• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب میں نے شاعری کی کتاب ’’عمر مجھے لکھتی ہے‘‘ اشاعت کے لئے افضال کے سپردکی تو یہ بھی کہہ دیا تھاکہ یہ میرا آخری مجموعۂ کلام ہے۔ جواباً افضال نے کہا ’’سب یہی کہتے ہیں‘‘، چھ ماہ بعد اگلی کتاب موجود ہوتی ہے۔ معلوم نہیں اپنے تجربات کی روشنی میں یا پھر نیاز بھائی کے رخصت ہونے کے بعدایک طرف کام، روز آنے والے مسودے سفارشیں اور کاتبوں کی عدم دستیابی جیسے موضوعات کے باعث، ہر چند افضال نے باپ کی طرح کام میں خود کو ایسا گم کیا کہ رات کے دو بھی بج جاتے۔ افضال نے سارے گھروں، دفتروں اور اپنے پرانے لکھنے والوں سے باپ کی طرح رشتے، ادب و آداب رکھنےکا قرینہ اور انتہا درجے تک جاری رکھنے کی دھن اپنے اوپر ایسے طاری کی کہ رات کی نیند کی جِلد بندی کر دی۔ دفترکی جانب بھی غفلت اوڑھ لی۔ وہ لکھنے والے جو اپنی تمام تصنیفاتِ نیاز صاحب کو یاد کراتے رہتے تھے کہ’’ الٹے ہاتھ کی میز میں، میرا مسودہ رکھا تھا۔ یہ کوئی ایک ماہ پہلے، اب اس کو پر لگے ہیں کہ وہیں سجا ہوا ہے‘‘۔ نیاز صاحب ہنس کر جواب میں کہتے ’’آؤ توسہی ‘‘ ۔

بہرحال، افضال ہم جیسے بوڑھے لکھنے والوں سے تو ابھی تک گاہے گاہے، سلام اور مزاج پوچھتے ہوئے لگتا تھا کہ وہ نغمگی اور شائستگی ، آپ خود ہی ڈھونڈ لیں۔ کتاب کے شائع ہونے کا سوال، کچھ عرصے کیلئے موقوف کر دیں ۔جبکہ نیاز بھائی کہتے تھے ’’اگلی کتاب، کب تک ہمیں ملے گی۔‘‘

یقین کیجیے کہ اس کا جگر کھو ل کر دیکھیں، تو ہر لکھنے والا چاہتا ہے کہ اس کی کتاب سنگ میل ہی سے شائع ہو۔ یوں تو اس وقت بہت پبلشرز ہر شہر اور ہر محلے میں ’’عمدہ طباعت‘‘ کا بورڈ لگائے بیٹھے ہیں۔بازار میں سینکڑوں پبلشر صرف ایک شرط پر آپ کی کتاب مہینے بھر میں شائع کر دیںگے کہ رقم آپ کی، پبلسٹی پبلشر کے ذمے اور کتاب کی تقریب بھی آپ کے ذمے، مگر دو سو کتابیں آپ کی، باقی حساب برابر۔ اب جب گلی گلی کتاب، شائع کرنے والے ہوں اور دساور سے ڈالر لے کر آپ اشاعت گھر میں داخل ہوں۔ آج کی شام آپکی آؤ بھگت، کتاب پہ خرچہ فوری ادائیگی ’’اگے تیرے بھاگ لچھئے‘‘ کاروبار کا کاروبار اور ادب کی خدمت واہ۔

کتاب پر مضامین پڑھنے والوں کا بندوبست بھی کر دیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں مشاعروں کا سیزن لگتا ہے۔ ہمارے گھر ٹھہریں اور کیا چاہیے۔ اس سیزن میں وہ شاعر بھی آتے ہیں جنہوں نے بہت سی خواتین اور چند حضرات کو شاعر بنایا جیب گرم کی اور بزنس چلتا رہا۔ یہ کاروبار آج کل خوب چل رہا ہے۔ مصیبت ہم جیسے بڈھوں کی ہے کہ جنہوں نے کہہ دیا ہے ’’میں نے اب لکھنا بند کر دیا ہے‘‘ جواب آتا ہے ’’میرے لیے بس دو لائن‘‘۔ آپ پوچھیںگے ’’یہ کتابیں جاتی کہاں ہیں۔‘‘ چند سال پہلے تک تو کالجوں کے لائبریری فنڈز ہوتے تھے۔ پھر بچت کا نعرہ ایسا لگا کہ لائبریریوں میں پرانی کتابوں یا میں نے تونے جو کتاب دی ، وہ اضافہ ہو گیا۔ پہلے سارے خواتین و حضرات جو پرنسپل ہوتے تھے وہ کتابیں اور اپنے حصے کی رقم لینے آجاتے تھے۔ اب تو آنہ لائبریریاں بھی نہیں۔ کالجوں اور اداروں میں جونام کی لائبریریاں ہیں۔ وہ سب چار بجے دفتروں کے ساتھ بند ہو جاتی ہیں۔ میں سال بھر سے اسلام آباد میں کسی لائبریری کی تلاش میں ہوں۔ جو غیرملکی لائبریریوں کی طرح رات بارہ بجے تک کھلی رہتی ہو۔ میں نے سارے کالجوں، یونیورسٹیوں میں ایسی لائبریری ڈھونڈی۔ جواب وہی تھا کہ شام کو لوگ گھروں کو جاتے ہیں،ایک جواب ا ور ہے کہ لوگ پڑھتے ہی نہیں۔

اگر پڑھتے ہیں تو ہیری پوٹر جیسی کتابیں، ورنہ موبائل فون پر سب کچھ مل جاتا ہے اور اب تو مصنوعی ذہانت نے سارے پردے اٹھا دیے ہیں۔ آپ اس کی ایپ یا ویب سائٹ کو آن کریں اور دو لفظ لکھ کر مکمل کرنے کے لئے AI کی توجہ حاصل کریں۔ مضمون لکھا ہوا مل جائےگا۔ میری ناصر عباس منیر سے یہ لڑائی ہوتی ہے کہ اس تحریر میں جذبہ کہاں سے آئےگا۔ شاعری تو اور مشکل کام ہے۔

جون ایلیا کی طرح کے شاعر کہ ’’کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے‘‘ جیسے مصرعوں کو مصنوعی ذہانت کیسے بدلے گی۔ عالم لوگ توجہ فرمائیں کہ اس وقت AI فیشن میں ہے۔

تازہ ترین