عالیہ شمیم
کچھ نابغۂ روزگار شخصیات رشتوں کے روایتی بندھنوں کی محتاج نہیں ہوتیں، اپنے کردار کی عظمت، خلوص کی خوشبو اور محبّت کی حرارت سے خود رشتے تخلیق کرتی ہیں۔ اُن کا وجود کسی ایک گھر، خاندان یا شہر تک محدود نہیں ہوتا، وہ ہر دل کی دھڑکن میں اپنا ایک مستقل مکان بنا لیتی ہیں۔ اور ہماری امّت الرقیب المعروف ’’خالہ جان‘‘ بھی ایسی ہی ایک شخصیت تھیں۔ وہ واقعی ’’جگ کی خالہ‘‘ تھیں۔ ان سے دل سے محبت کرنے والوں کی تعداد اُن کے حقیقی رشتے داروں سے بھی زیادہ تھی۔
میری اُن سے پہلی ملاقات 2015ء میں ہوئی، جب مجھے صوبۂ سندھ میں شعبۂ نشر و اشاعت کی ذمّے داری سونپی گئی۔ تاہم، اس سے قبل مَیں نے انہیں کئی بڑے پروگرامز میں اسٹیج پر ترانے، نعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ اُن کی آواز میں بے انتہا تاثیر تھی۔ وہ صرف الفاظ ادا نہیں کرتی تھیں، ہر لفظ کو اپنے دل کی کیفیت کے ساتھ زندہ کر دیتی تھیں۔ اُن کے ترانے، جذبہ بے دار کرتے تھے اور نعتیں آنکھیں نم کر دیتیں۔پہلی ملاقات ہی میں مجھے احساس ہوا کہ ان کا اصل وصف اُن کی مترنّم آواز نہیں، بلکہ اُن کا خُوب صُورت دل ہے۔
وہ پیکرِ خلوص و محبت اور چاہتیں عام کرنے کے ہُنر سے بطریقِ احسن آشنا تھیں۔ اُن کی گفتار میں شہد گُھلا تھا، تو تبسّم میں ایک پُرسکون اپنائیت، اور کردار میں ایسی دل کش سادگی تھی کہ پہلی ہی جھلک میں دُوری کی تمام دیواریں مسمار ہو جایا کرتیں۔ محبتیں تقسیم کرنے کا ہنر اُن کی شخصیت کا خاصّہ تھا۔ اُن کی پُرتپاک مسکراہٹ اور شیریں کلامی میں ایک مقناطیسی کشش تھی، جب کہ اُن کے رویّے کی سادگی پہلی ہی ملاقات میں اجنبیت کا احساس ہمیشہ کے لیے مٹا دیتی۔
خالہ جان کی یہ ادا کمال تھی کہ وہ لوگوں کے نام ہمیشہ ذہن میں محفوظ رکھتیں، ہر ایک کو اس کا نام لے کر پُکارتیں، ہر ایک کی خیریت دریافت کرتیں اور ایسی والہانہ محبت سے گلے لگاتیں کہ سامنے والے کو گمان گزرتا کہ شاید کائنات میں وہی اُن کا واحد مرکزِ توجہ ہے۔ بعد میں یہ عُقدہ کھلا کہ دراصل خاص کوئی دوسرا نہیں، بلکہ خاص تو ان کا وہ اعلیٰ ظرف تھا، جو ہر ایک کو اپنی محبّت کی خوشبو سے معطر کر دیتا اور یہ محبّت محض جذباتی نہیں ، عملی ہوتی۔ وہ سفر کرتیں، تھکن برداشت کرتیں، دُور دراز علاقوں میں صرف اس لیے جاتیں کہ کسی کی تربیت ہو جائے، کسی کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو جائے، کسی کا حوصلہ بڑھ جائے۔ اُن کے نزدیک خدمتِ دین صرف ایک ذمّے داری نہیں، عبادت تھی۔
میں اکثر اُنھیں دیکھ کر سوچتی کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو عُمر کے ساتھ ساتھ توانائی بھی عطا کردیتا ہے۔ جہاں اُن کی ہم عُمر بہت سی خواتین جسمانی کم زوری و عمر رسیدگی کی وجہ سے گھر ہی میں محدود تھیں، وہاں خالہ جان مسلسل اسفار، اجتماعات اور ملاقاتوں میں مصروف رہتیں۔ اُن کے چہرے پر کبھی تھکن نہیں دیکھی، زبان سے کبھی شکایت نہیں سُنی۔ ہر ملنے والے کے لیے اُن کے پاس وقت تھا، مسکراہٹ تھی اور دُعا تھی۔ غرض یہ کہ وہ کردار سازی کا چلتا پھرتا ایک مدرسہ تھیں۔
نصیحت ان کی گفتگو میں ہوتی تھی، مگر محسوس نہیں ہوتی تھی۔ محبت سے اصلاح، شفقت سے رہنمائی کرتیں اور خاموشی سے دل بدل دیتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہر عُمر کی خواتین اُنھیں ’’خالہ جان‘‘ کہتی تھیں۔ موت برحق ہے، مگر امت الرقیب خالہ جان محض محبتیں بانٹ کر نہیں، بلکہ بے تحاشا سمیٹ کر اس جہاں سے گئیں۔ ان کی سب سے بڑی کام یابی یہی ہے کہ لوگ انہیں اُن کے اخلاقِ حسنہ سے یاد کر رہے ہیں۔
کسی بھی انسان کی سب سے بڑی کام یابی یہی ہوتی ہے کہ دنیا اُس کے رخصت ہونے کے بعد اُس سے زیادہ اُس کے حُسنِ اخلاق یاد رکھے۔ اُن کی وفات کا صدمہ ایسا ہے، جیسے سر سے کسی شجرِ سایہ دار کی ٹھنڈی چھائوں چھین لی گئی ہو۔ کچھ لوگ دنیا سے جاتے ہیں، تو صرف اُن کے گھر والے سوگوار ہوتے ہیں، مگر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن کے بچھڑنے پر پورا قافلہ اشک بار ہوتا ہے۔
خالہ جان یقیناً ان ہی خوش نصیب اور برگزیدہ لوگوں میں سے تھیں۔ اُن کا سانحۂ ارتحال محض ایک خاندان کا نقصان نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک تحریک اور بے شمار دلوں کا مشترکہ دُکھ ہے۔ اُن کی رحلت کی اطلاع سے اب تک ان کا اُن کا مسکراتا چہرہ، آنکھوں کے سامنے ہے، اُن کا محبّت سے نام لے کر پُکارنا، بے تکلفی سے گلے لگا لینا اور ہر ملاقات کے آخر میں دُعا دینا ہمیشہ یاد رہے گا۔
مَیں نے خالہ جان کو بہت قریب سے تو نہیں دیکھا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ اُن لوگوں میں سے تھیں، جو اپنی گفتگو سے پہلے اپنے عمل سے تربیت کرتے ہیں۔ اُن کی زندگی کا ہر پہلو دعوتِ دین کا عملی نمونہ تھا۔ انہوں نے صرف نصیحت نہیں کی، بلکہ اپنے کردار سے سچائی، اخلاص، ذمّے داری اور استقامت کا سبق دیا۔اُن کی تمام تر جدوجہد کا ایک ہی مقصد تھا ’’غلبۂ دین۔‘‘ خالہ چاہتی تھیں کہ دینِ اسلام، بچیوں کے دِلوں میں رچ بس جائے۔ وہ اس فلسفے پر کامل یقین رکھتی تھیں کہ کل کی مائیں اور صالح معاشرے کی معمار یہی بچیاں ہیں۔
ایک عورت کی درست تربیت اور کردار کی خُوب صُورتی، آنے والی پوری نسل کو سنوار دیتی ہے۔ضعیفی کے باوجودخالہ کا عزم توانا تھا، جواکثر جوانوں کو بھی حیران کر دیتا۔ دُور دراز کے اسفار، مسلسل مصروفیات اور بے شمار ذمّے داریاں کبھی اُن کے حوصلے میں کمی نہ لا سکیں۔ انہیں دیکھ کر بے اختیار دل سے دعا نکلتی تھی کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس محنت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ خالہ جان کسی بڑے سے بڑے شخص سے گفتگو کرتے ہوئے بھی مرعوب نہیں ہوتی تھیں۔
اُن کا لہجہ پُراعتماد اور دبنگ ہوتا، کیوں کہ انہیں اپنے ربّ کے سوا کسی کا خوف نہ تھا اور اتنی عظیم شخصیت ہونے کے باوجود اُن کے مزاج میں بے حد شفقت، خوش اخلاقی اور بذلہ سنجی تھی۔ محفل میں اُن کے برمحل جملے اور ہلکے پھلکے چٹکلے لوگوں کی تھکن دُور کرکے ماحول کو خوش گوار بنا دیتے۔ وہ جہاں بیٹھتیں، محبّت، وقار اور زندگی کی تازگی بکھیر دیتیں۔ مختصر یہ کہ خالہ جان واقعی ایک گوہرِ نایاب تھیں، جن جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ اُن کی خدمات قبول فرماکر اُن کی درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اُن کی قبر کو نور سے بھر دے، اُن کی تمام دینی، دعوتی اور تربیتی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ہمیں بھی ایسا ہی مخلص، محبّت کرنے والا اور لوگوں کے دِلوں میں آسانی پیدا کرنے والا انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