السّلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مگر توبہ ہی بھلی!!
ایک بار پھر دو شماروں پر تبصرے کی کاوش کے ساتھ حاضرِ خدمت۔ حافظ ثانی کی سوشل میڈیا کی مغلظات، لغویات، خرافات، بکواسیات، درفنظنیوں،اوراَن ہونیوں کوضابطۂ اخلاق میں لانے کی سعی پر مبنی مضمون کی چوتھی قسط کا بھی جواب نہ تھا۔ واہ!حافظ جی،کہاں تک لکھوگے، کہاں تک سُنیں گے۔ منیر خلیلی ایران سے متعلق چشم کُشا مضمون لائے۔
منور مرزا کا ہنگری الیکشن پر تجزیہ ہمیشہ کی طرح بےمثل رہا۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘میں فریضۂ حج کی مناسبت سے بروقت، معلوماتی اوراطلاعاتی تحاریر کی اشاعت قابلِ تحسین ہے۔ رحمان فارس، انور شعور کے ساتھ آئے، گوکہ جنگ میں روزانہ اُن کے قطعات شائع ہوتے ہیں، مگر فارس نے تو اُن کی حیات کی کئی جہتیں اور پرتیں کھول کے رکھ دیں۔
’’سینٹر اسپریڈ‘‘ تومَیں نہ دیکھوں کہ بالفرض، اچٹتی سی نظر پڑ ہی جائےتو پھر کچھ نہ کچھ کہنے کو من کرے، مگر توبہ ہی بھلی۔ سعد چھیپا کی دل چسپ ریسیپی خُوب تھی۔ وفاقی محتسب کا ادارہ واقعی شان دار، بےمثال ہے اور قرار واقعی سائلین کی دادرسی کرتا ہے، اس ضمن میں میرا ذاتی تجربہ بہت خوش گوار رہا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ بہتر ہوتا جارہا ہے۔
دانیال کا گداگری کی لعنت پر تگڑا مضمون شاملِ اشاعت تھا۔ایم شمیم نے ریٹائرڈ بابوں کے لیے مفید مشورے، تجاویز پیش کیں، بہت شکریہ۔ گزشتہ ہفتے ’’احسنِ تقویم‘‘ میں ڈاکٹر محمّد امجد ثاقب کاخاکہ بھی بھرپور، پُرمغز تھا۔ اُن سے بھی ذاتی ملاقات کا تاثر تا زندگی فراموش نہیں ہو سکتا۔ بلاشبہ، وہ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ اگلے جریدے میں منور مرزا کا انسان کےدوبارہ چاند پرقدم رنجہ فرمانےکا تذکرہ کمال تھا۔ امین فطرت کا جنگلات سے متعلق مضمون چونکا دینے والا اور وقت اور ماحول کی آواز معلوم ہوا۔
رحمان فارس اس بار میرے شہر کے سپوت، راحت فتح علی خان کی زندگی کے اسرار و رموز کا احاطہ کر رہےتھے اور ہمیشہ کی طرح انتہائی مہارت و عمدگی کے ساتھ۔ ’’سینٹراسپریڈ‘‘ کی ماڈل کے سفید ملبوسات آنکھوں کو بہت بھلے لگے۔ دانیال چغتائی کا مضمون، اِک رشتہ، اِک کہانی کی کہانیاں اورسب کے راج دلاُرے ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی دل آرائیاں، سب دل نشیں ہی رہے۔ (ڈاکٹر اطہر رانا، فیصل آباد)
ج: آپ کا ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں داخلہ ہرگز ممنوع نہیں کہ آپ نے جو نگاہ ڈالنی ہے، اچھی ہی (بہن، بیٹیوں والی) ڈالنی ہے اور اگر کچھ تبصرہ بھی کیا تو یقیناً سوفی صد تہذیب و اخلاق کے دائرے ہی میں رہ کر کریں گے۔ وہ کیا ہےکہ اِس ’’دشت کی سیاحی‘‘ سےاتنا تو ہوا کہ اب ہم تحریر سےبندہ پہچان لیتے ہیں۔
خط نہیں تھا، خط جگمگا رہا تھا
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ میں ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی کے مضمون ’’سوشل میڈیا کا مثبت، تعمیری استعمال‘‘ کی پانچویں قسط شائع ہوئی، اور بہت ہی عُمدگی کے ساتھ۔ ’’سنڈےاسپیشل‘‘ میں امین اللہ فطرت نے زیارت میں جنگلات کی کٹائی اور اُن کی بقا کی طرف توجّہ مبذول کروائی۔ رابعہ فاطمہ مطالعے کی ضرورت واہمیت اجاگر کر رہی تھیں، ساتھ اچھے دلائل بھی پیش کیے۔ محمّد ریاض ایڈووکیٹ نے’’عالمی یومِ آزادیٔ صحافت‘‘کے ضمن میں صحافیوں کے مسائل بیان کیے۔ نادیہ احمد کا مضمون یومِ مئی کے حوالے سے تھا۔
’’احسنِ تقویم‘‘میں رحمان فارس سُر کے شہنشاہ، نصرت فتح علی خان کے شاگرد اور بھتیجے راحت فتح علی خان کا بہترین انداز سے تعارف کروا رہے تھے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں دانیال حسن چغتائی نے گھر آئے مہمان کی عزت و استقبال کو اسلامی طریقہ قراردیا۔ ڈاکٹر شاہد ایم شاہد نےتربوزکے فوائد گنوائے۔’’ڈائجسٹ‘‘ میں پرویز شکیل کی ’’موقع شناس‘‘خوب تھی۔صنوبر خان کی ثانی کی نعتِ رسول مقبولﷺ بہت پسند آئی۔
’’آپ کا صفحہ‘‘میں ہمارا خط شامل نہیں تھا، خیرہے، اگلےشمارے میں آجائےگا۔ ہاں، خادم ملک کا خط ماتھے کا جھومر بنا ضرورجگمگا رہا تھا۔ اگلے شمارے کے’’حالات و واقعات‘‘ میں منور مرزا نے پاکستانی حُکم رانوں کو خُوب لتاڑا۔ منیراحمد خلیلی لبنان کی تاریخ اورحالات پر روشنی ڈال رہے تھے۔
’’احسنِ تقویم‘‘ میں رحمان فارس نے فیض احمد فیض کی بڑی صاحب زادی کا تعارف بہت ہی دل چسپ انداز سے کروایا۔ ڈاکٹر سکندر اقبال کانگو وائرس سے بچاؤ کی تفصیل لائے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں افشاں نوید اور بلقیس متین کے مدرز ڈے کے حوالے سے مضامین شان دار تھے اور ’’آپ کا صفحہ‘‘ میں ہمارا اور خادم ملک دونوں کا خط جگمگا رہا تھا۔ (سید زاہد علی، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
شان دار’’مدرزڈے اسپیشل ایڈیشن‘‘
’’مدرز ڈے اسپیشل ایڈیشن‘‘ کا سرِورق اور سینٹر اسپریڈ ؎ جُنوں کے شیلف میں ہے، عِشق کی کتاب میں ماں…‘‘عبارت اور فخرِ پاکستان، ویمن کرکٹ کی سابق کپتان، بسمہ معروف اور اُن کی معصوم دُختر کی رنگارنگ تصاویر سے مرصّع تھا۔ سونے پر سہاگا، وسطی صفحات کی تحریر خُود مدیرۂ اعلیٰ نے لکھی۔ بہت خوشی ہوئی کہ ایسی باصلاحیت اسٹارکا تعارف، انٹرویو شائع کیا گیا، جس نے کرکٹ کے میدان میں توصلاحیتوں کا لواہا منوایا، ماں کے رُوپ میں بھی انتہائی مقدّس و باوقار لگی۔
