• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکیہ میں قبل از وقت انتخابات، کیا اردوان دوبارہ صدارتی انتخاب لڑیں گے؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

ترکیہ میں اگر قبل از وقت انتخابات کروائے گئے تو ترک صدر رجب طیب اردوان 2028ء میں دوبارہ صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ میں قبل از وقت انتخابات ممکنہ طور پر 16 اپریل 2028ء کو کروائے جا سکتے ہیں۔

رپورٹ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے مشیر مہمت اوچم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے 600 میں سے 360 ارکان نئے انتخابات کے حق میں ووٹ دیتے ہیں تو انتخابات 16 اپریل 2028ء کو منعقد ہو سکتے ہیں۔

ترکیہ کے موجودہ قانون کے تحت صدارتی انتخابات معمول کے مطابق مئی 2028ء میں ہونے ہیں، تاہم آئین پارلیمنٹ کو قبل از وقت انتخابات کروانے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ اس اقدام کے لیے 360 ارکان کی حمایت حاصل ہو۔

رجب طیب اردوان کی حکمراں جماعت ’اے کے پی‘ اور اس کی قوم پرست اتحادی جماعت ’ایم ایچ پی‘ کے پاس پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر 326 نشستیں ہیں، اس لیے قبل از وقت انتخابات کی منظوری کے لیے انہیں مزید 34 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

قبل از وقت انتخابات سے متعلق قیاس آرائیوں میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب ترک صدر نے گزشتہ ہفتے اپنے آبائی صوبے ریزے میں خطاب کے دوران آنے والے انتخابات کا ذکر کیا۔

بعد ازاں حکمراں جماعت اے کے پی کے ترجمان عمر چیلیک نے وضاحت بھی دی کہ رجب طیب اردوان کے اس بیان کو قبل از وقت انتخابات کا اشارہ نہیں سمجھا جانا چاہیے اور فی الحال حکومت کے ایجنڈے میں کوئی انتخاب نہیں ہے۔

علاوہ ازیں ترکیہ میں حزبِ اختلاف کے رہنما اوزگور اوزیل بھی 2025ء سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن 2028ء کے ممکنہ صدارتی انتخاب میں حزبِ اختلاف کی جانب سے امیدوار کون ہو گا؟ اس بارے میں فی الحال صورتِ حال واضح نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان 2003ء میں وزیرِ اعظم بن کر اقتدار میں آئے تھے اور پھر 2014ء میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

ترکیہ میں صدارتی نظام نافذ ہونے کے بعد وہ 2018ء اور پھر 2023ء میں دوبارہ صدر منتخب ہوئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید