور ہماری دادی کے متعلق بھی۔‘‘ میری بہن بھی جھٹ بولی۔ دادا جی مُسکرائے اور کہا۔ ’’دونوں ہی عظیم شخصیات تھیں۔

دونوں ہی اعلیٰ ظرف اورمکمل عورتیں۔ جب میری ماں اپنی اکلوتی بہو بیاہ کرلائیں تو بہت خوش تھیں۔ مجھ سے کہنے لگیں۔ ’’مَیں تمہیں جانتی ہوں، تم مرشد مزاج شخص ہو مگر اپنی ہم سفر کےمعاملے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اس کا دل اور ظرف درویش کی قناعت سے بھی بڑا ہے۔

ایسے لوگ کسی سے ناراض نہیں ہوتے، بس اُس شخص کو اپنے لیے ’’خاص‘‘ سے ’’عام‘‘ کر لیتے ہیں۔ اِس کی کوئی بات سمجھ میں نہ آئے یا اچھی نہ لگے تو خاموش ہوجانا اور انتظار کرنا، کیوں کہ ڈھلتا سورج، آدھا چاند اور مکمل عورت ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آتے۔‘‘مَیں نے ابّو کی طرف دیکھا۔ اُن کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

دادا جی نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’مَیں نےجینا اپنی ماں سے سیکھا اور وضع داری شریکِ سفر سے۔ ماں کہا کرتی تھی، ’’لوگوں کو یہ نہ بتاؤ کہ خُودکشی حرام ہوتی ہے بلکہ اُنہیں اُمید سے جینے کا ڈھنگ سکھاؤ۔ کبھی کسی کی برائی نہ کرنا۔ اپنے اندر طوائف کے سینے سے بھی بڑا قبرستان آباد کرلو، جہاں معززین کی عزتیں دفن ہوتی ہیں۔‘‘ مَیں نے ایک دن ماں سے پوچھا۔ آپ مجھ سے کتنا پیار کرتی ہیں۔ میرا گال چوم کر بولیں۔ ’’محبت ایک آفاقی کیفیت کا نام ہے، لفظوں کی بیساکھیاں اِسے بیان کرنے کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتیں۔

اس کو توبس بقدرِ توفیق محسوس کیاجاسکتا ہے۔‘‘ ہمارے گھر کا دستر خوان بڑا وسیع تھا۔ ماں کو سب سے زیادہ خوشی لوگوں کو کھانا کھلا کرہوتی تھی۔ گاؤں کے مدرسے کے لیےاپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر بھیجتی تھیں۔ ہمارا گھرمہمانوں سے بھرا رہتا۔ مَیں نےایک دن پوچھا۔ ہماری اتنی مہمان داری کیوں ہے۔ گاؤں میں سب سے زیادہ کھانا ہمارے گھر بنتا ہے۔ ہمارا دستر خوان کبھی خالی نہیں ہوتا۔ ماں مُسکرائی اور بولی۔ ’’جب رزق کو تجوریوں میں دفنا دیا جائے تو بھوک ننگے پاؤں گلیوں میں بددُعائیں دیتی پِھرتی ہے۔

تیرا باپ ایک رازجان گیا ہے کہ اللہ نے سرداری کو دسترخوان میں چُھپا رکھا ہے اور لوگ اُسے مال و دولت اور اقتدار کے ایوانوں میں تلاش کرتے ہیں۔‘‘ مَیں پوچھتا۔ ماں جی! آپ کو کیسے پتا چل جاتا ہے کہ آنے والا بھوکا یا ضرورت مند ہے۔ ماں مسکرا دیتی۔ ’’بیٹا! درویش کو حالات بتانےکی ضرورت نہیں ہوتی، وہ تو دستک سے پہچان لیتا ہے۔‘‘مَیں پوچھتا۔ درویش اور صوفی کیسے بنتے ہیں۔

