• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیّد ذوالفقارحسین نقوی

لفظ ’’تکیہ کلام‘‘، جامع نسیم اللغات اُردُو کے مطابق مذکّر ہے اور اس کےمعنی ہیں، وہ لفظ، جوگفتگو کے دوران بار بار کہنے کی عادت پڑ جائے ۔جہاں رُکے، لفظ بِلا قصد زبان سے نکلا۔ مثلاً ’’کیا نام ہے‘‘، ’’اللہ آپ کا بھلا کرے‘‘، ’’اللہ خیر…‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اِس کو اضافت اور بغیر اضافت دونوں طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ مرزا داغ دہلوی نے کیا عُمدہ کہا؎ ہر وقت داغؔ کا یہی تکیہ کلام ہے… میرے حضورؐ مجھ کو تونگر بنائیں گے۔ ایک اور شاعر کہتے ہیں؎ کیوں تکیۂ کلام نہ ہوجائے کوئی لفظ…جب گفتگو میں ہو نہ سہارا کسی طرح۔ تو آج ہم اپنے مشاہدے میں آنے والے کچھ دل چسپ تکیہ کلاموں ہی پر بات کریں گے۔

مثلاً ہماری خالہ جان کا ساری زندگی تکیہ کلام رہا۔ ’’تھم جا....‘‘اُنھی کا ایک اور تکیہ کلام تھا۔ ’’چُھو من ٹالو‘‘اُن کے بھتیجے، جو ایک سرکاری ادارے میں اہم منصب پر فائز تھے،ایک دن تین ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ دفتر گئے اور چھے بجے سے پہلے واپس آگئے، تو خالہ نے اُنھیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا۔ ’’آگیا، چُھو من ٹالو کر کے۔ میرے بیٹے! میرے چاند! ڈیوٹی کے ٹائم سے انصاف کِیا کر۔ روزی تب ہی حلال ہوتی ہے۔‘‘ خالہ جان حق بات کرنے میں چُوکتی نہیں تھیں، چاہے کسی کو بُری لگے یا بھلی۔

ہمارے خاندان کے ایک بزرگ تھے، وہ دورانِ گفتگو کہا کرتے۔ ’’سمجھا ناں!‘‘اور یہ الفاظ اس شدّت سے دہراتے کہ اُن کی اہلیہ محترمہ کا بھی یہی تکیہ کلام بن گیا۔ ہمارے کنبے میں ایک بزرگ خاتون تھیں،اُن کے منہ پر ہمہ وقت رہتا۔’’آئی سمجھ.....؟‘‘ ایک دن ہمیں شرارت سوجھی، تو گفتگو کے آغاز ہی میں کہہ ڈالا۔ ’’نہیں آئی سمجھ۔‘‘ اور پھر اُنھوں نے اپنی بات چیت کے دوران یہ تکیہ کلام اٹھارہ مرتبہ تکرار کیا۔ اسی طرح ہمارے ایک اُستادِ محترم مختار اجمیری کا تکیہ کلام ’’سبحان تیری قدرت‘‘ رہا۔ ایک اور صاحب کا تکیہ کلام سُنا، ’’معاف کیجیے گا‘‘۔

جہاں ضرورت نہیں ہوتی تھی، وہ وہاں بھی معافی مانگنے کےعادی ہوگئے تھے۔ایک دن توجّہ مبذول کروائی، توغور کرکے تکیہ کلام تبدیل کرکے’’اللہ معافی!!‘‘ رکھ لیا۔ ہماری نانی جان کا تکیہ کلام تھا، ’’بات یہ ہے…‘‘یہی ہمارے والدِ محترم اور خاندان کی کئی اور شخصیات کا بھی تکیہ کلام رہا۔ ہمارے خالو جان بات کا آغاز ہی یوں کرتے۔ ’’چیز یہ ہے…‘‘ جب کہ ہمارے ایک کزن کا تکیہ کلام ہے۔ ’’آپ کی سوچ ہے‘‘ایک اور رشتے دارخاتون کا ساری زندگی تکیہ کلام رہا۔ ’’اے خوش رہیں تمہارے…‘‘ (وہ بے چاری خواندہ نہیں تھیں۔ پہلے اُن کا تکیہ کلام تھا۔ ’’اے مرجاں تمہارے…‘‘ ہماری دادی جان نے اُنھیں پیار سےسمجھایا کہ ’’ایسے نہیں کہا کرو، یہ مناسب بات نہیں‘‘ تو اُنھوں نے تکیہ کلام دُرست کرلیا) خاندان کےایک بابا جی کا تکیہ کلام تھا۔’’سلامت رہیں۔‘‘ ایک اور رشتے دار آنٹی ہر بات پر کہتیں۔’’یہی تو کہوں ہُوں.....‘‘۔

ماضی میں ریڈیو پاکستان، کراچی اسٹیشن کے ایک مقبولِ عام پروگرام ’’حامد میاں کے ہاں‘‘ میں سینئر آرٹسٹ محمود علی کا تکیہ کلام تھا۔ ’’یہ دیکھیے گا.....‘‘ پی ٹی وی کا دَور بھی بڑا شان دار دَور تھا۔ اُس کے مایہ ناز ڈراماسیریلز کے کرداروں کے تکیہ کلام آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔ مثال کےطور پر ’’انکل عرفی‘‘ میں حسنات بھائی (جمشید انصاری) کا تکیہ کلام ’’چقّوہےمیرے پاس.....‘‘ یا ’’اَن کہی‘‘ میں سراج کے کردار میں خالدنظامی کو لوگ آج بھی ’’تُھوئی!!‘‘کے تکیہ کلام سے جانتے ہیں۔

جمشید انصاری کا ایک اورتکیہ کلام’’ قطعی نہیں‘‘ بھی خاصا مقبول ہوا۔ کوئٹہ سینٹر کے ڈراما سیریل ’’چھائوں‘‘ میں ذوالقرنین حیدرکا ایک تکیہ کلام ’’الکمونیا میں توایسا نہیں ہوتا‘‘ مُلک بھرمیں بہت مشہور ہُوا۔ اور پھر ڈرامے کی آخری قسط میں ’’الکمونیا‘‘ کی وضاحت بھی کی گئی کہ وہ کوئی مُلک نہیں، ایک قبرستان تھا۔ لاہور سینٹر کے شہرۂ آفاق سیریل ’’سونا چاندی‘‘ میں مُنّو بھائی نے ایک بہت پُرلطف کردار’’چاچا کرموٹیم پیس‘‘تخلیق کیا، اُس کا تکیہ کلام ’’ویسے مَیں کبھی کسی کے خلاف بات نہیں کرتا۔‘‘ بھی مقبولِ عام ہوا۔ (ویسےچاچا کرمو ہر ایک کے خلاف بات کرکے آخر میں یہ جملہ بڑی مہارت اور چابک دستی سے چسپاں کردیا کرتے تھے) اسی طرح ڈراما ’’خواجہ اینڈ سنز‘‘ سے ایک تکیہ کلام ’’زورکس پرہوا‘‘ خوب معروف ہوا۔ پھر بعض علماء کے بھی کچھ تکیہ کلام معروف ہوئے۔

جیسے علّامہ طالب جوہری کے الفاظ ’’دامنِ وقت میں اب زیادہ گنجائش نہیں ہے۔‘‘ اور’’میرے ساتھ ساتھ رہنا، اِس لیے کہ مجھے بہت دُور تک جانا ہے۔‘‘ تکیہ کلام بن گئے تھے۔ اسی طرح مولانا سیّد محمد عون نقوی کا ایک جملہ اُن کی پہچان بنا کہ ’’جملہ ضائع نہیں کر دیجیے گا۔‘‘ بلوچستان یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر سیّد کرّار حسین ہمیشہ اپنی بات اِس طرح شروع کرتے۔ ’’میرے بچّو! میرے عزیزو!‘‘ معروف دانش وَر،ادیب اشفاق احمد صاحب کا منفرد تکیہ کلام تو ایک پورا دُعائیہ جملہ ، بلکہ اب تو ایک ضرب المثل بن چُکا ہے۔ ’’اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں بانٹنے کا شرف عطا فرمائے۔‘‘

ہمارے ایک گہرے دوست ہیں، اُن کا تکیہ کلام ہے۔ ’’ٹھیک ہوگیا‘‘ ایک اور دوست کا تکیہ کلام ہے۔’’مسئلہ نہیں ہے‘‘ مسئلہ ہوتا بھی ہے، تو وہ یہی کہتے ہیں، مسئلہ نہیں ہے۔ ایک کرم فرما کا تکیہ کلام ہے۔’’کیا خبریں ہیں؟‘‘ ’’اور سُناؤ، کوئی نئی تازی…‘‘ یہ بھی ایک مہربان کے لب پہ اکثر رہتا ہے۔’’اور کیا ہو رہا ہے؟‘‘یہ بھی ایک صاحب کا تکیہ کلام ہے، تو ’’جیو…جیو‘‘ بھی ایک بھلے مانس کا تکیہ کلام ہے۔ جب کہ ایک صاحب بات بے بات ’’خوش رہو، اپنے خرچے پر…‘‘کہتے بھی سنائی دیتے ہیں۔

ایک عزیزہ نے’’آپ کو زحمت نہ ہو تو…‘‘ اور’’اللہُ غنی‘‘ جیسے بامعرفت الفاظ کو اپنا تکیۂ کلام بنا رکھا ہے۔’’اللہ تیرا شُکر…‘‘بھی ایک نہایت احسن تکیہ کلام ہے ۔ہمارےایک انکل کا تکیہ کلام علّامہ محمد اقبالؒ کا ایک خُوب صُورت مصرع تھا، جو ہر طرح کے حالات میں اُمید افزا معلوم ہوتا۔ ’’پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ‘‘۔ جب کہ اُن کے ایک بھائی کے تین تکیہ کلام تھے۔’’چلوچھٹی ہُوئی‘‘، ’’لامحالہ‘‘، اور’’نہ لینا ایک، نہ دینے دو۔‘‘ایک زِیرک دوست کا تکیہ کلام تھا۔

’’یہ وقت بھی گزر جائےگا‘‘ ’’اور نہیں تو کیا‘‘بھی ایک تکیہ کلام ہے۔ ایک جاننے والے کا تکیہ کلام تھا۔’’میری بات ایک ہوتی ہے‘‘ ایک کرم فرما اکثر اِس طرح کہتے۔ ’’اللہ تمھیں نیکی دے ‘‘ نیز، اِس حقیر فقیر کے بھی دو تکیہ کلام ہیں۔ ’’کام ہی میں آرام ہے‘‘ اور’’آئندہ ایسا نہیں ہوگا‘‘ بہرحال، حاصلِ کلام یہ ٹھہراکہ’’تکیہ کلام‘‘اگراچھا، مثبت، تعمیری، دُعائیہ اور خیرسگالی پر مبنی ہو تو بار بار سُننے میں بھی بُرامعلوم نہیں ہوتا، طبیعت پر گراں نہیں گزرتا، لیکن اگر لایعنی سا ہو، تو تکرار ناگوار ہی محسوس ہوتی ہے۔