• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

2 ہزار یہودی مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں زبردستی داخل، نمازیوں کا داخلہ روک دیا

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

مقبوضہ مشرقی القدس میں آج صبح سے تقریباً 2300 اسرائیلی آبادکار مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں زبردستی داخل ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ رواں سال کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے، یہ واقعہ ایک یہودی مذہبی تہوار تشا بِآؤ کے موقع پر پیش آیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہودی مذہبی تہوار تشا بِآؤ یہودی روایات میں مبینہ طور پر ہیکل کی تباہی کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ مقام مسلمانوں کے نزدیک مسجدِ اقصیٰ جبکہ یہودیوں کے نزدیک ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی سخت پولیس سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔

یروشلم گورنریٹ کی فلسطینی انتظامیہ کے مطابق مقدس مقام میں داخل ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد غروبِ آفتاب تک مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ کے داخلی راستوں اور القدس کے قدیم شہر کے اطراف سخت سیکیورٹی پابندیاں نافذ کر دیں، جبکہ احاطے میں بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے اور فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

گورنریٹ کے مطابق صرف محدود تعداد میں فلسطینی فجر کی نماز کے لیے مسجدِ اقصیٰ پہنچنے میں کامیاب ہوئے، تاہم اسرائیلی فورسز نے متعدد نمازیوں اور مقامی شہریوں پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید