• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پمز اسپتال کے دورے میں پتا چلا نرسری میں 40 سے 50 بچے موجود تھے، ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ

ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ : فوٹو فیس بک
ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ : فوٹو فیس بک 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کے دورے میں انہیں پتا چلا کہ نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40  سے 50 بچے موجود تھے۔

جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے سوال اٹھایا کہ بغیر ڈی این اے کے بچے لواحقین کو کیسے دے دیے گئے۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے کہا جوڈیشل کمیشن بنائے بغیر واقعے کی انکوائری مکمل نہیں ہوسکتی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں، والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

دوسری جانب سانحہ پمز پر وزیراعظم شہباز شریف کی تحقیقاتی کمیٹی نے چلڈرن اسپتال کی نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کر لیے۔

کمیٹی نے نرسری کی سی سی ٹی وی کا ریکارڈ قبضہ میں لے لیا، نرسری اسٹاف سے سوالات کیے۔

ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سی سی ٹی وی کا جائزہ لیا، آگ کی وجوہات سے متعلق انتظامیہ کے بیان اور سی سی ٹی وی ویڈیو کا موازنہ کیا، پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے عملے سے پوچھ گچھ کی۔

کمیٹی پمز انتظامیہ نے 26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر جمع کروایا، جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

کمیٹی کو جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز سمیت 4افسران نے تحریری بیانات جمع کروائے، کمیٹی 48 گھنٹوں میں عبوری تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

قومی خبریں سے مزید