ماں کہتی۔ ’’اللہ کے فضل کے بعد اپنے اندر کی بدصُورتی کو حُسنِ یوسفؑ کا قصّہ سُنانا پڑتا ہے، شور سے بچنا پڑتا ہے، خوشبوؤں کے پرستان میں اپنا نگر بسانا پڑتا ہے، کیوں کہ درویش جانتا ہے، شور تو گناہوں کا ہوتا ہے، نیکی کی تو خوشبو ہوتی ہے۔ اس کے لیے بارانی علاقوں میں اُگے کیکر پر سجے پیلے پھولوں کی خوشبو اپنے اندر بسانی پڑتی ہے۔ مخلوق کی خدمت کے راستے سے رب کو منانا پڑتا ہے۔ پتا معلوم کرنے کے لیے ’’لاپتا‘‘ ہونا پڑتا ہے۔‘‘پھر دادا جی بڑے کرب سے بولے۔ ’’بعض لوگ اندھے ہی پیدا ہوتے ہیں اور تمام عُمر آنکھوں کے ساتھ بھی نابینا رہتے ہیں۔

یہاں تک کہ وہ بوڑھے گُل فروش کی تھکی مسکراہٹ بھی نہیں دیکھ پاتے۔ جب رونے کے لیے اپنے ہی دُکھ کافی ہوجائیں تو سمجھ جائیں، آپ بڑے ہو گئے ہیں۔ جس سانولی شام ماں ہم سے رخصت ہوئی، اُس کے بعد بھی کئی روشن دن آئے، مگر میرے دل سے کبھی وہ شام ہی رخصت نہیں ہوئی۔ اُس شام فالج زدہ زمین بھی نہ کانپ سکی، لال آندھی سوئی رہی۔

اگرچہ سورج روز اُدھر سے گزرتا ہے، مگر زندگی کے رگ وپے میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ ماں کی جدائی کا دُکھ رگوں میں لہو کی طرح خاموش دوڑتا ہے، پر اُس دُکھ کے ماتم کی چیخ بہت بلند ہوتی ہے۔ ماں کے قبرستان کا باسی ہونے کے بعد احساس ہوا کہ ماں کے بغیر انسان پورے سے زیادہ خالی ہو جاتا ہے۔ اُس رات مَیں نے حویلی کے سب سے پرانے برگد سے کہا۔ اے درختوں کے درویش! آج زمین کو پُرسہ دو۔

آج زمین کے اوپر ایک ماں نہیں رہی۔ ماں کہا کرتی تھی، بچّوں کی تعلیم و تربیت میں کمی نہ رہنے دینا۔ اُنہیں جہالت کے عذاب سے بچانا۔ جہالت اندھی عقیدت پیدا کرتی ہے۔ انسان کو شخصیت پرست بنا کر اُس کا شعور ختم کرکے ذہنی غلام بنادیتی ہے اور تربیت اگر مناسب نہ ہو تو انسان اختلاف کی بجائے نفرت کرنے لگتا ہے۔‘‘

دادا جی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور بولے۔ ’’شیرون بیٹا! مجھے اپنا گاؤں بہت یاد آتا ہے۔ عجب سادہ لوگوں کا زمانہ تھا۔ ہر سُو خوشیاں ہی خوشیاں۔ بڑھاپے میں تو انسان، بس خوشیوں کی یاد مناتا ہے۔ ہمارےگاؤں میں ایک بہت ہی بھولا شخص تھا۔ نام تو سعید تھا مگرسب بھولے کےنام سے بلاتے تھے۔ اُس کے ہاتھ میں ہمیشہ ایک لاٹھی نُما چیز ہوتی، جس کا ایک سِرا ہاکی کی طرح مُڑا ہوا ہوتا۔

گاؤں کے لوگ رات کو کھیتوں کو پانی دیتےہوئے جنگلی جانوروں، کتوں اور سانپ وغیرہ سے بچنے کے لیے ہاتھ میں لاٹھی ضرور رکھتے ہیں۔ ہم اکثر بھولے سے پوچھتے۔ یہ لاٹھی کیسی ہے، جو لکڑی کی بھی نہیں۔ وہ کہتا۔ مجھے نہیں پتا، یہ کیا ہے۔ بس میرے مرحوم باپ کو کسی نے شہر سے بھجوائی تھی۔ مجھے اب بھی یاد ہے، ہمارے گاؤں میں بابا کا ایک کسان دوست چاچا اکبر تھا۔ اُس وقت میری عُمر کوئی چودہ پندرہ سال تھی۔ چاچا اکبر ہر دوسرے دن ایک یا دو سانپ مار کرلاٹھی پرلٹکا کے گاؤں میں داخل ہوتا۔ نوجوان لڑکے چاچے سے بہت متاثر تھے۔

