• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ سال بچوں کے ممکنہ آن لائن استحصال کی 92 ہزار رپورٹس موصول ہوئیں، برطانوی کرائم ایجنسی

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے سربراہ گریم بگّر نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بچے انٹرنیٹ پر محفوظ نہیں ہیں۔ 

نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق گزشتہ سال ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے بچوں کے ممکنہ آن لائن استحصال اور بدسلوکی سے متعلق 92 ہزار رپورٹس موصول ہوئیں، جو گزشتہ سات برس کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہیں۔

این سی اے کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے خطرات سے نمٹنے میں تاخیر کے باعث نوجوانوں کی دو نسلیں متاثر ہو چکی ہیں، اب مزید انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

ان کے مطابق آن لائن گیمز خصوصاً روبلوکس اور ڈسکارڈ پر بچوں سے بدسلوکی کے واقعات کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔ این سی اے کو روبلوکس سے روزانہ تقریباً 25 جبکہ ڈسکارڈ سے تقریباً 50 رپورٹس موصول ہوتی ہیں۔

انسٹاگرام پر بچوں سے متعلق تقریباً 75 اور اسنیپ چیٹ پر تقریباً 100 رپورٹس روزانہ سامنے آتی ہیں، جبکہ گوگل اور ایکس کی جانب سے بھی روزانہ متعدد ایسے واقعات رپورٹ کیے جاتے ہیں جن میں برطانوی بچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کے اندازے کے مطابق برطانیہ میں 7 لاکھ 10 ہزار سے 8 لاکھ 40 ہزار بالغ افراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی درجے میں بچوں کے لیے جنسی خطرہ بن سکتے ہیں۔ 

گریم بگّر نے کہا ہے کہ آن لائن بچوں کے استحصال کی رپورٹس نہ صرف تعداد میں بڑھ رہی ہیں بلکہ ان کی سنگینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اب ایسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں بچے خود بدسلوکی کرنے والے بن رہے ہیں۔

این سی اے کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے مشتبہ مواد کی اطلاع امریکی ادارے نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائیٹڈ چلڈرن کو دی جاتی ہے، جو برطانوی بچوں سے متعلق معلومات نیشنل کرائم ایجنسی تک پہنچاتا ہے۔

دوسری جانب میٹا کا کہنا ہے کہ 2025 میں فیس بک اور انسٹاگرام سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق 3 کروڑ 60 لاکھ سے زائد مواد ہٹایا گیا، جن میں سے 94 فیصد سے زیادہ مواد کمپنی نے خود رپورٹ موصول ہونے سے پہلے شناخت کیا تھا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید