آگ کی بارشوں میں جھلستی فضا
رقص اموات کا، الامان، الاماں
ننّھے بچّوں کی چیخوں میں ہے التجا
العطش، العطش کی بلکتی صدا
بھوک کی موت سے، پیاس کے سوز سے
دم بہ دم جا بجا، کیسا محشر بپا
پھر بھی ہے آفریں اُن کا صبر و رضا
عزمِ شبیرؓ سے مل گیا سلسلہ
کربلا جب بھی تھی، اب بھی ہے کربلا
ہرشقی نے کیا مِل کے یہ فیصلہ
سارے فرعون و ہامان اور سب یزید
ہو کے یک جا، رکھیں گےستم کو روا
کتنے عون و محمد تڑپتے ہوئے
ماؤں کی گود میں ہیں بلکتے ہوئے
سوکھے ہونٹوں سے کہتے ہیں وہ لا الہ
وقت تو دیکھ لے، پھر ہے ڈٹ کے کھڑا
آج زینبؓ کی جرأت کا لہجہ کڑا
وقت کی کربلا، بن گیا ہے غزہ
المدد المدد، یاسمیع الدعا
(اسماء صدیقہ)