وہ بھی اس کی طرح دلیربننا چاہتے تھے۔ سب اس کو ہیروسمجھتے تھے۔ تب مَیں نے بھی اپنے ہاتھ میں لاٹھی رکھنی شروع کردی اور جب بھی کھیتوں میں جاتا ،سانپ ڈھونڈتارہتا ۔ایک دن مَیں ابّا کے ساتھ کھیتوں سے گزر رہا تھا تو مجھے ایک لمبا سانپ نظر آیا۔ مَیں بہت خوش ہوا۔ لسّی کا ڈول زمین پر رکھا اور سانپ کی طرف چلنے لگا، ساتھ ابّا کو آواز دی۔ ابّاجی! وہ دیکھو سانپ، مَیں اس کو مارنے جا رہا ہوں۔ ابّاجی نے مڑ کر دیکھا اوربڑے اطمینان سے کہا۔ بیٹا! واپس آ جاؤ، جانے دو اُسے۔ مَیں نے ضد کی۔ نہیں، مَیں نے اُسے مارنا ہے۔

چاچا اکبر بھی روز سانپ مارتا ہے۔ ابّاجی نے مجھے دوبارہ روکا اور آگے بڑھ کر مجھ سے ڈنڈا لے لیا۔اتنے میں سانپ کہیں چُھپ گیا۔ مَیں ہاتھ ملتا رہ گیا۔ سانپ کو مارنے کا ایک اچھا موقع ضائع ہوگیا تھا۔ ابّاجی نے میرے سُرخ چہرے کی طرف مُسکرا کر دیکھا اور بولے۔ ’’بیٹا! تمہیں سمجھ نہیں ہے۔ آج ایک مارو گے، تو کل دو نظر آئیں گے، پرسوں تین اور پھر تمہارا دنیا میں رہنے کا مقصد سانپوں کو مارنا ہی رہ جائے گا۔ آج اِس کو نظرانداز کرو گے تو پھر تمہیں نظر آنا بند ہو جائیں گے۔

چاچا اکبر جو کر رہا ہے، وہ بہادری نہیں، بےوقوفی ہے، وہ تو ایک عذاب میں مبتلا ہے۔‘‘ آج جب مَیں یہ بات سوچتا ہوں، تو حیران رہ جاتا ہوں۔ میرے باپ نے زندگی کا کتنا بڑا فلسفہ کتنی آسانی سے سمجھا دیا تھا۔ بُرے لوگوں کا وجود ہر دَور میں رہا ہے اور رہے گا۔ ہم نے اُن کو بھی Space دینی ہے۔ تم ان لوگوں کی بُری،منفی باتیں نظر انداز کرنا شروع کردو، یہ آہستہ آہستہ تمہاری زندگی سے نکل جائیں گے اور تمہاری زندگی میں سب مثبت ہونا شروع ہوجائے گا۔

ابّا جی کہتے تھے۔ منفی باتوں اور منفی لوگوں کو ہمیشہ نظرانداز کرو، کیوں کہ انسانی دماغ کی ایک خامی ہے، یہ ہر بات کو ضرب دیتا ہے۔ ایک جھوٹی کہانی،آپ دوسروں کو بار بار سُناتے جائیں، تو ایک دن وہ خُود آپ کو بھی سچّی لگنی شروع ہوجاتی ہے۔‘‘ دادا جی کچھ دیرخاموش رہنے کے بعد پھر بولے۔ ’’ہاں تو مَیں بات کررہا تھا، اُس بھولے کی لاٹھی کی۔ ایک دفعہ اُس سادہ لوح بھولے کو ایک ایسی بیماری آلگی، جو ساتھ والے گاؤں کے بڑے حکیم صاحب کو بھی سمجھ نہ آئی۔

حکیم صاحب نے اُسے شہر کے بڑے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ بھولے نے اپنی بھینس بیچی، گاؤں والوں نے بھی حسبِ توفیق مدد کی اور وہ شہر چلا گیا۔ شہر میں اُس کا ایک دُور کا رشتےدار بھی رہتا تھا۔ وہ اُس کو شہر کے بڑے اسپتال لے گیا۔ کئی دن اُس کا علاج ہوتا رہا پھر ڈاکٹر نے اُس کے رشتےدار سے کہا۔ تم مریض کو نہ بتانا، اس کو سرطان ہے اور وہ بھی آخری اسٹیج کا۔ اس کو گاؤں بھیج دو تاکہ چار دن اپنے عزیز اقربا کے ساتھ رہ سکے۔

گاؤں آنے سے ایک دن پہلے بھولا بازار چلا گیا۔ وہاں اچانک طوفانی بارش شروع ہوگئی۔ وہ بارش سے بچنے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا کہ ایک شخص نےاُسے روکا اور بولا۔ یار! تم بھی عجیب آدمی ہو، تمہارے ہاتھ میں چھتری ہے اور تم اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہو ساتھ بھیگ بھی رہے ہو۔ میرے پاس توکوئی چھتری نہیں۔ بھولا حیران تھا۔ اُس شخص نے بھولے کے ہاتھ سے چھتری لی اورکھول کر اُس کو دے دی۔ بھولا جسے عُمربھر لاٹھی سمجھ کر لیے پھرتا تھا، وہ تو چھتری تھی۔ بھولا بڑا خوش ہوا۔ وہ بارش سے محفوظ ہوچُکا تھا۔

کچھ دیر بعد کڑاکے کی دھوپ نکل آئی۔ بھولا چھتری کی چھاؤں میں بازار میں گھومتا پھرا اور بہت خوش ہوا۔ وہ اپنی بیماری سے بےخبر تھا۔ اُسے بس اس بات کی خوشی اور جلدی تھی کہ وہ گاؤں جائے اور سب کو بتائے کہ جسےوہ لاٹھی سمجھ کرعُمر بھر ساتھ لیے پھرتا رہا، وہ تو چھتری ہے، جو اُسے دھوپ اور بارش سے بچاتی ہے۔ مگر…بھولا گاؤں پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرگیا۔ اپنی لاٹھی کا راز بتائے بِنا ہی نیلی چھتری والے کے حضور پیش ہوگیا۔‘‘

داداجی بولتے بولتے تھک گئے تھے۔ اُن کی آواز بہت دھیمی ہوگئی تھی۔ ’’اگرچہ سچ کا کوئی جھوٹ نہیں ہوتا، مگرہرجھوٹ کا ایک سچ ہوتا ہے۔ مَیں عُمر بھر اکلاپے کی دھوپ میں سلگتا رہا۔ دُکھوں، وسوسوں کی بارش میں بھیگتا رہا۔ مجھے ڈھلتے سورج، آدھے چاند کی کبھی سمجھ نہیں آئی، مگر دو مکمل عورتوں نے مجھے ایک آگہی ضرور دے دی کہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کو جسمانی وجود کے ساتھ ایک رُوح کی چھتری دے کر بھیجا ہے اور جب آپ کی رُوح کا رابطہ نیلی چھتری والے کے ساتھ بحال ہوتا ہے، تو یہ چھتری کُھل جاتی ہے۔ پھر آپ وسوسوں کی بارش میں نہیں بھیگتے، یقین کی پناہ گاہ میں چلے جاتے ہیں، بدگمانی، تنہائی کی جھلسا دینے والی زرد دھوپ سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔

تکبّروجہالت کی اندھیرنگری میں بسنے والے اپنے وجود کی چھتری کولاٹھی سمجھ کر زندگی گزار دیتے ہیں۔ عُمر بھر وسوسوں کی بارش میں بھیگتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ بےیقینی، بدگمانی کی زرد دھوپ میں اپنا جیون گزار کر نیلی چھتری والے کےحضور پیش ہوجاتے ہیں۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید