امریکا/ اسرائیل، ایران جنگ میں پاکستان نے سفارت کاری کے میدان میں جو غیر معمولی کام یابیاں حاصل کیں، اُن کے سبب عالمی سطح پر اسلام آباد کا گرتا امیج یک دَم بلند ہو گیا۔ جو کل تک پوچھتے نہیں تھے، اب آگے پیچھے گھومتے ہیں۔ آج پاکستان، مشرقِ وسطیٰ میں سفارت کاری کا ایک بااعتماد کھلاڑی ہے۔ جنگی سفارت کاری، عالمی امور میں پیچیدہ ترین تصوّر کی جاتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کو ختم یا زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے درپے ہوتے ہیں۔
پھر ایران کی اسرائیل اور امریکا سے جس نوعیت کی نفرت اور دشمنی ہے، اس پس منظر میں مفاہمت کی کوئی راہ نکالنا، آمنے سامنے بٹھانا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک عالمی بحران کی صُورت اختیار کی، جسے زیادہ عرصے تک برداشت کرنا کم زور معیشتوں کے لیے ممکن نہیں۔ خُود پاکستان ایک تَنی رَسی پر چل رہا ہے۔
ایک طرف پڑوسی ایران، تو دوسری طرف برادر عرب ممالک، جو نہ صرف دوست، حلیف اور دفاعی پارٹنر ہیں، بلکہ ساٹھ لاکھ پاکستانیوں کے روزگار کا مرکز بھی۔ ایسی پیچیدہ صُورتِ حال میں پاکستان کا امریکا، ایران، عرب اور باقی دنیا کا اعتماد حاصل کرکے سہولت کاری کرنا، بلاشبہ عالمی سطح پر داد کا مستحق ہے۔ پھر ٹرمپ کی بار بار تعریفیں اور ایران کی جانب سے بار بار شکریے کے پیغامات بھی بہت معنی رکھتے ہیں۔
اگر پاکستان کے عوام اِس پیش رفت پر خوش اور مطمئن ہیں، تو یہ اُن کا حق ہے۔ تاہم، اِن کام یابیوں کے بیچ یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ خُود پاکستان کو بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم کم زور معیشت اور آئی ایم ایف سے چھٹکارا پانا ہے۔ دوسری طرف، مغربی اور مشرقی سرحد پر غیر معمولی تناؤ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ افغانستان جس کے کل ہم قریبی دوست اور برادر تھے، وہ آج میدانِ جنگ میں ہمارا مقابل ہے۔
اُس کی سرزمین ہمارے دشمنوں اور دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن ہوئی ہے، جن کی وہ مکمل سرپرستی کرتا ہے۔ ہمارے سارے احسانات، فراموش کردئیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، جب سے مودی کا اقتدار قائم ہوا ہے، مسئلۂ کشمیر پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، اِس ضمن میں مودی حکومت کا وہ غیر قانونی اقدام بھی شامل ہے، جس کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا ڈراما رچایا گیا۔
اِسی طرح بھارتی ہٹ دھرمی سے سندھ طاس معاہدہ بھی خطرناک رُخ اختیار کرچکا ہے۔ نیز، ایرانی سرحد سے غیر قانونی اسمگلنگ بھی ہماری قومی معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ حکومتیں دہائیوں سے دوستی کے نام پر ایک غیر قانونی سرگرمی سے صرفِ نظر کرتی چلی آ رہی ہیں۔ کم زور معیشت نے ہمیں کبھی غور کا موقع ہی نہیں دیا کہ ایران سے ایک ارب سے زیادہ کا تیل اسمگل ہوتا ہے، جو مُلکی ضرورت کے تیس فی صد کے قریب ہے۔
اُدھر، افغانستان سے ملحقہ بائیس سو کلو میٹر طویل سرحد غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دہشت گرد اُسے پار کرکے بے گناہ پاکستانیوں کو نشانہ بناتے ہیں اور دوبارہ اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ جاتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں اسمگلر آزادانہ گھومتے پِھرتے ہیں اور یہاں کچھ نادان، بھائی چارے کے نام پر اُن کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ بہرکیف، سوال یہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں غیر معمولی کام یابی کے بعد کیا یہ ممکن نہیں کہ علاقائی صُورتِ حال کے استحکام کے لیے بھی فوری کام شروع کیا جائے؟
گزشتہ دنوں پاکستان اور بھارت کی117 ممتاز شخصیات نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے نام ایک کُھلا خط جاری کیا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان ممتاز شخصیات میں مقبوضہ کشمیر کے فاروق عبداللہ، منوج جھا، اشرف جہانگیر قاضی، خورشید قصوری، میر واعظ عُمر فاروق، ہمایوں کبیر، پرویز ہود بھائی وغیرہ شامل ہیں۔
’’سینٹر فار پیس اینڈ پروگریس‘‘ کی جانب سے جاری کردہ اِس خط پر دست خط کرنے والے افراد میں سے 61بھارت اور56 پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ شخصیات سفارت اور سیاست میں اہم مقام کی حامل ہیں۔ دنیا میں ان کی پہچان ہے اور انہیں مُلکی ضروریات اور خطرات کا ادراک بھی ہے۔ ان پر تعصّب یا طرف داری کا الزام لگانا بھی مشکل ہے۔ اب اگر یہ شخصیات بھی قابلِ بھروسا نہیں، تو کیا پھر فرشتے آکر سفارت کاری کریں گے۔
اِن افراد کی آواز پر کان دھرنا ہی دانش مندی ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلسل کشیدگی سے یہاں کی نوجوان نسل کو غیر معمولی نقصان پہنچ رہا ہے، ان کی صلاحیتیں برباد ہورہی ہیں، دشمنی اور نفرت تخلیقی جوہر نگل رہی ہے۔
یاد رہے، بھارت اور پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد لگ بھگ ساٹھ فی صد ہے۔ ان نام وَر شخصیات کا سوال یہ تھا کہ کیا موجودہ نسل کو اپنی آئندہ نسل تک امن کی بجائے جنگ اور کشیدگی منتقل کرنی چاہیے۔ کیا 75 سال کی دشمنی کافی نہیں، جو یہ سلسلہ مزید جاری رکھا جائے؟
کیا اِن نوجوانوں کا حق نہیں کہ وہ بھی دنیا کے دیگر ممالک کے نوجوانوں کی طرح ترقّی کریں، اِنہیں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں اور یہ بھی اپنے ممالک کو سنوار کر اُنھیں ترقّی دے سکیں۔ بھارت اور پاکستان کے نوجوان دنیا میں سب سے زیادہ نقل مکانی کرنے والوں میں شامل ہیں۔ یہاں تک کہ بعض عرب ممالک میں تو ان کی تعداد مقامی عرب آبادی سے بھی زیادہ ہو چُکی ہے۔
ان نوجوانوں نے اپنی محنت سے اُن ممالک کو گل و گل زار بنا دیا اور اگر یہی مواقع اُنہیں اپنے ممالک میں مل جائیں، تو وہ یہاں بھی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں کہ یہاں سے کچھ ہی دُور جنوب مشرقی ایشیا ترقّی کا جزیرہ ہے اور مغربی ایشیا بھی ہم سے بہتر ہے۔ اِن ممالک کی ہم صرف مثالیں ہی دیتے رہتے ہیں، مگر کرتے کراتے کچھ نہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم معاملہ کشمیر کا ہے۔ اِس ضمن میں اقوامِ متحدہ کا روڈ میپ موجود ہے، جس پر عمل درآمد سے یہ تنازع حل ہوسکتا ہے، مگر دہائیاں گزرنے کے باوجود اِس سمت کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی کہ اِس طرح کے منصوبوں پر عمل درآمد کے لیے بڑے حوصلے اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ بارہا پیش کش کرچُکے کہ وہ دونوں ممالک کی رضامندی پر ثالثی کے لیے تیار ہیں، لیکن بھارت یہ پیش کش قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ چین بھی، جو بھارت کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے علاقے میں امن چاہتا ہے۔
گو کہ روس ہمیشہ بھارت کے قریب رہا، لیکن یوکرین سے جنگ کے بعد معاشی کم زوری اور افغانستان میں دہشت گردوں کو پناہ دینے کی طالبان پالیسی کے بعد وہ بھی یہی چاہے گا کہ بھارت امن کی طرف جائے۔ ایران ہمارا دوست ہے، تو اُس کے بھارت سے بھی گہرے اور ٹھوس تعلقات ہیں، جن میں کبھی دراڑ نہیں آئی۔
بھارت نے اُس کی چا بہار پورٹ بنائی، تو ایران بھی پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے خاتمے کو ترجیح دے گا۔ ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں بھارت بھی شامل تھا، مگر پھر کشیدگی کی وجہ سے وہ الگ ہوگیا۔ اگر اعتماد سازی ہوجائے، تو اِس طرح کے منصوبوں سے تینوں ممالک مستفید ہوسکتے ہیں اور ایسے ہی اقدامات کو’’علاقائی تعاون‘‘کہا جاتا ہے۔
پاکستان کا شمار اِس وقت دنیا کے معاشی طور پر کم زور ممالک میں ہوتا ہے۔ ہم نے حالیہ دنوں میں دیکھا کہ مُلک تین ماہ بھی تیل کے جھٹکے برداشت نہیں کرسکا۔ اوپر سے منہگائی نے عوام کو بے حال کر رکھا ہے۔ پھر بجلی اور گیس کے بلز نے رہی سہی کسر پوری کردی۔ حُکم ران آئے دن ریلیف کے جھانسے دیتے ہیں، لیکن عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔
مستقبل کے سہانے خواب تو دِکھاتے ہیں، مگر اُن کی تعبیر دُور دُور تک نظر نہیں آتی اور دنیا ہم پر ہنستی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ عالمی رینکنگ میں نیچے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ حالت یہ ہوچُکی کہ عراق جیسا تباہ حال مُلک بھی ہمارے ہاں سے جانے والے زائرین کو مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے اور اُنہیں چند دنوں سے زیادہ قیام نہیں کرنے دیتا۔ ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع صرف مغربی ممالک یا عرب دنیا ہی میں نظر آتے ہیں اور یہاں اداس اداس پِھرتے ہیں۔
اِن حالات میں سوال تو بنتا ہے کہ پھر شہر شہر یہ یونی ورسٹیز کس کے لیے کھول رہے ہیں اور لیپ ٹاپ اسکیمز کس کے لیے ہیں۔ یہاں تو سب سے بہتر کاروبار مفت کھانا کھلانا ہے، جو بھکاریوں کی فوج کی فوج تیار کر کے محنت مزدوری کو ممنوع بنا رہے ہیں۔ اگر ساری بھاگ دوڑ سے مُلک کو کچھ نہیں ملنا، ترقّی نہیں ہونی، برین ڈرین جاری رہنا ہے، تو یہ معاشی، سفارتی اور علاقائی پالیسیز کس کام کی ہیں۔
ہمارے چاروں اطراف ترقّی کا شور ہے۔ ہم سے الگ ہونے والے بنگلا دیش کی معیشت کا حجم ہم سے دُگنا اور زرِ مبادلہ کے ذخائر چار گُنا ہوچُکے ہیں۔ اور ہم صرف اس پر ہی خوش ہیں کہ وہاں یہ حکومت آگئی، وہ چلی گئی۔ دنیا میں دوستی مفادات کے تحت ہوتی ہے، نہ کہ صرف تعریفیں سُننے کے لیے۔ اگر حُکم ران واقعتاً عوام کے نمائندے ہیں، تو عملاً بن کر بھی دِکھائیں۔
جن معزّز شخصیات نے پاک، بھارت وزرائے اعظم کے نام کُھلا خط لکھا ہے، وہ کسی نہ کسی مرحلے پر مفاہمتی کوششوں کا حصّہ رہ چُکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کون سی ڈور پہلے ہلائی جائے، تو بات چیت کی شروعات ہوسکتی ہے۔ فرانس اور جرمنی ایک صدی تک جنگ لڑتے رہے، لیکن آج مثالی دوست اور یورپی یونین کے سب سے مضبوط ستون ہیں۔ اسپین اور برطانیہ میں خوف ناک جنگیں ہوئیں، مگر آج پکّے دوست ہیں۔
تُرک عثمانی خلافت کے خاتمے میں برطانیہ، روس اور فرانس کا کردار کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ برطانوی جنرل ایلن نے 1919ء میں گیارہ سو سال بعد یروشلم سے مسلمانوں کی حُکم رانی کا خاتمہ کیا، جب تُرک فوجوں کو شکست ہوئی، لیکن آج تُرکیہ، نیٹو کا اہم رُکن ہے، جب کہ اس کے اسرائیل سے بھی سفارتی تعلقات ہیں۔ ہم صدر اردوان کی تعریفیں تو کرتے ہیں، لیکن اُن سے سیکھتے کچھ نہیں۔ تُرکیہ کی خارجہ پالیسی کا ستون تمام ممالک سے دوستی ہے۔
