ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، کراچی
کل امّی کے ساتھ اسٹور کی صفائی کرتے ہوئے، پرانی کتابوں والے کارٹن میں سے ایک ہلکے نیلے رنگ کی، چھوٹی سی چابی لگی آٹوگراف بُک نکل آئی۔ بس پھرکیا تھا… ایک لمحے ہی میں اُس آٹوگراف بُک کےساتھ بہت سے لوگ اور واقعات بھی یاد آتے چلے گئے۔ سچ… کیا ہی حسین دَور تھا!! جب آٹوگراف لینا بھی ایک اعزاز ہوتا تھا، خصوصاً اُس شخص سے، جو آپ کا پسندیدہ ہو۔ ایسےکسی شخص کا آٹوگراف مل جانا گویا ایک دنیا فتح کرنے کے مترادف ہوتا۔
اسکول کا آخری سال ہو یا کالج کا فائنل ائیر، ہر لڑکی کے ہاتھ میں ایک خُوب صُورت قلم اور پھولوں، تتلیوں سے سجی آٹو گراف بک/ ڈائری ضرور نظر آتی۔ اور پھر ہمارے پیارے اساتذہ… وہ ہمارے لیے کتنی خُوب صُورت دُعائیں اور اقوال لکھا کرتے تھے، جو واقعی اَن مول ہوتے۔ ایسے آٹوگراف پا کر چہروں پر ایسی مسکراہٹ آتی، جیسے ہفت اقلیم کی دولت ہاتھ آگئی ہو۔
اور بس، اُس آٹوگراف بُک کے توسّط سے ایک کے بعد ایک دریچہ کُھلتا چلا گیا، اور مَیں اپنے ماضی، بلکہ حسین ترین ماضی میں جیسے کھوکے رہ گئی۔ اسکول کے گیٹ پر موجود وہ لالا یاد آیا، جس کے ہاتھ میں نہ بندوق، نہ چھڑی، نہ وہ تعلیم یافتہ… مگر ہر بچّہ روزانہ اُسے بہت محبّت وعقیدت سے سلام کرتا اور دُعائیں لیتا۔ مالی بابا، کینٹین والی خالہ… خالہ تو ایسی لگتی تھیں، جیسے بالکل سگی خالہ ہوں۔ ہمیں کھیلنے کے لیے نہ موبائل فونز کی ضرورت تھی، نہ انٹرنیٹ کی… پانچ چھوٹے چھوٹے پتھر لیے اور ’’گٹے‘‘ کھیلنے شروع کر دیئے۔ پتھروں ہی سے ’’پٹھو گرم‘‘ کھیلا جاتا۔
ایک چھوٹی سی لکڑی سے کوئی کھیل بنا لیا اور گھنٹوں کھیلتے رہے۔ کبھی لڑائی نہیں ہوتی تھی، اور اگر ہو بھی جاتی تو فوراً صلح ہو جاتی۔ چاہے پکڑم پکڑائی ہو، اونچی نیچ یا پھر ہمارا پسندیدہ ’’لال پری، ٹیچر اسٹوڈنٹ‘‘ والا گیم۔ وہ وقت بھی یاد آیا، جب بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی ہم سب چھتوں پر چڑھ جاتے، یا گلیوں میں نکل آتے، نہ کسی کو بیمار ہونے کا ڈر ہوتا، نہ کپڑوں کی خرابی کی فکر۔امّی کی آوازیں آتی رہتیں مگر ہم ہنستے کھیلتے، بھیگتے بھاگتے رہتے۔ ہائے! وہ لمحے کتنے قیمتی تھے۔
وہ اسکول کے بعد گھر آتے ہی بیگ ایک طرف رکھ کر سیدھا کھیلنے بھاگ جانا، اور پھر مغرب کے وقت تھکے ہارے واپس آنا… مگر دل مزید کھیلنے ہی کو مچلتا رہتا۔ وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں… نئی پینسل، نیا ربڑ یا ٹیچر کی ایک شاباش، بس انہی باتوں سے ہماری پوری دنیا آباد تھی۔
نہ کسی سے مقابلہ، نہ کسی سے حسد…ہر ہر شئے میں سادگی اور سکون… جو آج کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ آج ہمیں سب ہی کچھ تو میسر ہے… موبائل فون، انٹرنیٹ، ہزارہا سہولتیں… مگر وہ دل کی خوشی، وہ بےفکری کہیں کھو سی گئی ہے۔ ابھی انہی خیالوں میں گم تھی کہ اچانک بچّوں کے شور نے واپس حال میں لا کھڑا کیا۔ جہاں بھائی کے دونوں شہزادے اس بات پر لڑ رہے تھے کہ ایک نے ٹی وی دیکھنا ہے اور دوسرے نے پی سی چلانا ہے۔
مَیں نے اپنی آٹوگراف بُک کو بہت پیار سے دیکھا، مُسکرائی… اور آہستہ سے وہیں رکھ دیا کہ زندگی تو بس وہی تھی، جو ہم نے جی لی۔