چند دہائیاں قبل تک(بعض چھوٹے شہروں میں آج بھی) لوگ سائیکل والے کی دُکان پر جاتے اور وہاں سائیکلز فی گھنٹے کے حساب سے کرائے پر دست یاب ہوتیں۔ دکان کا مالک ایک رجسٹر پر صارف کا نام، پتا لکھتا ہے اور ٹائم نوٹ کر کے بائی سائیکل اُس کے حوالے کردیتا۔ یہ شخص سائیکل پر اپنے کام نپٹاتا اور پھر سائیکل واپس لاکے کھڑی کردیتا۔
دُکان دار اُس سے پیسے لیتا اور اگر شناختی کارڈ بطور ضمانت رکھوایا ہوتا، تو وہ واپس کردیا جاتا۔ آج ایسا لگ رہا ہے کہ تاریخ خُود کو دُہرا رہی ہے، صرف اِس فرق کے ساتھ کہ سادہ سائیکل کی جگہ اب الیکٹرک بائیکس، یعنی بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلز نے لے لی ہے اور یہ تبدیلی لاہور میں رُونما ہورہی ہے۔
مجموعی طور پر 75لاکھ سے زائد مختلف اقسام کی وہیکلز کے شہر، صوبائی دارالحکومت، لاہور میں ٹریفک کا مسئلہ کبھی بھی اور کسی بھی دَور میں اطمینان بخش نہیں رہا۔ لاہور کی بیش تر سڑکیں (جدید آبادیوں کے علاوہ) تنگ اور پرانی ہیں، جب کہ ہر روز ہزاروں نئے موٹر سائیکلز، کاریں، ویگنز اور رکشے وغیرہ رجسٹر ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کی بھرمار اور سڑکوں کی حالت کے سبب ٹریفک جام آئے روز کا معمول بن چُکا، جس نے شہریوں کو ذہنی مریض بنا کے رکھ دیا ہے۔
نیز، گاڑیوں سے نکلنے والے زہریلے دھویں نے بھی اسموگ کی صُورت شہریوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق، لاہوریوں کی اوسط عُمر میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔ ٹریفک کی بے ہنگم صُورتِ حال کا سب سے زیادہ اثر طلبہ، آفس ورکرز اور کاروباری طبقے پر مرتّب ہوتا ہے، جنہیں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے ٹیکسی سروسز، رکشوں اور دیگر ذرائع کو بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ تاہم کرایہ ادا کرنے کے باوجود وہ منزل تک وقت پر نہیں پہنچ پاتے۔
ٹریفک کے مسائل کا یہ ایک رُخ ہے، جب کہ دوسرا رُخ اس سے بھی بھیانک ہے اور وہ ہے، پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کا زہریلا دھواں، جس نے شہریوں کو گلے، ناک، کان اور سینے کی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ لاہور شہر، جو کسی زمانے میں تہذیب و ثقافت کے گہوارے کی حیثیت سے دنیا بَھر میں مشہور تھا، اب اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے دنیا میں نمبر وَن کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اِس صُورتِ حال کا ایک افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب تک صوبہ پنجاب کی کسی حکومت نے ٹریفک مسائل کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کی وجہ سے لاہور ٹریفک کے بدترین مسائل کے حصار میں گِھر چکا ہے۔
اِس پس منظر میں چند ماہ قبل، جب حکومتِ پنجاب نے شہر میں الیکٹرک بائیکس کرائے پر دینے کا اعلان کیا، تو شہریوں کو گُھپ اندھیرے میں اُمید کی ایک کرن نظر آئی۔ ’’ای-بائیکس رینٹل پروگرام‘‘ وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز کے گرین وژن آئیڈیا کے تحت شروع کیا جارہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف لاہور، بلکہ پورے پنجاب کو ماحولیاتی آلودگی سے محفوظ کرنا ہے۔
پاکستان میں پہلی بار ٹریفک اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنے والے اِس منفرد منصوبے سے وابستہ ایک اعلیٰ سرکاری اہل کار نے بتایا کہ اِس منصوبے کا مقصد شہر میں زہریلا دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے بغیر شہریوں، خاص طور پر طلبہ، ملازمت پیشہ اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو ای بائیکس کے ذریعے سفری سہولتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کم پیسوں اور کم وقت میں اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکیں۔
