برطانیہ کی مانچسٹر کراؤن کورٹ نے مانچسٹر کے ہیٹن پارک سینیگاگ (یہودی عبادت گاہ) پر حملہ کرنے والے شخص کے ساتھی، 31 سالہ محمد بشیر کو دہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنا دی، جس کے تحت اسے کم از کم 17 سال قید کاٹنا ہوگی۔
عدالت میں بتایا گیا کہ محمد بشیر نے اگست 2025 میں جہاد الشامی کو آکسفورڈ شائر میں واقع برطانیہ کی ڈیفنس اکیڈمی، شریونہم لے جا کر فوجی تنصیبات کی ریکی اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے میں مدد فراہم کی۔
تفتیش کے مطابق الشامی نے اس دوران اپنے موبائل فون میں "جاسوسی" کے عنوان سے نوٹس بھی محفوظ کیے تھے۔ چند ہفتوں بعد جہاد الشامی نے ہیٹن پارک سینیگاگ پر حملہ کیا، جس میں دو یہودی ہلاک ہوئے، جبکہ پولیس کی کارروائی میں وہ خود مارا گیا۔
انسدادِ دہشت گردی پولیس کی تحقیقات کے دوران دونوں کے موبائل فونز سے منسلک کلاؤڈ ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ وہ انتہا پسند نظریات رکھتے تھے، حملوں کی منصوبہ بندی پر گفتگو کرتے اور ہتھیاروں، ممکنہ اہداف اور اسرائیلی فوج سے وابستہ افراد کے بارے میں معلومات تلاش کرتے رہے تھے۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کے مطابق محمد بشیر نے دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کے الزام کا اعترافِ کیا، جس کے بعد عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی۔