• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی انفلوئنسر کو صحت سے متعلق مشورہ دینا مہنگا پڑ گیا، مقدمہ درج

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

بھارتی سوشل میڈیا ہیلتھ انفلوئنسر ویرا ماچینینی رام کرشنا المعروف وی آر کے کو صحت سے متعلق مشورے دینا مہنگا پڑ گیا، ہیلتھ انفلوئنسر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وی آر کے کے خلاف اس وقت مقدمہ درج کیا گیا جب ان کی ٹائپ 1 ذیابیطس کے مکمل علاج سے متعلق ایک ویڈیو وائرل ہو گئی۔

وائرل ویڈیو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’وی آر کے ڈائٹ پلان‘ سے ٹائپ 1 ذیابیطس کا مکمل اور مستقل علاج ممکن ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلتھ انفلوئنسر کے خلاف مقدمہ 30 سالہ قانون کے طالب علم کلیڈا سائی کرشنا کی شکایت کے بعد درج کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کلیڈا سائی کرشنا کی شکایت پر وی آر کے اور ڈاکٹر کوٹیشورا راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

طالب علم نے الزام عائد کیا ہے کہ وی آر کے کے ہیلتھ سینٹر سے ملنے والے مشورے کے نتیجے میں اس نے ٹائپ 1 ذیابیطس کے لیے انسولین لینا بند کر دی تھی۔ 

کلیڈا سائی کرشنا کو 2018ء سے ٹائپ 1 ذیابیطس ہے اور وہ روزانہ انسولین پر انحصار کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ستمبر 2025ء میں حیدرآباد کے وی آر کے ہیلتھ کیئر سینٹر جانے سے قبل میں نے ایسی ویڈیوز دیکھی تھیں جن میں ’وی آر کے ڈائٹ‘ کو ٹائپ 1 ذیابیطس کے مستقل علاج کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

شکایت کے مطابق وی آر کے نے زبانی طور پر انسولین بند کرنے کا مشورہ دیا اور ممکنہ مضر اثرات سے آگاہ نہیں کیا تھا، طالب علم نے اس ڈائٹ پلان اور سپلیمنٹس کے لیے تقریباً 26 ہزار بھارتی روپے ادا کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق مرکز کا دورہ کرنے کے 2 روز بعد طالب علم کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں ذیابیطسی کیٹو ایسڈوسس (DKA) اور شدید پانی کی کمی کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا، بعد ازاں علاج کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید