بھارت کی ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں خاندانی تنازع اور جنس کی تبدیلی کی مخالفت کرنے پر بیٹے نے اپنی ماں کو قتل کردیا، ملزم نے پہلے ہی چیٹ جی پی ٹی سے سزاؤں سے متعلق معلومات جمع کی ہوئی تھیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم خود کو لڑکی تسلیم کرتا تھا اور جنس تبدیلی کی سرجری کروانا چاہتا تھا جبکہ اس کی ماں اور اہلخانہ سرجری کے بجائے طبی اور نفسیاتی کونسلنگ پر زور دے رہے تھے۔
پولیس کے مطابق اسی بات پر دونوں کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا تھا۔
پولیس کو ملزم کی ڈائری سے قتل کی منصوبہ بندی کے شواہد ملے ہیں، جس میں پانا، مرچ پاؤڈر اور گرم پانی کے استعمال کا ذکر لکھا ہوا تھا۔ ملزم جمعرات کے روز گھر پہنچا اور بحث بڑھنے پر ماں کے سر پر وزنی پانے سے متعدد وار کیے۔ شدید زخمی ہونے سے خاتون کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
واقعے کے بعد ملزم نے خود ہی پولیس کو فون کر کے اطلاع دی اور پولیس کے پہنچنے پر جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔
پولیس تفتیش میں سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ ملزم نے جرم کرنے سے پہلے مصنوعی ذہانت کے ٹول 'چیٹ جی پی ٹی' کا استعمال کر کے نابالغ ملزمان کے قانونی عمل، پولیس کارروائی اور سزاؤں سے متعلق معلومات جمع کی تھیں۔