بھارتی شہر ممبئی میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ احتجاج کے دوران 27 سالہ ماڈل ریا آہر نے گرفتار طلبہ کو لے جانی والی پولیس وین کے سامنے کھڑے ہوکر اسے رکنے پر مجبور کردیا۔
ریا آہر بدھ کے روز ممبئی کے علاقے دادر کے شیواجی پارک میں احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں، جہاں مظاہرین وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریا نے بتایا کہ جب وہ احتجاجی مقام کی طرف جا رہی تھیں تو اس نے ایک پولیس وین دیکھی جو طلبہ سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، جس پر میں نے پولیس اہلکاروں سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس گرفتاری کا وارنٹ ہے، لیکن ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ریا کے مطابق اسی لمحے میں نے وین کے سامنے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا کیونکہ اگر میں خاموش رہتی تو ایک باشعور شہری ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر پاتی۔
بھارتی ماڈل نے اپنے اس عمل سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ مجھے یقین تھا کہ پولیس غلط کر رہی ہے۔ احتجاج میں آنے والوں کو اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔
ریا کے مطابق جب میں وین کے سامنے کھڑی ہوئی تو راہ گیر بھی میرے ساتھ شامل ہوگئے۔ لوگوں نے "انقلاب زندہ باد" اور "دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو" کے نعرے بھی لگائے، ہماری جانب سے مزاحمت کے بعد زیرِ حراست طلبہ کو رہا کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اپنی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے ریا نے کہا کہ لوگ اکثر نوجوان نسل پر ہر وقت ویڈیوز بنانے کا الزام لگاتے ہیں، مگر ایسے واقعات میں موبائل فون کا کیمرہ اہم ثبوت بن جاتا ہے۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے طلبہ کے خلاف کارروائی کو "سنگین غلطی" قرار دیتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ریا آہر کا کہنا تھا کہ مجھے عوام کی جانب سے بڑی تعداد میں تعریفی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جسے میں اپنے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی سمجھتی ہوں۔