رابعہ فاطمہ کی چین کے تولیدی روبوٹ سے متعلق تحریر، سائنس کی تیز رفتار ترقی کی بڑی مثال تھی۔ ’’پیاراگھر‘‘، ’’ڈائجسٹ‘‘ کے زیرِعنوان مدرز ڈےہی کی مناسبت سےشان دارنگارشات پڑھنے کو ملیں، خصوصاً عالیہ توصیف کی ’’ایک بات‘‘ کا تو کوئی مول ہی نہ تھا۔ ہماری نگاہ میں یہ نگارش، اِس جریدے کی اصل جان اور نمبر ون تحریر تھی۔ ’’ایک پیغام، پیاروں کے نام‘‘ کے بھی سب ہی پیغامات بہت پیارے لگے۔ اور ہمارا صفحہ ’’آپ کا صفحہ‘‘ بھی ہمیشہ کی طرح خوب چمک دمک رہا تھا۔ سچ یہ ہے کہ مجموعی طور پر یہ سارا اسپیشل ایڈیشن ہی انتہائی شان دار تھا۔ (محمد صفدر خان ساغر، نزد مکی مسجد، محلہ شریف فارم، راہوالی، گوجرانوالہ)
خاموشی میں بولتا شخص
’’آپ کا صفحہ‘‘ کے ایک مستقل نامہ نگار کی طرح اِس بار ہم بھی دو شماروں پر تبصرہ کریں گے، وجہ عید کی چُھٹیاں بنیں کہ ہم نے جب تک 15مارچ کےشمارے پر لکھنے کا ارادہ کیا،19 مارچ کا ’’عید ایڈیشن‘‘ بھی آگیا اورآگے عید کی چار چُھٹیاں تھیں۔ اندازہ تھا کہ ’’عید ایڈیشن‘‘جمعے یا ہفتے کو آئے گا، مگر خلافِ توقع جمعرات ہی کو آگیا اور ہم باوجود کوشش کے اخبار حاصل نہ کرسکے۔خیر، تعطیلات کے فوری بعد لائبریری سےجریدہ حاصل کیا اوراب دونوں شمارے سامنے ہیں۔
ڈاکٹر حافظ محمّد ثانی نے شبِ لیلتہ القدر پر ایمان افروز تحریر لکھی، اِسی طرح مغرب اور اسلاموفوبیا پربھی اُن کی تحقیق لائقِ تحسین تھی۔ قراردادِ پاکستان صرف تحریکِ آزادی کا اہم سنگِ میل ہی نہیں، قیامِ پاکستان کی بنیاد بھی تھی۔ رابعہ فاطمہ نےعُمدہ مضمون لکھا۔ رحمان فارس اس بار ٹیلی وژن کی ہردل عزیز شخصیت نورالحسن کے ساتھ موجود تھے۔ فارس نے جس خاموشی کا بار بار ذکر کیا، وہ خاموشی نورالحسن کی شخصیت کے انگ انگ سے جھلکتی ہے۔ ویسے خاکے کا عنوان ’’خاموشی میں بولتا شخص‘‘ بھی ہوسکتا تھا۔
شاید اُن کی شخصیت کےاس سکوت ہی کےباعث تُرک سیریز ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ میں اُنہیں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا کردار ملا۔ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں نظیر فاطمہ نے جہاں ایک عورت کے صبر و برداشت کا ذکرکیا، وہیں دوسری عورت کی ریاکاری بھی عُمدگی سےبیان کی۔ نادیہ احمد کی مختصر تحریر پسند آئی۔ ’’عید ایڈیشن‘‘ کی خاص بات اس کے خصوصی مضامین تھے۔
حافظ ثانی، رابعہ فاطمہ، ثانیہ انور اور ڈاکٹر سکندر اقبال نے خُوب لکھا، خصوصاً رابعہ فاطمہ نےعہدِ نبویؐ، خلافتِ راشدہ کےمختلف تاریخی ادوار اور آج کی عیدین سے متعلق دل چسپ، اہم معلومات فراہم کیں۔ کشور ناہید پر رحمان فارس کا خاکہ بہت دل چسپ تھا، خصوصاً وہ واقعہ، جس میں کشور آپا نے اُن کے سامنے سے بھنڈی گوشت کی پلیٹ کھسکالی، سچ پوچھیں، توہم بھی اُن کے قہقہوں کاحصّہ بن گئے۔ نیز، کشور آپا کی سوانح عُمری ’’ایک بُری عورت کی کتھا‘‘ پڑھنے کا اشتیاق بھی بڑھا۔ اورہاں، ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ میں عید پرلکھی آپ کی تحریر کے کئی جملے بہت خُوب صُورت معلوم ہوئے۔ (رانا محمّد شاہد، گلستان کالونی، بورے والا)
