آج ایک مرتبہ پھر بلوچستان، تاریخ کے نازک موڑ پرآن کھڑا ہوا ہے۔ صوبے میں امن وامان کی ناقص صُورتِ حال نہ صرف عوام کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے بلکہ ریاستی اداروں کی مجموعی حکمتِ عملی، سکیوریٹی انتظامات اور طرزِ حُکم رانی کے ضمن میں بھی کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔ حالیہ دِنوں میں پیش آنے والے پُرتشدّد واقعات، قیمتی انسانی جانوں کے زیاں اور احتجاجی مظاہروں نے یہ احساس مزید گہرا کر دیا ہے کہ بلوچستان میں پائے دار امن کا خواب تاحال شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا۔
بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو اپنے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، ساحلی پٹی، جغرافیائی اہمیت اور علاقائی تجارت کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے لیکن اس کے باوجود یہ صوبہ کم وبیش گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل دہشت گردی، شورش، سیاسی بےیقینی، معاشی پس ماندگی، بےروزگاری اورسماجی مسائل جیسے پیچیدہ چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔
اس عرصے میں یہاں مختلف سیاسی جماعتیں برسرِ اقتدار آئیں، متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا، کئی سکیوریٹی آپریشنزہوئے، بے شمار نئی پالیسیاں متعارف کروائی گئیں اور امن کے قیام کے لیے اَن گنت حکمتِ عملیاں اختیار کی گئیں، مگر زمینی حقائق آج بھی اس اَمر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صوبے کے عوام میں موجود عدم تحفّظ کا احساس پوری طرح ختم نہیں ہوسکا۔
حال ہی میں ہنہ اوڑک میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے نے کئی خاندانوں کو سوگ وار کردیا، جب کہ مانگی ڈیم کے قریب پولیس اہل کاروں پر حملے کی اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا کہ امن دشمن عناصر اب بھی ریاستی رِٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس قسم کے پُرتشدّد واقعات کی مکمل، شفاف اور غیرجانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں، ذمّے دار عناصر قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔
دوسری جانب ہنہ اوڑک کےمکینوں کا مسلسل احتجاج، کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ کی کئی روز تک بندش اور شہریوں کو درپیش مشکلات اس حقیقت کی غمّازی کرتی ہیں کہ جب عوام کو اپنی شنوائی کا احساس نہیں ہوتا، تو وہ احتجاج کو آخری حل سمجھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ احتجاج کےدوران مریضوں کواسپتال پہنچنے میں دشواری پیش آئی، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، کاروبار سُست روی کا شکار رہا اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہرچندکہ بلوچستان میں قیامِ امن کےذمّےدارمختلف ریاستی ادارے ہیں، تاہم ایک عام شہری کے لیےیہ سوال ثانوی حیثیت رکھتا ہے کہ کون سا ادارہ کس حد تک ذمّےدار ہے۔ عوام صرف اپنی جان و مال، عزّت اورآئینی حقوق کا تحفّظ چاہتے ہیں اور یہ کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمّےداری ہوتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کے مسائل محض سلامتی کے امور سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ اِن کی جڑیں سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل میں بھی پیوست ہیں۔
بے روزگاری، تعلیمی سہولتوں کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کم زوری، صحتِ عامہ کی ناکافی سہولتیں، ترقیاتی منصوبوں میں تاخیراوراحساسِ محرومی جیسے عوامل بھی ایسی فضا پیدا کرتے ہیں کہ جس سے شدّت پسند عناصر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اگر امن کو دیرپا بنیادوں پر قائم کرنا مقصود ہے، تو صرف عسکری اقدامات کافی نہیں ہوں گے بلکہ عوامی مسائل کے حل کو بھی یک ساں اہمیت دینی ہوگی۔
وقت کا تقاضا ہےکہ ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی اختیار کی جائے، جس میں جدید انٹیلی جینس سسٹم، مؤثر پولیسنگ، قانون کی بلاامتیاز عمل داری، فوری اور شفّاف انصاف، سیاسی مکالمے،سماجی ہم آہنگی، نوجوانوں کےلیےتعلیم، ہُنراور روزگار کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں پر بروقت عمل درآمد کو قومی ترجیحات کا حصّہ بنایاجائے۔
دُنیا کے مختلف ممالک کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں کہ پائے دار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں،عوام کے اعتماد، عمدہ طرزِ حُکم رانی، مؤثر ریاستی اداروں اور سماجی انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح احتجاجی مظاہروں کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کی بجائے ان کے بنیادی اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لینا بھی از حد ضروری ہے۔
جب متاثرہ شہریوں کی بروقت دادرسی کی جائے، شفّاف تحقیقات ہوں، ذمّےداروں کا تعیّن کیا جائے اور متاثرین کو انصاف ملے، تو نہ صرف کشیدگی میں کمی واقع ہوتی ہے بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔
اس ضمن میں گزشتہ دنوں وزیرِاعلیٰ بلوچستان، میرسرفراز بگٹی کی جانب سے ایئرپورٹ روڈ پر قائم احتجاجی کیمپ میں جا کر مظاہرین سےبراہِ راست مذاکرات، دہشت گردی کےنتیجےمیں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پرافسوس کا اظہار اور ذمّےدار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کےعزم کا اعادہ کرنا ایک مثبت پیش رفت قراردی جا سکتی ہے۔
ان مذاکرات کے نتیجے میں کئی روز سے جاری دھرنے کا خاتمہ بھی ہوا، جس سے شہری زندگی معمول پرآنے کی راہ ہم وار ہوئی۔ تاہم، اس پیش رفت کی حقیقی کام یابی کا انحصار آئندہ عملی اقدامات پر ہوگا۔
یاد رہے، اب بلوچستان کے عوام یقین دہانیوں کی بجائےنتائج چاہتے ہیں اورمزید وعدوں کے برعکس عملی اقدامات کےمنتظر ہیں۔ صوبے میں امن کا قیام پوری ریاستی مشینری اور معاشرے کی مشترکہ ذمّےداری ہے۔ بلوچستان کا امن درحقیقت پاکستان کی خوش حالی اور استحکام سے مشروط ہے۔
دوسری جانب گزشتہ دنوں منگی ڈیم کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں پولیس اہل کاروں کی شہادت اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی کرواتی ہے کہ بلوچستان میں امن کے دشمن اب بھی ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اہل کاروں کونشانہ بنارہے ہیں۔
وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے یہ بہادر اہل کار پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ ان کی بیش بہا قربانیاں اس اَمر کی متقاضی ہیں کہ نہ صرف حملہ آوروں کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے بلکہ پولیس اور دیگر سکیوریٹی اداروں کو جدید وسائل، بہترتربیت، مؤثر انٹیلی جینس اور مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ زیادہ مؤثرانداز میں اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
دوسری جانب بلوچستان کےنوجوانوں کو، جو اس صوبے کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں، اگر معیاری تعلیم، فنی تربیت، روزگار اور مثبت سرگرمیوں کےمواقع فراہم کیے جائیں، تو وہ نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ پورے صوبے کی ترقّی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ان نوجوانوں کو مایوسی، بے روزگاری اور احساسِ محرومی کے اندھیروں سے نکال کر قومی ترقّی کے دھارے میں شامل کرنا دراصل پُرامن مستقبل کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری ہےاوریہی وہ راستہ ہے، جو بلوچستان کو پائےدار استحکام، معاشی خوش حالی اور قومی یک جہتی کی طرف لے جا سکتا ہے۔