نیٹو کے آرٹیکل5 کے مطابق ’’اگر کسی ایک رُکن مُلک پر حملہ ہو، تو اُسے تمام ارکان ممالک پرحملہ تصّورکیاجائے گا۔‘‘ اِسی لیے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ میں نیٹو سے شکایت رہی کہ جب اُنہوں نے اپنے یورپی اتحادیوں سے جنگ میں شریک ہونے کو کہا، تو وہ پہلے انکاری ہوئے اور پھر نیم دِلانہ فوجی مدد کی۔ جیسے برطانیہ نے اپنے ایئربیس سے امریکی طیاروں کو ایران پر حملے کی مشروط اجازت دی۔ جرمنی اور کچھ دوسرے ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈّوں کے دفاع کے لیے کارروائیاں کیں۔
فرانس، برطانیہ نے سیزفائر کے بعد اپنے طیارہ بردار جہازخلیج بھیجے، جن کا مقصد آبنائے ہُرمز کو کُھلا رکھنے میں مدد دینا تھا۔ بہرکیف، ٹرمپ نے اسپین کے رویّے پر شدید تنقید کی، جب کہ برطانوی وزیرِاعظم، اسٹارمر پر طنز کیا کہ وہ چرچل نہیں۔ یاد رہے، چرچل نے دوسری عالمی جنگ میں امریکا سے مدد کی درخواست کی اورپھردونوں ساتھ مل کر لڑے اور ہٹلر کو شکست دی۔
اِس صُورتِ حال سے ایک تاثر یہ پیدا ہوا کہ اب یہ پہلے والا ’’نیٹو اتحاد‘‘ نہیں رہا، اس میں دراڑ پڑ چُکی ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ وہ ہمیشہ یورپ کی مدد کرتا رہا، جس کی تازہ مثال یوکرین ہے، جسے اربوں ڈالرز کا امریکی اسلحہ دیا گیا، جب کہ جواباً یورپ نے ایران جنگ کو اپنی جنگ ماننے سے انکار کردیا۔ امریکا نے سرکاری طور پر شدید مؤقف اختیار کرتے ہوئے یورپ کو بےوفا قرار دیا۔ ٹرمپ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب اُنہیں نیٹو کی کوئی ضرورت نہیں کہ امریکا اکیلا ہی کافی ہے۔ اُنہوں نے اسرائیل کی جانب سے ساتھ دینے پر اُس کی تعریف کی۔
یورپی ممالک، جیسےفرانس، جرمنی اور اسپین یا پھر برطانیہ کا کہنا تھا کہ یہ اُن کی جنگ نہیں ہے اور وہ اپنے قومی مفادات کے مطابق ہی اس میں اپنا حصّہ ڈالیں گے۔ لیکن ایسے حسّاس معاملات میں جو کچھ بظاہر سامنے ہوتا ہے، اُس سے کہیں زیادہ پسِ پردہ ہوتا ہے۔ اِس کا ایک ثبوت یہ ہے کہ نیٹو کے اعلیٰ ترین حکّام نے دعویٰ کیا کہ وہ امریکا کی ہر قسم کی مدد کرتے رہے ہیں، گو اُنہوں نے حملوں میں حصّہ نہیں لیا، لیکن انٹیلی جینس شیئرنگ اور دیگر فوجی معاملات میں امریکا سے بھرپور تعاون کرتے ہوئے اُسے سٹیلائیٹ اور انٹرنیٹ معلومات فراہم کیں، جو جدید جنگی حکمتِ عملی میں نہایت اہم ہیں۔
واضح رہے، مشرقِ وسطیٰ اور ایران کو جتنا یورپ جانتا ہے، اُتنا امریکا نہیں جاتنا۔ کچھ ناقدین نے یہ تاثر دیا کہ یورپ اور امریکا میں موجود اختلافات، اب گہری خلیج کی صُورت اختیار کرچُکے ہیں۔ اور اِسی پس منظر میں تُرکیہ کے شہر انقرہ میں ہونے والا نیٹو اجلاس دنیا کی توجّہ کا مرکز بنا۔ خاص طور پر ایران، روس اور چین نے اسے بہت قریب سے مانیٹر کیا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا یہ اختلاف اِتنا گہرا ہے کہ اس سے موجودہ صُورتِ حال اور مستقبل میں مغربی اتحاد کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔
انقرہ اجلاس میں نیٹو کی یک جہتی نے کیا حاصل کیا؟ اِس نیٹو اجلاس کا بنیادی مقصد امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہونے والا تناؤ دُورکرنا تھا۔ اِس میں صرف ایران جنگ کا معاملہ نہیں تھا، بلکہ نیٹو دفاعی بجٹ میں یورپی ممالک کا زیادہ حصّہ ڈالنا بھی اہم ایشو تھا۔ نیز، روس پر پابندیوں کا معاملہ بھی اجلاس کے ایجینڈے میں شامل تھا۔ نیٹو بجٹ میں یورپی ممالک کا حصّہ بڑھانا صرف ٹرمپ ہی کا مطالبہ نہیں، بلکہ یہ مسئلہ اوباما دَورسےچلا آرہا ہے۔
اُن کا مطالبہ تھا کہ یورپ اپنے دفاع کی زیادہ ذمّے داریاں سنبھالے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا نے یورپ کی بحالی کے لیے مارشل پلان کے تحت جو فنڈز مختص کیے تھے، اُسی سے یورپ کی ترقّی ممکن ہوئی۔ اب تک نہ صرف اقتصادی، بلکہ یورپی دفاع کا زیادہ تر بوجھ بھی امریکا کے سَر رہا، اِسی لیے یورپی ممالک یوکرین کے مسئلے پر امریکا سے زیادہ مطالبات کرتے ہیں۔
وہ جانتے ہیں کہ صرف امریکا ہی روس کو روک سکتا ہے۔ پیوٹن بہت زیرک سیاست دان اوربڑے قوم پرست رہنما ہیں، مگر وہ صرف ٹرمپ ہی سے گھبراتے ہیں کہ ٹرمپ بیانات اور پالیسیز بدلنے کے ماہر ہیں، جب کہ وہ ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا بھی نعرہ بلند کرتے ہیں، یعنی وہ پیوٹن سے بھی بڑے قوم پرست ہیں۔ بائیڈن دَور میں تقریباً 60بلین ڈالرز کا پیکیج یوکرین کودیا گیا، اس کےعلاوہ امریکا، یورپ کی جانب سے روس پر عاید کردہ پابندیوں میں بھی بھرپورطریقے سے شریک رہا۔
ظاہر ہے، ایران جنگ میں اگرٹرمپ نےیورپی ممالک کی عملی فوجی شرکت پر تنقید کی، تو اِس پس منظر میں یہ ایک فطری امرتھا۔ اِسی لیےنیٹو کے رہنماؤں نے اجلاس کے اعلامیے میں سب سے پہلے آرٹیکل5 کے لیے اپنی کمٹمنٹ کا مضبوطی سے اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نیٹو ممالک ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں، فرانس، جرمنی، برطانیہ اور اٹلی نے بتایا کہ اُنہوں نے شارٹ اور لانگ ٹرم پلان کے تحت نیٹو فنڈز میں اپنا حصّہ بڑھا دیا ہے اور یہ ایک جاری عمل ہے۔
نیٹو اجلاس کا ایک اہم اعلان جدید اسلحے سے متعلق تھا، جس کی پانچ سال سے جاری روس، یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک خاص اہمیت ہے۔ اعلان میں بتایا گیا کہ اِس مَد میں پچاس بلین ڈالرز رکھے گئے ہیں، جس سے نیا اسلحہ خریدا جائے گا، جب کہ اسلحہ سازی کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ کینیڈا اور یورپی ممالک، یورپی دفاع کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے ضمن میں کام کر رہے ہیں، جس سے امریکا کے دیرینہ مطالبے کو تقویت ملے گی، لیکن پھر بھی نیٹو اجلاس میں ایران جنگ میں امریکا کی خواہش کے مطابق شرکت نہ کرنے پربحث ہوتی رہی۔