وہ نیٹو میں یورپ اور امریکا کے ساتھ ہے، تو او آئی سی میں اسرائیل کے خلاف توانا آواز۔ ایران جنگ میں ثالث ہے، تو غزہ میں پیس بورڈ کا رُکن بھی۔ یہاں بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ ایران اور بھارت باہم بہت قریب ہیں۔ بھارت ہمارے ٹکڑے کرچُکا، ہم سے کئی جنگیں لڑ چُکا، لیکن اِس کے باوجود ایران، بھارت دوستی میں ذرّہ بھر فرق نہیں آیا۔
اُدھر افغانستان کی بیک وقت بھارت، چین اور روس سے دوستی ہے۔ بنگلا دیش بھی بھارت سے اپنے تعلقات ری سیٹ کر رہا ہے۔ اِسی طرح چین اور روس کے عربوں سے بہتریں تعلقات ہیں، تو اسرائیل کے اسٹریٹیجک پارٹنر ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ دنیا میں اپنے مفادات کی بنیاد ہی پر کسی سے دوستی، دشمنی کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور پاکستان کو بھی خطے میں اِسی بنیاد پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینی چاہیے۔
پاکستان میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی کے واقعات ہیں۔ افغان طالبان آج بھارت کی گود میں بیٹھ کر ہم پر وار کر رہے ہیں۔ ایک عسکری فلسفی نے کہا تھا کہ’’دشمن کو بغیر لڑے شکست دینی ہو، تو اُس سے دوستی کر لو۔‘‘پاکستان کی موجودہ قیادت نے عالمی سطح پر کام یاب سفارت کاری کا مظاہرہ کیا، جس کی پوری دنیا معترف ہے۔ اِسی پس منظر میں اِن117 معزّز شخصیات کی توقّعات بڑھیں کہ موجودہ قیادت میں وہ حوصلہ، لچک اور سفارتی مہارت موجود ہے، جو پاکستان کے مفادات آگے بڑھا سکتی ہے۔
یہ قیادت بھارت کے داؤ پیچ سمجھتی ہے اور اسے عالمی لیڈرشپ کی سپورٹ بھی حاصل ہے، تو اگر وہ بھارت سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے پیش رفت کرتی ہے، تو کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان کو نقصان ہو۔ سب مسئلۂ کشمیر اور اس کی پیچیدگیوں سے واقف ہیں، جب کہ پاکستان اور بھارت کا ایٹمی طاقت ہونا بھی اُن کی نظر میں ہے۔ گلے شکوے، شکایات اور الزامات اپنی جگہ، مگر اب دونوں ممالک کی لیڈر شپ کو خطّے اور اپنے عوام کی ترقّی کے لیے لچک دِکھانی ہوگی۔ ’’کچھ لو، کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔
پاکستان کوئی کم زور فریق نہیں ہے، اِس لیے مودی حکومت کو کوئی غلط قدم اُٹھانے سے پہلے سو بار سوچنا ہوگا۔ ویسے وہ بھی دنیا یا علاقائی پارٹنرز کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ پھر دہشت گردی کا، جو بھارت کا مرکزی نکتہ ہے، سب سے بڑا شکار تو پاکستان ہے۔ جس طرح افغان سرزمین ایک بار پھر دہشت گردوں کی آماج گاہ بن رہی ہے، ایسے میں خود بھارت کا مفاد بھی یہی ہے کہ وہ بنیادی معاملات طے کرنے میں جلدی کرے۔
پاکستان اور بھارت کے عوام، سب سے بڑھ کر کر نوجوان، اِس کشیدگی سے نقصان اُٹھا رہے ہیں۔ یہ دونوں ممالک مل کر دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہیں۔ ان کے پاس نوجوان ٹیلنٹ ہے۔ اِن کے شہری بیرونِ مُلک مل جُل کر کام کرتے ہیں اور اُن ممالک کو خوش حال بناتے ہیں، جب کہ ان کا اپنا خطّہ پس ماندگی اور غربت میں گِھرا ہوا ہے۔
مودی حکومت کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ اب ایک نیا پاکستان اُس کے سامنے ہے، جس کی قیادت عالمی اور علاقائی مسائل کا ادراک رکھتی ہے، جسے دنیا کی پُشت پناہی بھی حاصل ہے۔ اِس لیے یہ بہترین موقع ہے کہ دونوں ممالک برابری کی سطح پر پیش رفت کرتے ہوئے اپنے 165 کروڑ عوام کی ترقّی و خوش حالی کے سفر کی بنیادیں رکھ دیں۔