اُنہوں نے بتایا کہ اِس وقت شہر میں مخصوص روٹس پر میٹرو بس سروس اور اورنج ٹرین کی سہولتیں موجود ہیں، لیکن مسئلہ اُس وقت پیش آتا ہے، جب مسافروں کو اورنج ٹرین یا میٹرو بس کے اسٹیشن پر اُترنے کے بعد اپنے گھر، دفتر، کسی کاروباری مرکز یا یونی ورسٹی وغیرہ جانا ہوتا ہے، جس کے لیے اُنہیں پِھر سے کسی ٹیکسی، رکشے، بس یا کسی بائیک سروس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اِس طرح اُنہیں جو بھاری کرائے دینے پڑتے ہیں، تو اورنج ٹرین یا میٹرو بس سروس بھی بے فائدہ نظر آتی ہے۔
اِن مسافروں کو ٹرین یا بس سے اُترنے کے بعد کسی ایسی سواری کی ضرورت تھی، جو اُنھیں اگلی منزل تک باآسانی پہنچا سکے۔ اُن کی یہ ضرورت اب ای-بائیکس پوری کریں گی۔ وہ اِس طرح کہ اورنج ٹرین اور میٹرو بس کے اسٹیشنز کے نزدیک ہی ای-بائیکس کرائے پر دست یاب ہوں گی۔ اِس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں لاہور میں10ہزار ای بائیکس دست یاب ہوں گی اور 300سے زائد ڈاکنگ اور چارجنگ اسٹیشنز بنائے جائیں گے۔
طریقۂ کار
اِس پروگرام کے منتظمین کے مطابق، لاہور میں ای بائیکس کرائے پرحاصل کرنے کا طریقۂ کار بہت سادہ ہے، جس سے شہری جلد مانوس ہو جائیں گے۔ اِس ضمن میں تمام امور موبائل فون ہی پر انجام پائیں گے۔ سب سے پہلے تو سروس کے استعمال کے لیے خُود کو مخصوص موبائل فون ایپ پر رجسٹر کروانا ہوگا، جس کے لیے قومی شناختی کارڈ کی ضرورت ہوگی۔
شہری اپنے نزدیک ترین چارجنگ اسٹیشن یا ڈاکنگ اسٹیشن سے متعلق معلومات حاصل کرے گا اور پھر وہاں پہنچ کر موبائل ایپ پر اپنی منزل کی تفصیل درج کرے گا، جس پر کرائے کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔ کرائے سے متفّق ہونے کے بعد موبائل فون پر مخصوص کوڈ آجائے گا۔ جس کے بعد وہ اُس ڈاکنگ اسٹیشن پر ای-بائیک کو’’اَن لاک‘‘ یعنی کھول سکے گا۔
کرائے کی ادائی آن لائن ہوگی۔ اپنی منزل پر پہنچنے کے بعد وہ ای-بائیک ڈاکنگ اسٹیشن پر جمع کروائے گا اور بائیک خود بخود لاک ہو جائے گی۔ ماہرین نے اِس پروگرام کو ’’LAST MILE CONNECTIVITY ‘‘ کا نام دیا ہے۔ اُن کے خیال میں اِس وقت مسافروں کو اورنج ٹرین یا میٹرو بس کے کسی اسٹیشن پر اُترنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ یہی پیش آتا ہے کہ گھر، دفتر یا تعلیمی ادارے تک کیسے پہنچا جائے گا۔ ای۔بائیکس کا یہ پروگرام کم خرچ کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، جس سے لوگ رکشے، ٹیکسی کے بھاری کرایوں سے بچ سکیں گے۔ یاد رہے، ترقّی یافتہ ممالک میں ای۔بائیکس کا یہ نظام نہایت کام یابی سے چل رہا ہے۔
سیکریٹری ہائوسنگ پنجاب، عطا اللہ مینگل کا اِس منصوبے سے متعلق کہنا ہے کہ’’وزیرِ اعلیٰ پنجاب، مریم نواز کے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے پروگرام کے سلسلے میں ای۔بائیکس کرائے پر دینے کا پراجیکٹ، پاکستان کی تاریخ کا ایک مثالی پراجیکٹ ہوگا۔
اِس منصوبے پر ابتدائی کام تقریباً مکمل ہوچُکا ہے۔ پہلے مرحلے میں شہریوں کو لاہور میں10ہزار ای۔بائیکس مہیّا کی جائیں گی، جن کے لیے 300 چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے، جہاں مسافر بائیک کرائے پر حاصل اور استعمال کے بعد جمع کرواسکیں گے۔
کوشش تو یہی ہے کہ یہ اسٹیشنز اورنج ٹرین، میٹرو بس سروس اسٹیشنز اور تعلیمی اداروں، دفاتر یا کاروبار مراکز کے نزدیک ترین قائم کیے جائیں تاکہ جب مسافر اورنج ٹرین یا میٹرو بس سے اُتریں، تو اُنھیں نزدیک ہی ای بائیکس دست یاب ہوں۔ فنی اصطلاح میں اِس سفر کو’’ Last mile Connectivity‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔‘‘ اُنہوں نے بتایا کہ’’ یہ خالصتاً ایک غیر سرکاری منصوبہ ہے، جس میں مختلف این جی اوز سرمایہ کاری کریں گی، جب کہ حکومتِ پنجاب کا محکمہ ہائوسنگ اُنہیں جگہ کی سہولت فراہم کرے گا۔
