• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افشاں نوید

کبھی یوں بھی ہوتا ہےکہ تاریخ میں بڑے کارنامے سرانجام دینے پر نہ تو سرکاری تمغے ملتے ہیں، نہ میڈیا کی شہ سُرخیاں بنتی ہیں، یہاں تک کہ عام لوگ تمدّن کے اِن معماروں کے نام تک نہیں جانتے۔ مگر…جب برسوں بعد اُن کےثبت نقوش کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ کسی ایک انسان نے معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصّہ کس شان سے اورکتنا وافر ڈالا تھا۔

اُمت الرقیب بھی ایسی ہی ایک غیرمعمولی خاتون تھیں۔ تین دہائیاں قبل حلقۂ خواتین، جماعت اسلامی کی شورٰی نے مُلک بھرمیں لڑکیوں کے لیےعلومِ دینیہ کے اقامتی اداروں ’’جامعۃ المحصنات‘‘ کے قیام کا منصوبہ منظور کیا تو یہ ایک خواب تھا۔

خواب تو بہت سےلوگ دیکھتے ہیں، مگر خوابوں کو حقیقت بنانے کے لیے جس عزم، استقامت، تنظیمی بصیرت اور انسانی تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتے۔ اُمت الرقیب صاحبہ نے نہ اضافی بجٹ کامطالبہ کیا، نہ وسائل کی کمی کوعُذر بنایا، نہ ایک بڑی ٹیم مانگی۔ اُنہوں نے ذمّے داری کو امانت سمجھا اور اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے سفر شروع کر دیا۔

پھر وہ سفرصرف چند مقامات تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے سندھ کے دیہات، بلوچستان کےسنگلاخ علاقے، خیبرپختون خوا کے پہاڑ، چترال کی وادیاں، پنجاب کےقصبے اور مُلک کے دُورافتادہ گوشےتک چھان مارے۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، وہاں خُود پہنچیں۔ جہاں رکاوٹ آئی، اُسے صبر سے عبور کیا۔ جہاں وسائل کم تھے، وہاں لوگوں کے دل جیت کر وسائل پیدا کیے۔

آج اگر پاکستان کے مختلف شہروں میں انیس جامعۃ المحصنات اپنی باوقار عمارات کے ساتھ کھڑی ہیں، ان کے تحت ہزاروں ذیلی جامعات علم کی روشنی پھیلا رہی ہیں، لاکھوں خواتین دینی تعلیم سے وابستہ ہوئی ہیں، تو یہ کسی ایک تعمیراتی منصوبے کی کام یابی نہیں، بلکہ ایک ایسی خاتون کی بصیرت کا نتیجہ ہے، جس نے اداروں سے پہلے انسانوں پر سرمایہ کاری کی۔

اُن کا کمال صرف عمارتیں کھڑی کرنا نہیں، بلکہ ایک معیار قائم کرنا تھا۔ آپ سندھ کے کسی چھوٹے سے گاؤں کی جامعہ میں چلے جائیں، یا اسلام آباد، لاہور، کراچی یا پشاورکی جامعہ میں، صفائی، نظم، ماحول، تربیت اور تعلیمی معیار میں ایک حیرت انگیز یک سانیت نظر آئے گی اور یہ اتفاق نہیں تھا، بلکہ اُمت الرقیب کے وژن کا عکس تھا۔

اُن کے نزدیک تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام نہیں تھا، بلکہ کردار سازی کا ایک مسلسل عمل تھا۔ اِسی لیے وہ نئی جامعہ کا افتتاح کر کے آگے نہیں بڑھ جاتی تھیں۔ وہ وہاں رہتی تھیں، طالبات کے ساتھ وقت گزارتی تھیں، اساتذہ کی تربیت، وارڈنز کی رہنمائی کرتیں، اُنھیں اخلاق سکھاتیں، صبر، تحمل، نظم اور خدمت کا ذوق پیدا کرتیں۔

وہ چاہتی تھیں کہ سنجھورو کی ایک طالبہ، سنگولائی کی ایک بچّی، چترال کی ایک شاگرد، کراچی، لاہور یا اسلام آباد کی طالبات سب ایک ہی فکر، ایک ہی کردار، ایک ہی نظم اور ایک ہی مقصد کی نمائندہ بنیں۔ یہ نصاب کی وحدت نہیں تھی، نظریے کی وحدت تھی۔

اُنہوں نے صرف جامعات کے قیام میں حصہ نہیں ڈالا، بلکہ ایک ایسا تربیتی نظام متعارف کروایا، جس نےعلم کوکردار، عبادت کوخدمت اور تنظیم کو محبّت سے جوڑ دیا۔ اُن کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف معلومات میں اضافہ نہیں تھا، بلکہ ایسے انسان تیار کرنا تھا، جو اپنے رب سے جُڑے ہوں، اپنے کردار میں پختہ اور معاشرے کے لیے نفع بخش ثابت ہوں۔

جدید انتظامی علوم آج Transformational Leadership کی بات کرتے ہیں۔ ایسی قیادت، جو لوگوں کے اندر سے اُن کی بہترین صلاحیتیں بےدار کردے۔ اُمت الرقیب نے یہ نظریہ کسی کتاب سے نہیں پڑھا تھا، انہوں نے یہ اپنی تنظیمی زندگی سے سیکھا۔ وہ جانتی تھیں کہ حُکم دینے سے کارکن مل سکتے ہیں، مگر محبت دینے سے ساتھی بنتے ہیں۔

سرمایہ، عمارات بنا سکتا ہے، لیکن ادارے صرف کردار بناتے ہیں۔ ایک نسل کو بدلنا ہو تو اس کے نصاب سے پہلے اُس کے دل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ تب ہی آج اُن کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد لوگ اُن کی زندہ دلی، ان کے لگائےتکبیر کے نعرے، طالبات کے ساتھ گنگنائے ترانے یاد کررہے ہیں۔

اُمت الرقیب کو ترانوں سے غیرمعمولی محبّت تھی۔ اُن کے نزدیک ترانےمحض آواز کا حُسن نہیں، ایمان کی حرارت زندہ رکھنے کا ذریعہ تھے۔ وہ ہرجامعہ میں طالبات سے ترانے ضرور سُنتیں۔ اگر آواز میں جذبہ کم محسوس کرتیں تو مُسکرا کر کہتیں۔ ’’ترانہ صرف پڑھا نہیں جاتا، جیا جاتا ہے۔‘‘ پھر خُود نعرۂ تکبیر بلند کرتیں۔ اور پورا ہال جواب دیتا، ’’اللہ اکبر!‘‘۔ وہ منظر دیکھنے والا ہوتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ،جیسے منتشرجذبات ایک مرکز پرجمع ہوگئے ہوں۔

اُن کا مقصد صرف جوش پیدا کرنا نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اللہ کی کبریائی دلوں میں راسخ کرنا چاہتی تھیں تاکہ خدمتِ دین کاسفرمحض ایک تنظیمی ذمّےداری نہ رہے بلکہ عبادت بن جائے۔ وہ اکثرطالبات کے ساتھ یہ ترانہ پڑھتیں۔’’تمہیں تاریخِ اسلامی سےرشتے جوڑنے ہوں گے… بہت سے بن چُکے ہیں سومنات، اب توڑنے ہوں گے۔‘‘یہ اشعاران کے نزدیک محض اشعار نہیں، ایک عہد تھے۔

وہ چاہتی تھیں کہ جامعہ سے نکلنے والی ہر طالبہ اپنے آپ کو ایک بڑے مِشن کا حصّہ سمجھے۔ شاید اسی سوچ کے تحت جامعۃ المحصنات سے فراغت پانے والی ہر طالبہ سے ایک عہد لیا جاتا تھا کہ اُسےزندگی جہاں بھی لے جائے، وہ علم کا چراغ آگے بڑھائے گی۔ اِسی عہد کی برکت سے مُلک کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں ذیلی جامعات قائم ہوتی چلی گئیں۔

یہی وہ باتیں، یادیں ہیں، جو کسی شخصیت کو تاریخ کا حصّہ بنا دیتی ہیں۔ اُمت الرقیب نےشاید کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ اُن کے بارے میں مضامین لکھے جائیں گے یا اُن کی خدمات پر کتابیں مرتب ہوں گی۔ اُنہوں نے تو بس اپنا فرض ادا کیا، خاموشی سے، پورے اِخلاص کے ساتھ، اپنے رب کی رضا کے لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کا اِخلاص قبول فرما لیتا ہے تو پھر اُس کی زندگی خُود ایک پیغام بن جاتی ہے۔

اُمت الرقیب کی زندگی بھی ایک پیغام ہےکہ وسائل کی کمی عذرنہیں ہوتی،اگرارادے مضبوط ہوں۔ یہ پیغام ہے کہ اگر مقصد واضح اور اللہ پر بھروسا کامل ہو، توایک عورت، پورے مُلک کی تعلیمی تاریخ کا روشن باب بن سکتی ہے۔ اور یہ پیغام بھی کہ بڑی عمارات کثیرسرمائے سے، لیکن بڑی تہذیبیں، بڑے انسانوں سے بنتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ اُمت الرقیب کی کامل مغفرت فرمائے، اُن کی مساعیِ جمیلہ کو شرفِ قبولیت عطا ہو، ان کےقائم کردہ علمی وتربیتی سلسلے کو تاقیامت جاری و ساری رکھے، اور ہمیں بھی ایسا اِخلاص، ایسی استقامت اورایسی وسعتِ قلب عطافرمائے، جوانسانوں کو جوڑتی، ادارے بناتی اور معاشروں کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ آمین، یا رب العالمین۔