گُل پلازا میں جو زندہ جل گئے
راکھ ہو کر رہ گئے اُن کے بدن
زندگی کو جن کی شعلے کھا گئے
آئے تھے بہرِخریداری جہاں
وہ عمارت قید خانہ بن گئی
جتنے دروازے تھے، سارے بند تھے
بس کُھلا تھا ،موت کا اِک دَر وہاں
گل پلازا کےانہی شعلوں کے بیچ
جل گئے فردا کی اِک دلہن کےخواب
بےبسی سے وہ مدد کےواسطےچیخا کیے
کوئی بھی آیا نہیں، اُن کی صدائے درد پر
بےقصور و بےگنہ، یہ غم نصیب
اُن کی مرگِ ناگہاں کا کون ذمّےدار ہے
جا کے کس کے رُوبرو
سوختہ جسموں کا مَیں نوحہ پڑھوں
حُکم رانوں کے تو دل پتّھرکے ہیں
بےحسی کی یہ رَدا اوڑھے ہوئے
اقتدار و زرکے نشے میں ہیں مست
ان کی نظروں میں عوام
غیر اہم ، کیڑے مکوڑے ہیں فقط
اے خدائے منتقم !
ظالموں پر، بےحِسوں پر
بھیج دے کوئی عذاب
بھیج دے کوئی عذاب
(نسیم نازش)