امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران سے بیرونِ ملک جانے والی 80 سے 90 فیصد سے زائد پروازیں بند ہو چکی ہیں، حیران ہوں کہ اقوامِ متحدہ، نیویارک میں موجود ایرانی وفد واپس کیسے جائے گا؟
فوکس نیوز کو انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی حکمتِ عملی کے 3 ممکنہ مقاصد بیان کر دیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ میں سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں، ایسی سخت پابندیاں ایرانیوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوں گی، معاشی پابندیاں ایران کی بین الاقوامی پروازوں کو متاثر کر رہی ہیں، ایران پر معاشی دباو ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
ایران سے متعلق ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر امریکی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر معمول کے مطابق سفر کر رہے ہیں۔
ایران کے مالی معاونین کو خبردار کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا ان کی کمپنیوں اور بینک اکاؤنٹس کے خلاف روزانہ اور ہر ہفتے کارروائی کرے گا، امریکا ایرانی مالیاتی نیٹ ورک کو مسلسل نشانہ بناتا رہے گا۔
ایرانی حکومت پر دباؤ کے وسیع تر مقاصد بیان کرتے ہوئے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اس کے 3 ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ پہلا مقصد یہ ہے کہ ایرانی حکومت کے اندر اختلافات پیدا ہوں، دوسرا یہ کہ ایرانی عوام کی جانب سے کسی قسم کی بغاوت سامنے آئے، جبکہ تیسرا مقصد یہ ہے کہ اگر ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو اسے معاہدے کی پاسداری پر آمادہ کیا جائے۔