• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: کینسر کے علاج کی 9 ادویات جعلی اور غیر قانونی قرار

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی 9 ادویات کو غیر معیاری، جعلی اور غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا۔

ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سید عدنان رضوی نے ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا ہے کہ لیبارٹری رپورٹ کی بنیاد پر متعلقہ اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض کینسر کی ادویات میں مطلوبہ فعال دوا موجود ہی نہیں تھی، جبکہ بعض ادویات پر ڈریپ کا رجسٹریشن نمبر بھی درج نہیں تھا۔

سید عدنان رضوی نے بتایا کہ کئی آنکولوجسٹ اپنے نسخوں پر مخصوص فارمیسیوں کے نام درج کر دیتے ہیں، جس کے باعث مریض انہی فارمیسیوں سے ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جعلی اور غیر معیاری کینسر کی ادویات مریضوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں، کیونکہ ان کے استعمال سے علاج مؤثر نہیں رہتا اور بیماری بڑھنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

صحت سے مزید