یہ معاملہ بھی زیرِ بحث آیا کہ یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کی ہیئت اور تعداد کیا ہونی چاہیے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ انقرہ اجلاس بڑی حد تک یورپ اور امریکا کے درمیاں تناؤ کم کرنےمیں کام یاب رہا، جس میں تُرکیہ کے صدر اردوان کا مرکزی کردار ہے۔
واضح رہے، تُرکیہ نیٹو کی دوسرے بڑی فوجی طاقت ہے، جب کہ وہ روس کے خلاف اُس کا شمالی دفاعی قلعہ بھی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک موقعے پر یہاں تک کہا تھا کہ وہ اِس اجلاس میں صرف صدر اردوان سے دوستی اور تُرکیہ سے مضبوط امریکی تعلقات کی وجہ سے شرکت کررہے ہیں۔ گویا، یہ بھی ایک طرح سے یورپی اتحادیوں سے شکوہ تھا۔
نیٹو نے حالیہ امریکا، ایران جنگ کے علاوہ ہمیشہ گراؤنڈ آن بوٹس کی شکل میں حصّہ لیا، خواہ وہ عراق کی جنگ ہو یا افغانستان کی۔ یہ کہنا بھی پوری طرح درست نہ ہوگا کہ یورپ نے ایران جنگ میں امریکا کا ساتھ نہیں دیا۔ یورپ نے جنگ شروع ہوتے ہی ایران پرسخت پابندیاں عاید کیں، جس کی وجہ سے ایران میں منہگائی میں ہوش رُبا اضافہ ہوا۔
اِسی بڑھتی منہگائی پر عوام نے شدید احتجاج کیا، جس کے دوران ہزاروں شہری سیکیوریٹی اہل کاروں کےہاتھوں مارے گئے۔ ایرانی ریال16 لاکھ فی ڈالر تک گر گیا۔ اور یہی حالات بعدازاں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کا سبب بنے۔ اُس وقت یہی کہا جاتا تھا کہ یہ حملے رجیم چینج کے لیے ہیں، مگر ایسا تو نہیں ہوا، تاہم ایران کے رہبرِ اعلیٰ سمیت اعلیٰ سِول و فوجی قیادت ابتدائی حملوں ہی میں نشانہ بن گئی۔
اگر یہ رجیم چینج نہیں بھی ہے، تب بھی ایران کو قیادت کے بحران کا سامنا ہے، کیوں کہ ایران کی موجودہ خارجہ، فوجی اور اندرونی پالیسی کےمعماراب موجود نہیں رہے۔ نئے رہبرِاعلیٰ زخمی ہونےکی وجہ سے صرف بیانات تک محدود ہیں اور ابھی تک عوام کےسامنے نہیں آئے۔ سیاسی قیادت کم زور ہوئی اوراب عملاً کنٹرول پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے، جو پڑوسی مسلم ممالک پر میزائل حملوں اور آبی گزرگاہیں بند کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں، جس سے ایران کے دشمنوں اور مسلم اُمّہ کے مخالفین کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ عربوں کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور دشنام طرازی سے اسرائیلی یا امریکا بدنام نہیں ہو رہے، بلکہ مسلم دنیا ہی کا امیج برباد ہورہا ہے۔
اُدھر، یورپی یونین اور برطانیہ نےپاسدارانِ انقلاب کودہشت گرد گروپس کی فہرست میں شامل کرلیا ہے، یعنی اُن کےنزدیک وہ فوج نہیں ہے۔ اِس فیصلے سے بھی ایران پر معاشی پابندیاں مزید سخت کی جاسکتی ہیں۔ یوں یورپ نے ایران کو کم زور ترین معاشی پوزیشن پر لاکھڑا کیا، جس سے کسی بھی ریاست کے استحکام پر براہِ راست ضرب پڑتی ہے۔
پھر یورپی ممالک اپنے اِس مؤقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں کہ آبنائے ہُرمز پر کنٹرول سے ایران کا کوئی تعلق نہیں کہ یہ ایک آزاد، بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو بھی اُسی طرح مسترد کرتے ہیں، جیسے اسرائیل، امریکا، روس، چین اور دنیا کے باقی ممالک کرتے ہیں۔
