حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ڈیٹا سینٹرز اپنی اصل بجلی اور پانی کے استعمال کی معلومات چھپا رہے ہیں جس پر یورپی یونین کے خلاف شکایت بھی دائر کر دی گئی ہے۔
تحقیقاتی ادارے لائٹ ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق 2025ء کے آخر تک نیدرلینڈز میں 500 کلو واٹ یا اس سے زیادہ صلاحیت والے 186 بڑے ڈیٹا سینٹرز میں سے صرف 44 نے بجلی کے استعمال اور 47 نے پانی کے استعمال کے اعداد و شمار جاری کیے تھے، نیدرلینڈز کو یورپ کے نسبتاً زیادہ شفاف ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
یورپی قوانین کے تحت بڑے ڈیٹا سینٹرز پر لازم ہے کہ وہ اپنے پانی اور بجلی کے استعمال، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، اضافی حرارت کے استعمال اور ٹھنڈک کی کارکردگی کی معلومات حکومتوں کو فراہم کریں تاہم عام شہریوں کے لیے یہ اعداد و شمار حاصل کرنا مشکل ہے۔
لائٹ ہاؤس رپورٹ نے یورپی یونین کے تمام 27 رکن ممالک سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر کئی ممالک میں حکام نے یہ کہہ کر معلومات دینے سے انکار کیا کہ ان کے پاس اعداد و شمار موجود نہیں یا یہ معلومات خفیہ ہیں۔
یورپی یونین خام اعداد و شمار کے بجائے ڈیٹا سینٹرز کو کارکردگی کے درجات فراہم کرتی ہے جو گھریلو برقی آلات کے کارکردگی کے لیبلز سے مشابہ ہیں، ان درجات سے کارکردگی کا اندازہ تو ہوتا ہے لیکن بجلی یا پانی کی اصل کھپت معلوم نہیں ہوتی۔
لائٹ ہاؤس رپورٹ کے مطابق یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ انتہائی مؤثر بڑے ڈیٹا سینٹرز بھی بہت زیادہ بجلی اور پانی استعمال کرتے ہیں، اصل اعداد و شمار دستیاب نہ ہونے سے مقامی آبادی اور پالیسی ساز کسی مجوزہ ڈیٹا سینٹر کے ممکنہ اثرات کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔
ادارے کا دعویٰ ہے کہ یورپی کمیشن نے صنعت کے مطالبے پر رازداری کی شرائط قبول کی ہیں، لائٹ ہاؤس رپورٹ نے اس معاملے پر آروہس کنونشن (Aarhus Convention) کے تحت یورپی یونین کے خلاف شکایت دائر کر دی ہے۔
مقامی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف یا حق میں ہونے والی بحث کے لیے بھی یہ معاملہ اہم ہے کیونکہ قریبی آبادی کو بجلی کے یونٹس اور پانی کے لیٹرز کے بجائے صرف کارکردگی کے ایک لیبل کی بنیاد پر منصوبے کا جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔
