• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افشاں نوید

دنیا بھر میں جانے کتنے مُلکوں، شہروں اور کتنی فیکٹریز میں فُٹ بالز بنتی ہوں گی، لیکن پاکستان میں بننے والی فُٹ بال کا معیار انتہائی اعلیٰ ہے، اتنا اعلیٰ کہ کھیلوں کی دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے مقبول ایونٹ ’’فیفا ورلڈ کپ‘‘میں ہماری تیار کردہ فُٹ بال استعمال کی جاتی ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات ہمارے لیے بےحد باعثِ فخرہے کہ اتنے بڑے مقابلے میں استعمال ہونےوالی فُٹ بال پاکستان کے نسبتاً ایک چھوٹے شہر سیال کوٹ میں تیار ہوتی ہے۔

سوچیے! دنیا کے کروڑوں لوگ جب فیفا ورلڈ کپ دیکھتے ہیں تو اُن کی نظریں فُٹ بال ہی پرجمی ہوتی ہیں، جو کبھی ایک کھلاڑی کی کِک سے دوسرے کھلاڑی تک پہنچتی ہے، تو کبھی ایک پاس سےدوسرے پاس کا سفر کرتی ہے۔ کبھی گول پوسٹ کےاندرجا کرلاکھوں دلوں کو خوشی سے ہم کنار کر دیتی ہے، تو کبھی گول کیپر کی کِک سے باہرجا کر بےشمار لوگوں کو مایوس بھی کرتی ہے۔ اور یہ فُٹ بال پاکستانی ہُنرمندوں کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی ہوتی ہے۔ تیسری دنیا کا ایک مُلک، جس سے متعلق عالمی میڈیا پرزیادہ ترغربت وناخواندگی، سیاسی بحرانوں اور معاشی مشکلات ہی کی خبریں آتی ہیں۔ اُسی ملک کے ہنرمند ہاتھ دنیا کے سب سے بڑے کھیل کے میدان کے لیے فُٹ بال تیار کرتے ہیں۔ مطلب پاکستان فُٹ بال بناتا ہے اور دنیا اُس سے کھیلتی ہے۔

اس سال فیفا ورلڈ کپ کے میچز، مناظر کچھ اور بھی دل چسپ تھے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی فُٹ بال کا جنون دیکھنے میں آیا۔ میچز پر تبصرے، ہر گول پر گفتگو، ہر ٹیم کی کارکردگی پر رائےزنی۔ کھلاڑیوں کی اچھی کارکردگی پر پاکستانی ایسے خوش ہوتے رہے، جیسے یہ کام یابی اُن کی اپنی ہو۔

سوشل میڈیا کی ہر وال پر گرما گرم تبصرے، لوگ تھکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ لامین یامال (Lamine Yamal) ہمارا ہیرو ٹھہرا۔ اسپین کی ٹیم کی جیت کو ہم نے اپنی فتح سمجھا۔ سچ تو یہ ہے کہ اب فُٹ بال صرف ایک کھیل نہیں، ایک عالمی جنون ہے۔ اور فیفا ورلڈ کپ شاید دنیا کا وہ واحد کھیل، جسے دیکھنے کے لیے زبان، رنگ، نسل، مذہب اور سرحدوں کی دیواریں گر جاتی ہیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، جب پاکستانی ہاتھ دنیا کے معیار کی فُٹ بال تیار کرسکتے ہیں، پاکستانی عوام اس کھیل سے جنون کی حد تک محبّت کرسکتے ہیں، تو پاکستان میں فُٹ بال کھیلی کیوں نہیں جا سکتی؟ پاکستان میں فُٹ بال کی ایک مضبوط ٹیم کیوں نہیں بن سکتی؟ ہمارے نوجوان عالمی سطح پر فُٹ بال کیوں نہیں کھیل سکتے؟ ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ کیوں نہیں سوچا کہ جس مُلک کے ایک شہر کے ہُنرمند دنیا کے بہترین فُٹ بال تیار کرسکتے ہیں، اُسی ملک کے میدانوں میں دنیا کے بہترین فُٹ بالر کیوں پیدا نہیں ہو سکتے؟

دراصل یہ سوال صرف کھیل کا نہیں، ہماری ترجیحات کا ہے۔ کرکٹ، ہاکی کے لیے ہماری محبّت اپنی جگہ، ہم کرکٹ کے کھلاڑیوں کو قومی ہیروز سمجھتے، اُن کی ہرجیت پرجشن مناتے اور ہار پرسخت افسردہ ہوتے ہیں۔ کرکٹ کے لیے گراؤنڈز، اکیڈمیز، اسپانسرز ہیں، میڈیا ہے، سرمایہ ہے۔ تو پھر فُٹ بال کے لیے کیوں نہیں؟ کیا ہمارے نوجوانوں کے پاؤں صرف کرکٹ کی پِچ پر دوڑ سکتے ہیں؟

کیا ہماری گلیوں میں فُٹ بال کھیلنے والے بچّوں کی آنکھوں میں خواب نہیں ہوتے؟ کیا کسی غریب گھر کا بچہ فُٹ بال کا عظیم کھلاڑی نہیں بن سکتا؟ دنیا کے کئی ممالک نے فُٹ بال کو صرف کھیل نہیں سمجھا، اُسے اپنی قومی شناخت بنا لیا۔ چھوٹے چھوٹے ممالک عالمی فُٹ بال کے میدانوں میں بڑی بڑی ٹیمز کو شکست دے دیتے ہیں۔

اُن کے نوجوان دنیا کے بڑے کلبز میں کھیلتے ہیں، اُن کے کھلاڑی کروڑوں لوگوں کے ہیروز بنتے ہیں۔ پاکستان دنیا کو فُٹ بال دیتا ہے، مگر دنیا کے فُٹ بال کے میدانوں میں پاکستان کا نام ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ کیا یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ نہیں۔ ہمارا مُلک کثیر نوجوان آبادی کے حامل ممالک میں سرِفہرست ہے۔ ہمارے پاس ٹیلنٹ ہے، جذبہ ہے، کھیلوں کی ایک شان دار تاریخ بھی ہے اور ہمارے پاس سیال کوٹ ہے، جہاں کے ہُنرمند ہاتھ دنیا کے لیے فُٹ بال تیار کرتے ہیں۔ کمی ہے، تو صرف ٹھوس منصوبہ بندی کی۔ ہم نے ہاکی کے کھیل میں دنیا پرحُکم رانی کی۔

ایک وقت تھا، جب پاکستان ہاکی کا بادشاہ تھا۔ دنیا ہماری ٹیم کا نام احترام سے لیتی تھی۔ ہمارے کھلاڑی عالمی میدانوں میں پاکستان کا پرچم بلند کرتے تھے، مگر آج…؟ آج ہم اپنی تاریخ کی کتابوں ہی میں وہ کہانیاں تلاشتے ہیں۔ آج ہم اس بات پرفخر کرتے ہیں کہ پاکستان میں عالمی معیارکی فُٹ بال بنتی ہے، لیکن کیا دنیا یہ پوچھنے میں حق بجانب نہیں کہ کیا پاکستان میں کوئی فُٹ بال کھیلتا بھی ہے؟ ہم عالمی معیار کی فُٹ بال بناتے ہیں، مگراپنے لیےنہیں۔ آج جب دنیا بھر کی نظریں فُٹ بال پر ہیں۔ پاکستانی ساختہ فُٹ بال عالمی میدانوں میں استعمال ہورہی ہے۔

ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر فُٹ بال کے ایک ایک میچ پر بہترین تبصرے کر رہے ہیں، تو کیوں نہ اسی جوش کو ایک قومی کھیل کی تحریک میں بدل دیا جائے؟ حکومت کو چاہیے کہ فُٹ بال کے فروغ کے لیے ایک جامع منصوبہ بنائے۔اسکولز میں فٹ بال کے میدان آباد ہوں۔ کالجز، یونی ورسٹیزمیں باقاعدہ فُٹ بال لیگز ہوں۔ مُلک میں فٹ بال اکیڈمیز قائم ہوں۔

 نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کیے جائیں۔ نجی اداروں کو فُٹ بال میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جائے۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان فُٹ بال فیڈریشن کو ایک مضبوط، شفّاف اور مستقل نظام کے تحت چلایا جائے تاکہ ہمارا ٹیلنٹ ضائع نہ ہو۔

شاید ہمارے درمیان بھی کوئی ایسا بچّہ موجود ہو، جو مستقبل کا عظیم فُٹ بالر بن سکتا ہو۔ شاید وہ بچّہ اِس وقت لیاری کی کسی گلی میں ننگے پاؤں فُٹ بال کے پیچھے دوڑ رہا ہو۔ اُس کو گول پوسٹ تک پہنچانے کا خواب دیکھ رہا ہو۔ شاید پاکستان کا لامین اسٹار اِسی بچّے میں چُھپا ہو۔ ہمیں صرف اُسے تلاش کرنا ہے، اُسے موقع دینا ہے، اُسے میدان دینا ہے، اُس کے خوابوں کو وسائل دینے ہیں۔

ہمارے ہُنرکاروں کی انگلیاں فٹ بال بنا سکتی ہیں، تو ہمارے کھلاڑیوں کےپاؤں اُسے گول تک کیوں نہیں پہنچا سکتے؟ ہم دنیا کو فُٹ بال دے سکتے ہیں، تو دنیا کو فُٹ بالرکیوں نہیں دے سکتے؟ ہماری فیکٹریز میں بننے والی فُٹ بال اگر دنیا کے سب سے بڑے میدان میں پہنچ سکتی ہے، تو پاکستان کا پرچم ان میدانوں میں کیوں نہیں پہنچ سکتا؟ شاید وقت آگیا ہے کہ ہم فخر سے یہ نہ کہیں کہ ’’پاکستان میں فُٹ بال بنتی ہے۔‘‘

بلکہ کہیں کہ ’’پاکستان میں بہترین فُٹ بال کھیلی جاتی ہے۔‘‘ اور یہ دن تب آئے گا، جب کسی پاکستانی بچّے کے پاؤں سے، سیال کوٹ میں بننے والی فُٹ بال، دنیا کے کسی بڑے اسٹیڈیم کے گول پوسٹ کو چیرتی ہوئی جال میں جالگے گی۔ اور تب ہم سب کہیں گے۔ ’’پاکستان صرف فُٹ بال بناتا ہی نہیں، کھیلتا بھی ہے۔‘‘ بلاشبہ پاکستان ہاکی، کرکٹ اور اسکواش کی طرح فُٹ بال کاعالمی چیمپئن بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