یاد رہے، مشرقِ وسطیٰ کی نقشہ سازی میں یورپ کا کلیدی کردار ہے۔ برطانیہ نے مسلمان تُرک سلطنت کو شکست دے کر سات سوسال بعد،1919ء میں یروشلم پر قبضہ کیا تھا، جسے بعدازاں اسرائیلی ریاست کی شکل میں تبدیل کردیا گیا۔ تمام عرب ممالک ’’سائیکس پیکو معاہدے‘‘ کے تحت وجود میں آئے، جو 1916ء میں مشرقِ وسطیٰ کی تقسیم کے لیے برطانیہ اور فرانس کے درمیان خفیہ طور پر طے پایا تھا۔ پھر یہ کہ اِن ممالک سے تیل بھی اِنہی یورپی ممالک نے نکالا، یہاں تک کہ ایران میں بھی تیل برٹش پیٹرولیم نےنکالا، وگرنہ وہ تو ایک عام سا غریب مُلک تھا۔
حقیقت تلخ اور بہت کڑوی ہوتی ہے، اگر اسے نظریاتی اور جذباتی تناظرمیں دیکھا جائے، تو کچھ الگ ہی کیفیات جنم لے لیتی ہیں۔ تہران، دبئی، بیروت، کویت، ریاض، بغداد، دمشق، قاہرہ اور تریپولی کا جدید شہروں میں تبدیل ہونا اِسی برطانیہ، امریکا اور یورپ کے نکالے گئے تیل کا مرہونِ منّت ہے۔ وہاں کا بلند معیارِ زندگی بھی اِنہی کی ٹیکنالوجی سے ممکن ہوا۔
خود اپنے کراچی کو دیکھ لیں، جو آج کھنڈر بنا ہوا ہے، جب کہ انگریزوں کے زمانے میں یہاں کی سڑکیں روز دُھلتی تھیں۔ بہرکیف، کہنا یہ ہےکہ جو نقّاد عرب ریاستوں پرامریکی اور یورپی غلامی کے الزامات لگاتے ہیں، وہ تاریخ کا یہ سبق بھول جاتے ہیں کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ماضی میں صحرا یا محض ویران پہاڑی علاقے تھے۔
اُن کی آج کی جدید پورٹس، مچھلی پکڑنے کے چھوٹے چھوٹے نالے تھے، جہاں پرانے زمانے کے ٹرالر چلا کرتے۔ یہاں صرف تیل ہی نہیں نکلا، بلکہ مختلف فوجی اور اقتصادی معاہدوں کے تحت تعمیر و ترقّی کا بھی سفر شروع ہوا۔ پورا انفرااسٹرکچرہی بدل گیا، جو جدید دنیا میں کسی سے کم نہیں۔
آج بھی سب سے زیادہ ایرانی تارکینِ وطن امریکا، برطانیہ اور یورپ میں ہیں، سوال یہ ہےکہ وہ روس اور چین میں کیوں نہیں؟ اہم ایرانی عُہدے داروں کے بچّے بچیاں امریکی یونی ورسٹیز میں پڑھ کر وہیں ملازمت کررہے ہیں، جب کہ ایرانی تارکینِ وطن کی تعداد پچیس لاکھ کے قریب ہے۔ یورپ اور امریکا نے جہاں اِس تیل سے بے تحاشا دولت کمائی، وہیں مشرقِ وسطیٰ کو جدید بھی بنایا، اِسی لیے آج وہاں اُن کے فوجی اڈّے اور تجارتی مراکز ہیں۔
یہ فوجی اڈّے بنیادی طور پر ایران کے خلاف نہیں، بلکہ سوویت یونین کےخلاف تھے، بلکہ ایران تو خود سوویت یونین کے خلاف امریکی مورچا رہا ہے۔ ویسے ایران ایک جدید اور شان دارمُلک ہے اور وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ دنیا سے جڑا رہے۔ یورپی ممالک نے اِسی لیے براہِ راست جنگ میں حصّہ نہیں لیا کہ وہ ایران کی واپسی کا دروازہ کُھلا رکھنا چاہتے ہیں اور شاید امریکا کی بھی یہی حکمتِ عملی ہے۔ ایران بھی یورپی ممالک پر تنقید نہیں کرتا اور نہ ہی اُن کے فوجی اڈّوں پر حملے کا کہتا ہے، کیوں کہ وہ بہرحال ایران کے لیے ایک سافٹ کارنر رکھناچاہتا ہے۔
