امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز بارش کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی 200 فیڈرز ٹرپ کر گئے۔
انہوں نے کراچی میں پرس کانفرس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے کے الیکٹرک کو 163 ارب روپے کی سبسڈی بھی دی گئی، لیکن نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور نہ ترسیلی نظام بہتر ہو سکا۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ناکام حکومت ہے، صوبے میں نہ سڑکیں ہیں، نہ ہی سہولتیں، کراچی کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 19 افراد کی اموات گٹر میں گر کر ہوئیں، میئر پیپلز پارٹی اور وزراء آپ کے ہیں مگر وہ گٹر کے ڈھکن نہیں لگا سکتے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کو یہ توفیق نہیں ہوئی کے وہ ٹاؤن چیئرمین کو آن بورڈ لیتے، 53 کروڑ روپے نالوں کی صفائی کے لیے رکھے گئے، نالوں کی صفائی کا جو کام پورا سال ہونا تھا وہ بارش سے چند دن پہلے شروع کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ولیکا اسپتال میں ایڈز میں مبتلا بچوں کی تعداد 95 تک پہنچ گئی، ان کی اپنی رپورٹ ہے، پرانی سرنجیں استعمال کی جا رہی ہیں، اب تک 9 بچوں کا انتقال ہو چکا ہے، سندھ حکومت جواب دے۔
منعم ظفر کا کہنا ہے کہ سمندر کے کنارے رہنے والی آبادی کا 50 فیصد حصہ پانی کو ترس رہا ہے، کے فور منصوبہ وفاق کا منصوبہ ہے اور وفاق میں ساری جماعتیں ہیں، کے فور کے آگمینٹیشن کا کام ورلڈ بینک نے روک دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیپا سے حسن اسکوائر تک پانی کی پائپ لائنوں کا کام مکمل ہی نہیں ہو پا رہا، یونیورسٹی روڈ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا اس کی ذمے دار پیپلز پارٹی ہے، کریم آباد انڈر پاس کھنڈر پاس ہے، ترقیاتی منصوبہ کرپشن کا ذریعہ ہیں، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم صرف سہولت کاری کر رہی ہیں۔