کراچی میں ماحولیاتی دہشت گردی کا اس بار نشانہ بنا کورنگی نمبر 6 کا علاقہ، جہاں عمر رسیدہ برگد، نیم، کیکر اور دیگر درخت بے رحمی سے کاٹ دیے گئے۔دہائیوں پرانے ان درختوں کو ماحولیاتی ورثہ قرار دے کر محفوظ کرنے کے بجائے انہیں صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا گیا۔
کراچی کے علاقے کورنگی کربلا گراؤنڈ میں درختوں کے یہ لاشے 70 سے 80 سال پرانے ہیں۔ پختگی کو پہنچے ان درختوں کو ورثہ قرار دیا جانا چاہیے تھا لیکن کراچی میں ماحول دشمن عناصر نے بڑی بےدردی سے انہیں کاٹ دیا۔
محکمہ جنگلات سندھ کے مطابق 4 جنگلی کیکر، 3 کونوکارپس، 1 نیم اور 7 برگد کے درختوں کو کاٹا گیا ہے۔
ادھر اہل محلہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پولیس کی سرپرستی میں ان درختوں کا قتل کیا گیا ہے۔
جب اس معاملے پر چیئرمین لانڈھی ٹاؤن عبدالجمیل خان سے بات کی گئی تو انہوں نے کسی قسم کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ گراؤنڈ کے ڈی اے کی ملکیت ہے۔
اہل علاقہ کے مطابق قریبی علاقے سے مسلح قبضہ مافیا نے آ کر الیکٹرک مشینوں سے درخت کاٹے۔
کے ڈی اے اور متعلقہ تھانے کو فوری مطلع کیا گیا تھا اور اہل محلہ نے بھی بیچ میں مداخلت کی، لیکن اس کے باوجود درخت کاٹ دیے گئے۔
کے ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اینڈ انفورسمنٹ کراچی سید زین علی شاہ کے مطابق ان کو درخت کاٹنے کے حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب محکمہ جنگلات سندھ کے مطابق ان درختون کو جڑوں سے اکھاڑا گیا درخت اب ٹرانسپلانٹ نہیں کیے جاسکتے۔ ایک برگد کا درخت بچایا جاسکتا ہے، لیکن یہ علاقہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
اس رپورٹ کی تیاری کے دوران کئی متعلقہ افراد سے رابطہ کیا گیا لیکن کوئی بھی درخت کٹنے کے حوالے سے ذمہ داری لینے کو تیار نہ ہوا۔
