لندن کے مشہور ’امپیریل کالج‘ کی جانب سے کی جانے والی ایک بڑی تحقیق نے یہ سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے مطابق اسی عمر کے مردوں میں اضافے کی شرح 42 فیصد رہی ہے۔
طبی جریدے لینسنٹ ریجنل ہیلتھ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، 2011 کے بعد سے 30 سال سے کم عمر خواتین کی کمر کا سائز دیگر تمام عمر کے گروپس سے زیادہ پھیلا ہے جبکہ ان کا اوسط بی ایم آئی (BMI) موٹاپے کی خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
تحقیق کے دوران 2011 سے 2024 کے درمیان کے طبی ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ جہاں 60 سے 79 سال کے افراد میں ذیابیطس کی شرح میں کمی دیکھنے میں آئی، وہیں 20 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں یہ شرح تیزی سے اوپر گئی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ خواتین کے ڈاکٹروں سے زیادہ رابطے میں رہنے مثلاً دورانِ حمل معائنے کی وجہ سے ان میں اس بیماری کی تشخیص جلد ہو جاتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر شیوانی مشرا نے خبردار کیا ہے کہ 40 سال سے کم عمر افراد میں ٹائپ 2 ذیابیطس انتہائی جارحانہ نوعیت کی ہوتی ہے۔ اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا جائے تو یہ کم عمری میں ہی دل کی بیماریوں، فالج، بینائی کے خاتمے اور اعضا کاٹنے جیسے مہلک نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔
وزن کم کرنے والی مشہور ادویات کے بارے میں ڈاکٹر شیوانی کا کہنا تھا کہ یہ ادویات اس مسئلے کا مکمل حل نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تحقیقات موجود نہیں کہ کیا ان ادویات کا وسیع پیمانے پر استعمال نوجوانوں کو ذیابیطس سے بچا سکتا ہے یا نہیں۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ نوجوانوں کو خوراک اور جسمانی سرگرمیوں کی بہتری کے لیے ابتدائی سطح پر ہی ترغیب دی جائے۔