بھارت میں تعلیمی اصلاحات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
طلبہ، والدین اور سماجی کارکنوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا، جبکہ متعدد مظاہرین نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے پر طلبہ، والدین، سیاسی و سماجی کارکنوں نے بھارتی پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس نے مارچ کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد طلبہ نے احتجاج کا اعلان کیا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگ چک کو زبردستی گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے وزیرِ تعلیم کے ساتھ ساتھ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