اِس منصوبے کے ابتدائی مرحلے پر10 ارب روپے خرچ ہوں گے، جب کہ دوسرے مرحلے میں 50ہزار ای-بائیکس چلائی جائیں گی اور اس کا دائرہ پنجاب کے 5بڑے شہروں تک پھیلایا جائے گا۔‘‘ اُنھوں نے منصوبے کی افادیت سے متعلق یہ بھی بتایا کہ’’ای-بائیکس سے جہاں طلبہ، آفس ورکرز اور کاروباری افراد کو کم پیسوں میں بہتر سفری سہولتیں میسّر ہوں گی، وہیں گاڑیوں سے نکلنے والے دھویں میں کمی سے ماحولیاتی آلودگی اور اسموگ میں بھی کمی واقع ہوگی۔نیز، ماحولیاتی آلودگی سے نجات کے لیے’’ Lungs of Lahore‘‘پروگرام کے تحت2 لاکھ درخت بھی لگائے جائیں گے۔‘‘
ماہرین اور مبصّرین کے خیال میں، بظاہر یہ منصوبہ اچھا لگتا ہے، تاہم کئی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں سرِفہرست عوامی شعور کا مسئلہ ہے۔ اِس مقصد کے لیے ای-بائیکس کے استعمال کا طریقۂ کار سہل بنانا ہوگا تاکہ عوام باآسانی اِس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ یہ طریقۂ کار جتنا آسان ہوگا، اُتنے ہی زیادہ افراد اس سے فائدہ اُٹھا سکیں گے۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ ہر ایک کی دسترس میں ہو اور اس میں کسی قسم کی فنی رکاوٹ حائل نہ ہو۔
دوسرا، شہر میں جتنے زیادہ چارجنگ اور ڈاکنگ اسٹیشن ہوں گے، لوگوں کو اُتنی ہی زیادہ سہولت ملے گی، کیوں کہ بظاہر300 اسٹیشنز ضرورت سے خاصے کم لگتے ہیں، جب کہ لاہور کی آبادی سوا کروڑ سے بھی متجاوز ہے۔ اس کے علاوہ، ای-بائیکس کی چوری اور اُن کی دیکھ بھال (Mentinance) بھی ایک مشکل کام ثابت ہوسکتا ہے۔
بہرحال، ہر نئے پروگرام یا منصوبے میں ابتدائی طور پر مسائل و مشکلات کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ اُن کا حل بھی نکل آتا ہے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں لاہور میں یہ منصوبہ کام یاب ہوگیا، تو سفری سہولتوں میں یقیناً ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
ای-بائیکس: 100ء سے عہد حاضر تک کا سفر
پاکستان میں ای-بائیکس اگرچہ کسی حد تک نئی ہیں، تاہم یہ دنیا میں کئی دہائیاں پہلے ہی سڑکوں پر آگئی تھیں۔ سب سے پہلی الیکٹرک بائیک 1890ء میں منظرِ عام پر آئی، جس کے بعد اس کے مختلف ماڈلز1900 ءتک آتے رہے۔ اُس وقت سائیکلز پر 10 وولٹ کی بیٹری لگا کر اُنہیں رواں دواں رکھا جاتا تھا۔ بعد میں جب اِس میں دو ہارس پاور کی بیٹری نصب کی گئی، تو سفر طے کرنے کے وقت میں کمی آگئی اور یہ سائیکلز زیادہ دُور تک بھی جانے لگیں۔
دنیا میں سب سے پہلی ای۔ بائیک امریکا میں اوگڈن نامی شخص نے1900ء کے آغاز میں رجسٹرڈ کروائی۔ بعدازاں، 1930ء سے 1950ء تک، جب بیٹری ٹیکنالوجی میں انقلابی پیش رفت ہوئی، طاقت وَر ای-بائیکس دنیا میں مقبول ہوئیں۔ خاص طور پر لیتھیم بیٹری آنے کے بعد یہ زیادہ پاپولر ہوگئیں۔
اِس وقت چین اور جاپان میں اِن ای بائیکس کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے، جب کہ چین تو اس انڈسٹری پر چھایا ہوا ہے، جہاں دنیا کی90 فی صد ای بائیکس تیار ہوتی ہیں۔ ان کا سب سے زیادہ استعمال بھی چین ہی میں ہوتا ہے، جس کے بعد یورپ کا نمبر ہے۔ یہ بائیکس وہاں سٹی بائیک، ماؤنٹین بائیک اور کارگو بائیک کے ماڈلز میں دست یاب ہیں۔ اکثر بائیکس صرف ایک چارج میں150 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرسکتی ہیں۔ نیز، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے ان بائیکس کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔
بین الاقوامی طور پر ای-بائیکس انڈسٹری کا حجم19 سے25 ارب ڈالرز تک ہے۔ پاکستان میں بھی منہگے فیول کی وجہ سے ان بائیکس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اب یہ کئی کمپنیز تیار کررہی ہیں۔ ان کی عمومی قیمت سوا لاکھ سے6 لاکھ روپے تک ہے۔ حکومت اپنے طور پر بھی انہیں مقبول کرنے کے لیے کئی اقدامات کررہی ہے، جب کہ کمپنیز بھی مقابلے و مسابقت کی وجہ سے صارفین کو طرح طرح کی سہولتیں فراہم کررہی ہیں۔