انوکھی ہیٹ ٹرک مبارک
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ سے فیض یاب ہوکر آگے بڑھے، تو مشرقِ وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کا کھیل جاری تھا۔ عالمی طاقتیں نہ جانے کیوں مشرقِ وسطیٰ کے پیچھے ہی پڑ گئی ہیں۔ ’’بارود بھرے بانسوں سے جدید ترین میزائلز تک کا سفر‘‘ ہمیں تو ہول ناک ہی لگا۔ اس بار’’احسنِ تقویم‘‘ میں ’’معجزۂ اخوت، ڈاکٹر امجد ثاقب‘ کا بہترین خاکہ نظرنواز ہوا۔ رحمان فارس کے قطعے کا جواب نہ تھا۔ بخدا اتنا پسند آیا کہ فوراً اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا۔
نیز، مضمون پڑھتے ہوئے کئی بار آنکھوں سے آنسو بھی رواں ہوگئے۔ اللہ پاک ڈاکٹر امجد ثاقب کو صحت و تن درستی کے ساتھ لمبی زندگی دے اور اخوّت کا نام ایدھی فائونڈیشن کی طرح دنیا بھر میں خُوب روشن ہو۔ ’’اِک رشتہ، اِک کہانی‘‘ پڑھ کر دُکھ ہوا کہ جنگ، سنڈے میگزین کے مستقل لکھاری ڈاکٹر احمد حسن رانجھا اللہ کو پیارے ہوگئے۔
اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کرے۔ ویسے یہ شمارہ تو بورے والا کے لکھاری رانا محمد شاہد کے نام رہا کہ ’’ڈائجسٹ‘‘ میں افسانہ ’’فریبِ نظر‘‘ شامل ہوا۔ نئی کتب کے تبصروں میں اُن کی کتاب پر تبصرہ موجود تھا اور آخر میں ’’آپ کا صفحہ‘‘ کی ’’اِس ہفتے کی چٹھی‘‘ کی مسند پر بھی وہی براجمان تھے۔ واہ رانا محمد شاہ! یہ انوکھی ہیٹ ٹرک مبارک ہو اور ہاں، کافی دنوں سے خادم ملک بزم میں نظر نہیں آرہے، اللہ خیر کرے۔ (پرنس افضل شاہین، نادر شاہ بازار، بہاول نگر)
ج: تو آپ کو کیا بزم کا سکون اچھا نہیں لگ رہا؟ ہمارا خیال ہے، وہ اپنی اونگیوں بونگیوں سے خُود بھی اتنا رَج جاتے ہوں گے، تو تھوڑا بریک لینا لازم ہوجاتا ہوگا۔
بند کُوزے سے سمندر
میرے خیال میں تو سنڈے میگزین کے سلسلوں پر تبصرہ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ سو، تبصرے کے نام پر اپنی پسند، ناپسند کے مختصراً اظہار کے لیے ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ کہہ دینا بھی کافی ہے۔ وگرنہ تبصرہ تو مضمون سے بھی طویل ہوسکتا ہے۔ خیر، مَیں اِسی لیے سلسلوں پر تبصرے سےگریزاں رہتا ہوں۔ البتہ رحمان فارس کے سلسلے ’’احسنِ تقویم‘‘ پر مختصر تبصرے کی جسارت کررہا ہوں۔
’’دریا کو کُوزے میں بند کرنے‘‘ کی مثال تو زبانِ زدِعام ہے، مگر مذکورہ سلسلے کے خالق کا کمال یہ ہے کہ وہ بند کُوزے سے سمندر نکال لاتے ہیں اور اُنہیں اِس ہنر میں کمال حاصل ہے اور اعترافِ کمال میں میری طرف سے یہ تُک بندی پیش خدمت ہے۔ ؎ رحمان فارس کا لکھا ہوا خاکہ… شخصیت کا مکمل سراپا… واضح نقش و نگار ہر اِک… واضح ہر خدوخال سرتاپا۔ (امین شیدائی، اورنگی ٹاؤن، کراچی)
ج: بہت خُوب، توصیف کا یہ انداز یقیناً رحمان فارس کو بھی بے حد پسند آئے گا۔
فی امان اللہ
دل کش شمارہ دیدہ زیب ٹائٹل سمیت نظرنواز ہوا۔ اسلامی صفحے ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ پر ڈاکٹر ثانی کی سرکردگی میں موضوعِ جدید ’’سوشل میڈیا‘‘ سے متعلق جاں افزا، مگر چشم کُشا بحث شان دار وجان دارتھی۔ اس میں دورائےنہیں کہ ’’اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے۔‘‘ معلمِ دین و منتظمِ تعلیم خلیلی صاحب کو بجاطور پرحکیمِ مشرقِ وسطیٰ کہا جاسکتا ہے۔ سوفی صد بجا فرمایا۔ ’’فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے۔‘‘ تاہم، آدھا سچ یہ بھی ہے کہ ’’کُجھ شہر دے لوک وی ظالم سن… کُجھ سانوں مرن دا شوق وی سی۔‘‘ ’’حالات و واقعات‘‘ کی ٹیبل آف ٹاک پر بھی خارجی امور کے حکیم لقمان، منور مرزا، مشرقِ وسطیٰ کے تاروپود ادھیڑے ہوئے تھے۔ بات یہ ہے کہ روس نے یوکرین کے ذریعے یورپی انرجی شہ رگ پکڑلی، توانکل سام نے ایران پرچڑھائی کرکے اپنے تئیں ایشیائی فیول ٹیل پر پیر رکھنے کی سعی کی۔ آگے’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ پیج کا آرڈر آف دی ویک تھا۔
’’Stand with Science‘‘ (یعنی نیم حکیمانہ رویےترک کردیں)بےشک، کیوں کہ ’’نیم حکیم خطرۂ جان، نیم مُلا خطرۂ ایمان‘‘۔ ہاہاہا!! ’’احسنِ تقویم‘‘ کے میٹنگ فریم میں سینئر بیورو کریٹ رحمان فارس کو سپیریئر ٹیکنو کریٹ ڈاکٹر ثاقب سے شہابِ ثاقب سی ڈونگیاں باتیں کرتے پایا، جس سے اس جاں فریفتہ نے یہ سطرحافظے کے ببوگوشے میں اسٹورکرلی۔ ’’مَیں مُلکوں مُلکوں، شہروں شہروں گھوما، لیکن یہ تیرے لطف اور حسن کا فیضان ہے کہ مَیں نے کچھ نہیں دیکھا۔‘‘ اگلےدونوں صفحات (بزم حُسن و آرائش) کو مِلاکر چھیتی چھیتی پلٹ دیاکہ مبادا نگاہ پڑگئی اور کچھ منہ سے نکل گیا تو… ؎ جلوے بکھرگئےہیں یہ کس خوش جمال کے… ’’میرے دوستو! دل کورکھنا ذرا سنبھال کے‘‘ ڈاکٹر رانجھا جیسے نفیس لکھاریوں کے پرستار فرطِ جذبات میں تمناگر ہوتے ہیں۔
’’کبھی الوداع نہ کہنا…‘‘ تاہم راہِ عدم کے راہ رَو کو مُلکِ عدم سے اٹل بلاوا آ ہی جاتا ہے کہ ’’ہزاروں میل لمبے راستے تجھے بلاتے ہیں‘‘ اللہ جنت بخشے۔ ’’متفرق‘‘ کے سیارچے سے ’’ڈائجسٹ‘‘ کی ڈال کی طرف بڑھے تو ’’ڈائجسٹ‘‘ ٹِری پر ٹاپ آف دی آرڈر رانا شاہد کا افسانہ (فریبِ نظر) رونگٹے کھڑے کرتا،خوف کے ’’دشتِ لیلیٰ‘‘ کنارے پہنچا گیا۔ اتنےمیں’’نئی کتابیں‘‘والےقدیم دوست اختر سعیدی کا رُخِ زیبا سامنے آیا، تودہشت کا عفریت پنجے جھاڑ’’جھاڑکھنڈ‘‘ سدھارا۔ پہلی کتاب پرلکھا تھا، مصنف، رانا محمّد شاہد، ہم توسہم گئے۔
’’شیر!اک واری فیر‘‘ اور پھر شمارے کے سیکنڈ لاسٹ پیج پر پہنچے۔’’اس ہفتے کی چٹھی‘‘ پر بھی رانا محمد شاہد کا نام جگمگا رہا تھا۔ آپ کاج مہاکاج،راجوی کے مہاراج، ویل ڈن۔ دیگر احباب میں ڈاکٹررانااورڈاکٹر ڈاھا کی شرکت سےشانِ محفل دوبالا ہوئی، جب کہ برقی اورنقش بندی کی سہرا بندی سےمیگزین کے دولھا صفحے کی زینت سہ چند ہوگئی اور ہاں، یا آیا کہ ماشاء اللہ بندے کےاعزازی خطوط کی سینچری مکمل ہوگئی ہے، ان شاء اللہ جلد ہی کتابی شکل میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ (محمّد سلیم راجا، لال کوٹھی، فیصل آباد)
ج: ؎ جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے۔
* تازہ شمارہ وصول ہوا، تو سب سے پہلے سرِورق پرنگاہ ڈالی۔ حسین و وجیہہ خاتون نیم رُخ کھڑی تھیں، دونوں ہاتھوں میں جھلملاتی ہوئی سونے کی انگوٹھیاں لطیف سا تاثر ثبت کر رہی تھیں۔ اس کےبعد ڈاکٹرحافظ محمّد ثانی کی سلسلےوار تحریر ’’تعلیماتِ نبویؐ‘‘ کی چوتھی قسط نظر سے گزری۔ بےساختہ دُعا کی، پروردگار!ہمیں بھی اپنے محبوب ﷺ کےاسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ منوّرمرزاکی تحریر سوشل میڈیاکے مضرات سے متعلق تھی۔
حافظ بلال بشیر کا پہاڑوں سےمتعلق مضمون پڑھا، تو قرآن کی ایک آیت کا مفہوم تازہ ہوگیا۔ ’’اللہ نے پہاڑوں کو زمین میں میخوں کی طرح گاڑدیا تاکہ استحکام وتوازن برقرار رہے۔‘‘ ڈاکٹر معین نواز معیشت پر رقم طراز تھے، تو ڈاکٹر اعظم شاہ بخاری لاہور کے تعلیمی اداروں میں پوشیدہ دل چسپ تاریخ لائے۔عرفان جاوید کے انتخاب’’دھول بن‘‘نےحصار میں لیے رکھا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں، جِلدی امراض اور ذہنی صحت کے باہمی تعلق پر تحریر بےحد معلومات افروز تھی۔
’’آپ کا صفحہ‘‘ میں قرات نقوی کی طویل ترین ای میل بھی پڑھ ڈالی اور ساتھ ہی کسی قاری کو دیا گیاآپ کامشورہ بھی یادآگیا۔ ’’آئندہ آناچاہیں، تو ضرور آئیں، مگرزیادہ سے زیادہ دو سطروں کےساتھ۔‘‘ غالباً مشوروں کا پیمانہ شخصیات کے اعتبار سے بدل جاتا ہے۔ امریکی لکھے تو قابلِ قدر، پنڈی والا لکھے تو مختصر کی ہدایت۔ بہرحال، مَیں اپنا مؤقف رقم کررہا ہوں کہ اظہارِ رائےکے مواقع سب کے لیے یک ساں ہونے چاہئیں۔ (عبدالواجد، تحصیل چیچہ وطنی، ضلع ساہی وال)
ج: آپ کے لیے بھی وہی مشورہ ہے، جو پنڈی والے کے لیے تھا اور مشورہ کسی شخصیت کوسامنےرکھ کرنہیں،طرزِ تحریر کے تناظرمیں دیا جاتا ہے۔ وگرنہ آج آپ کی ستّر فی صد ای میل ایڈٹ نہ کرنی پڑتی ۔
* مَیں نےآپ کے بلکہ ہمارے سنڈے میگزین میں ’’سوشل میڈیا کے بچوں پر منفی اثرات ‘‘ سے متعلق پڑھا، تومعلومات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ اب ہم یقیناً اپنے نونہالوں، نوجوانوں کوسوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ (محمّد فیصل شہزادمحلہ احمد پورہ، بھکی روڈ، شیخوپورہ)
قارئینِ کرام کے نام !
ہمارے ہر صفحے، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk