پاکستان نے اپنی بھرپور کوششوں سے امریکا اور ایران جیسے جانی دشمنوں کو مذاکرات کی میز پر آمنے سامنے بٹھایا، جس میں قطر نے بھی بھرپور معاونت کی۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ اسلام آباد سے سوئیٹزرلینڈ تک دراز ہوا۔ ایران، امریکا چالیس سالہ دشمنی میں ثالثی کی یہ اَن تھک کوششیں کوئی معمولی کارنامہ نہیں کہ جس کےنتیجے میں14 نکاتی میمورنڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر دست خط ہوئے اور دنیا نے سُکھ کا سانس لیا۔
امن کی طرف لَوٹنےکا ایک اشارہ تیل کی قیمتوں سے بھی ملا، جو دورانِ جنگ ایک سو ڈالر سے اوپر رہیں، لیکن مفاہمتی یادداشت پردست خط سے قیمتیں ستّر ڈالر فی بیرل تک گرگئیں۔ آبنائے ہرمز کُھل گئی، ٹینکرزآنے جانے لگے، ٹریڈ کی شروعات ہوئی، بین الاقوامی فلائٹس دوبارہ بحال ہوئیں، لیکن ابھی اس دستاویز کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ میدانِ جنگ پھرگرم ہوگیا۔
چوں کہ مذاکرات متحارب فریقین کےدرمیان ہوتے ہیں، تو اگر وہ ایک دوسرے کو مذاکرات سے پہلے اور بعد میں بھی پکّا دشمن اور ناقابلِ اعتماد سمجھتے ہوں، تو پھر ثالث خواہ کتنی ہی نیک نیّتی سے کام کیوں نہ کرے، مذاکرات کام یاب نہیں ہوسکتے۔ یہی کچھ امریکا اور ایران کے معاملے میں ہورہا ہے۔
ایک طرف مذاکرات کی میز ہے، ملاقاتیں ہیں، اُمیدیں ہیں، تو دوسری طرف میزائل بھی برسائے جا رہے ہیں۔ امریکا، ایران کی تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے اور جواباً ایران، عرب ممالک پر میزائل داغ دیتا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ کی صُورتِ حال نئی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے کہ ایرانی حملوں میں اسرائیل کی بجائےعرب نشانہ بن رہے ہیں۔
لگتا ہی نہیں کہ چند ہفتے قبل کسی مفاہمتی یاداشت پردست خط بھی ہوئے تھے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا کہ بین الاقوامی قانون اُنھیں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ساتھ، ٹریفک پر ٹول لگانے کی بھی اجازت دیتا ہے، جب کہ اُس نے بین الاقوامی ایٹمی معائنہ کاروں کوبھی ایرانی جوہری تنصیبات کے معاینے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ گویا وہ نیوکلیئر معاملے پر کسی بھی بات چیت کے لیے آگے بڑھنے پر آمادہ نہیں، جو جنگ کی جڑہے اور دنیا بھی اِس معاملے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
امریکا کے لیے اصل مسئلہ ایران کا نیوکلیئر پروگرام ہی ہے اور وہاں خواہ کوئی بھی صدر ہو، اِس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا، جب کہ امریکی عوام بھی اِس ایشو پر اپنی حکومت کے ہم آواز ہیں۔ یہی معاملہ یورپ اور باقی دنیا کا ہے، جس میں روس اور چین بھی شامل ہیں۔
یاد رہے، ایران ماضی میں اِن ممالک کےساتھ نیوکلیئر ڈیل کرچُکا ہے اور عالمی ایٹمی انسپکٹرز اُس کی تنصیبات کا معائنہ کرتے رہےہیں۔ ایران نے صدر حسن روحانی کے دَور میں نیوکلیئر ڈیل پر دست خط کر کے وعدہ کیا تھا کہ یورینیم افزودگی کسی صُورت پانچ فی صد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ فوجی رُخ اختیارکرچُکا کہ ایران کے پاسداران اِسے جنگی حکمتِ عملی کے طور پراستعمال کررہے ہیں، تاہم اُنہیں بھی اچھی طرح ادراک ہے کہ اِس آبنائے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی ہیں۔
دنیا کا بیس فی صد تیل یہاں سے گزرتا ہے، دوسرے الفاظ میں، اِس گزرگاہ کا پوری دنیا سے کسی نہ کسی طرح تعلق ہے۔ خود ہمارا تیل بھی اِسی راستے سےآتا ہے، اِسی لیے یہ سوال اُٹھایا جاتا ہے کہ کیا اسلام آباد ایران کو بچاتے بچاتے خُود اقتصادی طور پر ڈوب جائے؟ یہ ممکن نہیں، اِس لیے پاکستان بھی اِس حوالے سے ضرور تحفّظات رکھتا ہے۔ ایران کی ساری برآمدات یہیں سے گزرتی ہیں کہ خلیج اور بحرِہند کے پورٹ نہ ہوں، تو وہ ایک لینڈ لاکڈ مُلک بن جاتا ہے، جس کا مظاہرہ جنگ میں بھی ہو چُکا ہے۔
ٹرمپ کی اپنی عالمی اور اندرونِ مُلک مشکلات ہوسکتی ہیں، لیکن یہ بھی ذہن میں رہے کہ کہیں ایران کی سخت گیری عوامی رائےعامّہ ٹرمپ کے حق میں نہ کردے۔ کون سا ساحلی مُلک چاہے گا کہ پاسداران اُس کی اقتصادی زندگی کا فیصلہ کریں۔ چین بھی اِس کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی روس ایسا کرنے دے گا کہ اُن کی بھی عرب ممالک سے دوستی ہے۔
اِسی لیے ٹرمپ نےمیمورنڈم کے تحت دی گئی رعایتیں ختم کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی، جب ایرانی پاسداران کی طرف سے سعودی آئل ٹینکر پر حملہ ہوا۔ امریکا کے اِن عرب ممالک سے سیکیوریٹی معاہدے ہیں، جن پر عمل درآمد کا وہ پابند ہے اور اُس کے فوجی اڈّے اِسی مقصد کے لیے ہیں۔ ٹرمپ صُبح و شام بیان بدلتے ہیں، لیکن امریکی سیاسی نظام اور حکومت کو معمولی سا بھی جھٹکا نہیں لگا، جب کہ ایران کی اعلیٰ اور فیصلہ ساز قیادت جنگ میں ختم کردی گئی، جس کے سبب وہاں فیصلہ سازی کا خلا ہے، جو مختلف سیاسی بیانات سے نظر بھی آتا ہے۔
صدر ٹرمپ نےایرانی تیل کی برآمد پر دوبارہ پابندیاں عاید کردیں، جس پر اُسے وہی پرانے طریقے، یعنی اسمگلنگ کے ذریعے تیل بیچنا پڑرہا ہے،جس میں 80 فی صد تیل چین خریدتا ہے۔ اب چین کہاں تک ایران کا ساتھ دے سکتا ہے کہ خود اُس کی معاشی رفتار سُست ہوچُکی ہے اوراُس کی تیل کی ضرورت کم پڑتی جا رہی ہے۔ اُدھر روس کی صُورتِ حال تو قطعاً ایسی نہیں کہ وہ بیان بازی سے زیادہ کچھ کرسکے۔
حال ہی میں یوکرین کی جنگ میں جوشدّت آئی اور یوکرین نے اُس پرجو بڑے حملے کیے، اُس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکا اُسے جنگ میں اُلجھائے رکھیں گے اور وہ ایران کی زبانی کلامی مدد سے آگے نہیں بڑھ پائےگا۔ روس کوئی چھوٹا مُلک نہیں ہے، اِسی لیے پانچ سالہ جنگ نےاُس کی معاشی مشکلات میں بےحد اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان میں امریکی عوام کی جانب سے جنگ ختم کرنے کا بہت ذکر ہوتا ہے، بالکل اِسی طرح روس کے شہری بھی بے مقصد یوکرین جنگ سے تنگ آچُکے ہیں۔
وہاں ہلاکتیں اور تباہی بھی بہت ہوئی ہے، جس کا ہمارے ہاں زیادہ ذکر نہیں ہوسکا۔ ویسے جنگ کی اوّلین شرط یہی ہے کہ عوام بھرپور طریقے سے ساتھ ہوں۔ اب ایران میں تو چھے ماہ قبل منہگائی پر ہونے والے احتجاج میں ہزاروں افراد سیکیوریٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہوئے اور روز مبیّنہ غدّاروں کو پھانسی دی جارہی ہے۔
پھر یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکا اور یورپ تو آبنائے ہرمز سے ہزاروں میل دُور ہیں، جب کہ اُن کے پاس توانائی کے متبادل ذرایع بھی ہیں، وہ اب بہت کم مِڈل ایسٹ کے آئل پر انحصار کرتے ہیں، اِسی لیے امریکا جنگ میں زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ اِس معاملے کو ایک زوایے سے دیکھیں۔ روس کی سرحدیں یوکرین اور یورپ سے جُڑی ہوئی ہیں۔
دونوں طرف ایک ہی نسل کے لوگ بستے اور دونوں عیسائیت کے پیروکار ہیں۔ پیٹر دی گریٹ اور ملکہ کیتھرین نے مِل کر تُرک عثمانی سلطنت کو شکست دے کر اُنھیں وسط ایشیا سے باہر نکالا۔ پھر دوسری عالمی جنگ میں بھی وہ مل کر ہٹلر کے خلاف لڑے، مگر امریکا اور یورپ کے ساتھ لڑی جانے والی سرد جنگ میں یہی سوویت یونین سُکڑ کر روس بن گئی۔
یہی عالمی سیاست اور دنیا کے باہمی تعلقات کی کہانی ہے۔ گویا، ؎ ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔ جو تجزیہ کارروس، چین، ایران کے کسی اتحاد کا خواب دیکھتے ہیں، وہ تاریخ پڑھ لیں، تو اُن کی آنکھیں کُھل جائیں۔ کبھی مسلم اتحاد کی طاقت سے اور کبھی غیرمسلموں کواپنا نجات دہندہ بنا کر مسلم ممالک پر حملے کرنا، سیاسی چلن رہا ہے۔ جیسے شام میں ایران اور روس نے مل کر قتلِ عام کیا اور بدترین تباہی مچائی۔ پانچ لاکھ شامی شہری شہید ہوئے، جب کہ آج اسد، روس، ایران اور اُس کی ملیشیاز، مشرقِ وسطیٰ سے باہر ہیں۔
ایران ہر جگہ پسپا ہو رہا ہے۔ جیت اور جارحانہ عزائم کے یہ بیانیے عوام کے لیے تو ہوسکتے ہیں، لیکن میدانِ جنگ کے فیصلے قوّت اور جدید ہتھیار طے کرتے ہیں۔ اِس ضمن میں’’ بیٹل آف پرامڈس‘‘ کا مطالعہ بھی کرلینا چاہیے۔ حالات کو اپنی خوش رنگ عینک سےدیکھنے کا نتیجہ سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم افغانستان میں یہ دیکھ چُکے ہیں۔ کہاں ہے ’’افغان سُپرپاور‘‘اوراس کےمجاہدین۔ اب وہاں دہشت گرد اورپاکستان دشمن ہیں، جو روز ہمارے معصوم شہریوں اور فورسز کے جوانوں کو شہید کرتے ہیں۔
ایک طرف جہاد کے نعرے اور دوسری طرف بھارت سےدوستی، یہ ہے، طالبان حکومت کا اصل چہرہ۔ ویسے ایران کو بھی اپنے دیرینہ دوست، بھارت سے اِتنا تو کہنا چاہیے کہ وہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت اور اُس کی پراکسیز کو پاکستان میں دہشت گردی سے روکے۔ یہ وہی پاکستان ہے، جو مشکل وقت میں ایران کو بچانے کی ہرممکن کوشش کر رہا ہے۔ بھارت، ایران کا گیارہ فی صد اسمگل شدہ تیل خریدتا ہے، جب کہ اُس کی چابہار بندرگاہ اور سات سو میل طویل سڑک بھی اُسی نے بنائی ہے۔
پاکستان معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور اوپر سے احسان فراموش، افغان طالبان حکومت، دوحا معاہدے کے باوجود، دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم اورفیلڈمارشل اندرون مُلک مشکلات کے باوجود، ایران کو مشکل حالات سے نکالنے کے لیے سرگرم رہے، تو اب ایران کو بھی جواباً کچھ کرنا چاہیے کہ قطر توحالیہ ایرانی ڈرون حملوں کے بعد ثالثی سےدست بردار ہی ہوچُکا۔
سعودی عرب، کویت، یو اے ای، اومان اور قطر نے ایرانی حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے پہلی مرتبہ کہا کہ وہ بھی جوابی کارروائی کا حق رکھتے ہیں۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آبنائے ہرمز خطّے کے تمام ساحلی ممالک کی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی ایک مُلک اس کا پولیس مین بن جائے اور فوجی طاقت سے سب کا دانہ پانی بند کردے۔ خلیجی ممالک میں نہ صرف مسلمان رہتے ہیں، بلکہ یہ اسلامی دنیا کے لیڈر ہیں۔ افغان تنازعہ ہو یا ایران کا معاملہ اور شام کا بحران، قطر، یو اے ای اور دوسرے عرب ممالک نے امریکا، یورپ، چین اور روس سے اپنی دوستی کے ذریعے معاملات حل کروائے۔
جس کے جواب میں اڈّوں کا بہانہ بنا کر اُن ہی کے شہروں پر میزائل، ڈرون حملے اور کاروبار تباہ کرنا کسی بھی اعتبار سے اچھی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ اِن عرب ممالک میں لاکھوں مسلمان ملازمت کرتے ہیں، جن کی بھجوائی گئی رقوم سے کروڑوں گھرچلتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کی معیشت اِنہی عربوں کےدئیے گئے قرضوں یا پھر وہاں سے آنے والے زرِمبادلہ پر منحصر ہے۔ اب ان سب کو اپنی بقا کے نام پر خطرے میں ڈالنے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر لیا جائے۔
امریکا کہیں جارہا ہے، نہ ہی عرب مُلک اور ایران، اِس لیے بقائے باہمی کا اصول پیشِ نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ ویسے بھی دنیا آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران کا مؤقف تسلیم نہیں کررہی کہ عالمی سمندری قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔ کیا ایرانی حکومت یا سخت گیر کوئی الگ دنیا بسانا چاہتے ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ اور عرب ممالک کے علاقائی پارٹنر ہیں، چین اور روس کے نہیں۔ کیا کوئی اِس امر کی اجازت دے گا کہ بھارت، بحرِہند سے آمد ورفت پر پابندی عاید کردے کہ اُس کا نام بحرِہند ہے اور بھارت کے تقریباً دس پورٹ اس کے ساحلوں پرہیں۔
یاد رہنا چاہیےکہ اصل اہمیت ریاست کی ہوتی ہے، حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں۔ مصر میں کل جمال ناصر کی روس نواز سوشلسٹ حکومت تھی، آج امریکن حلیف حکومت ہے۔ کل شام میں اسد خاندان تھا، آج احمد الشرح برسرِاقتدار ہیں۔ یہاں پاکستان میں مسلم لیگ نون، پی پی پی، پی ٹی آئی اور فوجی حکومتیں رہی ہیں۔
بنگلا دیش اور بھارت میں بھی یہی ہوتا ہے۔ خُود ایران میں چالیس سال بادشاہت رہی، اب مذہبی حکومت ہے، لیکن ایران کی ریاست اور عوام ہزاروں سال سےہیں۔ اُن کے مذہبی اعتقادات، حُکم ران اور تہذیبیں بدلتی رہیں۔ کبھی سائرسِ اعظم کی حکومت تھی، تو کبھی زرتشت، بادشاہت اور اسلامی حکومت۔
ایران اِس وقت سخت مشکل میں ہے، ویسے یہ مشکل تیس سال سےب رقرار ہے، جس کا ثبوت ہر صدارتی الیکشن ہے، جن کا موضوع اقتصادی اصلاحات رہا۔ حسن روحانی سے موجودہ صدر تک یہی صُورتِ حال ہے۔ ایرانی کرنسی اپنی وقعت کھوچُکی، تیل اسمگل کرنا پڑتا ہے، جس کےصرف دو خریدار چین اور بھارت ہیں یا پھر اسمگلنگ کے ذریعے بلوچستان میں فرخت کیا جاتا ہے۔ ایرانی عوام کے لیے بیرونِ ممالک سفر مشکل بنا دیا گیا۔
زیادہ تر ممالک نےپاسدارانِ انقلاب پر پابندیاں عاید کررکھی ہیں اور اسے ملیشیا کا اسٹیٹس دیا گیا ہے۔ ایران میں بےروزگاری کی شرح ساٹھ فی صد اور افراطِ زر80 فی صد ہے۔ اِن حالات میں جو بھی ایران سے محبّت کرتا ہے، وہ چاہے گا کہ پہلے اُس کے عوام کو اِس معاشی اذیّت سے نجات ملے۔ ہم خُود گزشتہ دس سال سے معاشی مسائل بھگت رہے ہیں اور عوام جانتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی بحران، ہمارے لیے عذاب بن جاتا ہے۔
ہم آئی ایم ایف کی غیر منصفانہ اورعوام دشمن شرائط ماننے پر مجبور ہیں۔ اِس لیے اپنے ایرانی بھائیوں کے معاشی دُکھ درد اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ پاکستانی قیادت نے ثالثی بھی یہی سوچ کر کی ہوگی کہ اپنے ایرانی بھائیوں کو اِس معاشی عذاب سے نکال کر دنیا کے خوش حال ممالک کی صف میں لائیں۔اردگرد کے عرب ممالک دیکھیں، وہ نہ صرف امیر ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں، بلکہ لاکھوں لوگوں کو ملازمتیں بھی دیتے ہیں اوراِس طرح کتنی دُعائیں لیتے ہوں گے۔
اس کے برعکس، ایرانی معیشت کی زبوں حالی نے اُس کے عوام کے لیےخوش حالی کے تمام دروازے بند کر دیئے ہیں۔ صرف زمین یاحکومت ہی کی بقا ناگزیر نہیں ہوتی، عوام اورقوم کی بھی ہوتی ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے، قدرت نےاُسے اِس عطیے سے نوازا تاکہ ایرانی عوام بلند معیاِر زندگی حاصل کرسکیں۔ یہ صرف نصیحتیں نہیں، بلکہ معاشی اور زمینی حقائق ہیں۔
ایرانی حکومت میں سمجھ دار افراد کی کمی نہیں، حالیہ ماضی میں حسن روحانی اِس کی ایک بڑی مثال ہیں، جنہوں نے نیوکلیئر ڈیل کر کے دنیا کو دِکھایا کہ ایران واقعتاً ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، وہ دنیا کے ممالک سے معمول کے تعلقات رکھنابھی چاہتا ہے اور اُس میں اس کی صلاحیت بھی ہے۔ ایرانی عوام میں زبردست ٹیلنٹ ہے، وہ صرف تیل پر انحصار نہیں کرتے، اُنہوں نے اپنی اقتصادیات کو مختلف جہتوں میں ترقّی دی ہے۔
انڈسٹری مضبوط کرچُکے ہیں۔ اُنہیں امن مل جائے، تواِس میں کوئی دورائےنہیں کہ وہ جلد علاقے کے ترقّی یافتہ ممالک میں شامل ہوسکتے ہیں۔ سو، آبنائے ہرمز اور نیوکلیئر ڈیل جیسے معاملات بین الاقوامی اصولوں کے ذریعے طے کرنے چاہئیں کہ اِسی میں دنیا اور خطّے کی عافیت و بھلائی ہے۔