یورپی ممالک، آزاد ممالک ہیں، جہاں جمہوریت کا راج ہے اور اُنہیں ہر قدم پر اپنی پارلیمان کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ مِرکل جیسی مضبوط سیاست دان تارکینِ وطن کےایشو پر شکست کھا گئیں۔ عراق کی جنگ میں جن ممالک نے امریکا کا ساتھ دیا، اُن میں ٹونی بلیئر جیسا مقبول لیڈر بھی شامل تھا، مگر اُنھیں اب تک شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ اُن کے فیصلے سے صدام حسین توہلاک ہوئے، لیکن مشرقِ وسطیٰ، خاص طور پرعراق اوراردگرد جو فساد برپا ہوا، اُس سے کہیں بہتر تھا کہ صدام کی آمریت ہی قائم رہتی۔
ویسے یہ وہ معاملہ تھا، جس میں ایران نےامریکا کا ساتھ دیا، کیوں کہ صدام کے بعد وہاں اُس کی نظریاتی اتحادی حکومت قائم ہوئی اورعراقی ملیشیاز کو، جنہیں ایران سپورٹ کرتا تھا، فِری ہینڈ ملا۔ یاد رہے، اسد دَور کے شام میں ایران کے فوجی اڈّے تھے، جب کہ جنرل سلیمانی بھی عراق میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ ایران کو دمشق میں اسد حکومت کی کُھل کر مدد کا موقع ملا اور لبنان میں حزب اللہ، اُسی کی وجہ سے طاقت وَر ہوئی۔
یورپ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے بہت قریب ہے، بلکہ تاریخ میں اِس کا اِن ممالک سے بہت گہرا تعلق بھی رہا ہے۔ شام پر مسلم حکومت سے پہلے بازنطینی حُکم ران تھے۔ سکندرِاعظم نے دارا کو شکست دے کر ایران پر قبضہ کیا، رومن سیزر نے مصر پر حکومت کی، جب کہ یروشلم پر مسلمانوں سے پہلے رومن حُکم ران تھے۔ اِس لیے صرف یہی کہنا کافی نہیں کہ یورپ نے مشرقِ وسطیٰ کو تقسیم کیا، بلکہ وہ اُسے فتح بھی کرتا رہا۔ لارنس آف عریبیہ کی داستان، کوئی کہانی نہیں، ایک حقیقت ہے، جس نے مشرقِ وسطیٰ کانقشہ بدل دیا اور عربوں کو تُرک سلطننت کا باغی بنادیا۔
اِس تاریخی پس منظرکی وجہ سےیورپی ممالک جب مشرقِ وسطیٰ میں دخل اندازی کرتے ہیں، تو اُن پر نہ صرف تاریخ کا جبر ہوتا ہے بلکہ رائےعامّہ کا دباؤ بھی۔ اس کے مقابلے میں امریکا، مشرقِ وسطیٰ سے چھے ہزارمیل دُور ہے۔ البتہ، اُس کے فوجی اڈّے خطّے میں موجود ہیں۔ یہ بیسز جن پر ایران آج حملہ آور ہوتا ہے، کبھی خُود اُس کی سرزمین پر بھی موجود تھے۔ سرد جنگ کے زمانے میں سوویت یونین تہران کو اپنے نشانے پر رکھتی تھی، اِسی لیے ایران دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ تھا۔
اُس کی فوج کو تربیت اور ہتھیار مغربی ممالک اور امریکا نے دیئے، جب کہ اس کا انڈسٹریل بیس بھی انہوں ہی نے بنایا۔ نیٹوکےانقرہ اجلاس میں بہت سی باتیں اعلامیے کے طور پر سامنے آئیں، لیکن بہت سی باتیں مخفی ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ یورپی ممالک نے ٹرمپ کو باورکروانے کی کوشش کی کہ وہ ایران کو بخوبی سمجھتے ہیں اور یہ بھی کہ کہاں ہتھیار کارگر ہیں اور کہاں ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