• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی اسے والد کی طرف سے وراثت میں ضرور ملی مگر وہ سخت گیر ’’جماعتیا‘‘ نہیں بلکہ فراخ نظر ’’حمایتیا‘‘ تھا،وہ دوستوں کا ’’قابل بھروسہ حمایتی‘‘ تھا۔ اسے لوگوں کو جیتنا آتا تھا،وہ دل کا اس قدر امیر تھاکہ اس نے شاید ہی کسی کوکبھی ’ناں‘ کہا ہو، جس کسی کو مشکل پڑی یا جسے بھی بحران کا سامنا ہو اس کا کندھا اس کیلئے میّسر اور حاضر ہوتا تھا۔ ارادوں میں اس قدر عظیم کہ کبھی ناامیدی اسکے پاس نہیں پھٹکتی تھی، آگے سے آگے دیکھنے اور بڑھنے کا یہ جذبہ کم ہی کسی اور میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ زندگی میں اسے ہزاروں لاکھوں پریشانیوں کا سامنا ہوگا مگر اسکے چہرے پر ہر وقت کی سجی نکھری مسکراہٹ اور امید کی دمکتی سرخی اس کے ہر ملنے والے کو سکون و امتنان فراہم کرتی تھی۔

میری اس سے شناسائی ایف سی کالج لاہور کے زمانہ طالب علمی میں ہوئی۔وہ اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کا ناظم تھا اور اس کا اپنی تنظیمی میٹنگز کے سلسلے میں کالج میں آنا جانا تھا۔ میں ایف سی کالج کے میگزین فولیو کا ایڈیٹر تھا اور میرا کمرہ یونین آفس کے قریب تھا۔ جمعیت والے بڑی میٹنگز کرتے تو مجھ سے کمرہ مانگ لیتے۔ امیر العظیم سے سلام دعا1982ء کے اردگرد انہی دنوں میں ہوئی جب وہ ایف سی کالج آتا تھا۔مجھے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں داخلہ مل گیا تو پہلے ہی روز استقبالیے میں اپنی کلاس کی نمائندگی کرنے کو کہا گیا۔ معلوم نہیں یہ امیر العظیم سے شناسائی کی وجہ سے ہوا ، ہمارے میٹھےناظم ندیم چوہدری کی مہربانی سے ہوا یا یہ مہر اشفاق کی کرم فرمائی تھی۔ وہ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کا دور تھا اور یونیورسٹی میں جمعیت کا طوطی بولتا تھا مخالف کو پر مارنے کی جرأت تک نہ تھی۔جمعیت کاعمومی تاثر سخت گیری کا تھا مگر امیر العظیم،مہراشفاق اور ندیم چودھری Soft اور Sweet چہرے کہلاتے تھے۔ یونیورسٹی کے دوران شناسائی سلام دعا اور مسکراہٹوں کے تبادلے تک محدود رہی لیکن یونیورسٹی کے استقبالیے میں پہلے دن کی تقریر پر میرے لبرل شہری دوستوں نے مجھ پر بھی ’’جماعتیا‘‘ ہونے کا ٹھپہ لگا دیا حالانکہ یہ ناچیز صالحین کے درجے تک کہاں پہنچ سکتا تھا۔

امیر العظیم سے اصل تعلق 1989ء میں بنا جب فرنٹیئر پوسٹ میں میری ذمہ داری سیاسی رپورٹنگ کی تھی۔ جماعت اسلامی میری Beat تھی اس وقت تک جماعت کی اندرونی سیاست اور تنظیم پربات کرنا کسی صحافی کیلئے شجر ممنوعہ ہو چکا تھا،کیونکہ اس سے چند سال پہلے جمعیت کے لڑکوں نے دو قومی اخباروں میں ایک خبر کی اشاعت پر توڑ پھوڑ کر کے سب کو خوفزدہ کر دیا تھا۔ اسی دوران جماعت میں ایک بڑی اور نمایاں تبدیلی رونما ہو چکی تھی۔ قاضی حسین احمد جماعت کے امیر مقرر ہو گئے تھے اور انہوں نےامیر العظیم کو اپنا سیکرٹری اطلاعات چن لیا تھا۔ خرم جاہ مراد اور پروفیسر خورشید احمد اسلامی جماعتوں کے بین الاقوامی تجربے کی روشنی میںجماعت اسلامی کے غیرمقبول ہونے کے بارے سفارشات تیار کر چکے تھے، قاضی حسین احمد ان تجاویز کی روشنی میں بند اور مقفل تنظیمی ڈھانچے اور رازداری کے ماحول کو کھولنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ اس منفی تاثر کہ جماعت نے قیام پاکستان اور جہاد کشمیر کی مخالفت کی تھی اور اہلسنت والجماعت (بریلوی اور دیوبندی ) دونوں کے جماعت سے مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات موجودتھے ،کے خاتمے کیلئےقاضی حسین احمد نے جہاد کشمیر میں لیڈ رول لے لیا ۔ 5فروری کو یوم کشمیر منایا تو پہلی بار ہر گلی محلے سے جلوس نکلا، وہ داتا دربارحاضری کیلئے گئے اور مولانا فضل الرحمٰن سے بات چیت کے دروازے بھی کھول دیئے۔ رکن جماعت بننے کیلئے شرائط میں نرمی کی اور پہلی دفعہ موسیقی اور امیر جماعت کی تصاویر کو اشتہاری مہمات میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ ظاہر ہے اتنی بڑی تبدیلیاں نہ سابق امیر جماعت میاں طفیل محمد کو پسند آئیں اور نہ قدامت پسند جماعت اسلامی کے صالحین یہ ہضم کر پا ئے۔امیر العظیم بہر حال ان تبدیلیوں کے پرجوش حامی تھے پہلا بم شیل جو پرانی روایتوں کو چیر پھاڑ گیا ،وہ سابق سیکرٹری اطلاعات کی فراغت اور نئی اطلاعاتی پالیسی کی شائع ہونیوالی خبر تھی ،دوسری نمایاں ترین خبرتنظیمی اور فکری تبدیلی پرمتنازعہ ترین آرٹیکل The changing face of jamaat Islami (جماعت اسلامی کے چہرے مہرے کی تبدیلی) تھا۔

فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہونیوالی اس ناچیزکی خبر کی فوٹو کاپیاں تک تقسیم ہوئیں۔ جماعت کے Beat رپورٹر کی حیثیت سے امیر العظیم نے قاضی حسین احمد سے ناچیز کی ملاقاتیں اور رابطے اس قدر بڑھا دیئے کہ قاضی حسین احمد کے خط کیساتھ افغان مجاہدین کی کابل پر فتح کے بعد جو ایک وفد وہاں گیا اس میں نامور کالمسٹ ہارون الرشید، جماعت اسلامی کے رہنما اعجاز چودھری (جو اب تحریک انصاف کے اہم لیڈر ہیں اور 9 مئی کے واقعے کے سلسلے میں کوٹ لکھپت جیل میں بند ہیں) اور یہ ناچیزبھی شامل تھا۔ یہ بھی امیر العظیم کی خصوصی مہربانی تھی کہ جنوری 1993ء میں میرا فیصل آباد میں نکاح قاضی حسین احمد نےخود پڑھایا۔ حالانکہ قاضی حسین احمد نےانہی دنوں دل کا علاج کروایا تھا اور میری شادی اس عارضے کے بعد ان کی پہلی مصروفیت تھی۔قاضی حسین احمد کی امارت اور امیر العظیم کی اطلاعات کی ذمہ داری کے دوران یہ حادثہ بھی پیش آیا کہ جہاں جماعت کے قدامت پسند ان سے ناراض ہوئے وہاں ان کے سکّہ بند صحافی دوست بھی منہ موڑ کر نواز شریف کے حامی بن گئے ۔پاسبان بنی تو اندرونی بغاوت اور تیز ہوگئی مگر بالآخر بغاوت تب ختم ہوئی جب پاسبان سے ہاتھ اٹھا کر شباب ملی کے نام سے نئی اور جماعت کے اصولوں کی پابند تنظیم بنالی گئی۔

امیر العظیم کی سب سے بڑی خوبی مشکل میں دوسروں کے ساتھ کھڑا ہونا تھا، کیا دایاں اور کیا بایاں، جیسے بھی نظریات کا بندہ یا ادارہ مشکل میں آیا یا ریاستی جبر کا شکار ہوا امیر العظیم نے اس کا آگے بڑھ کر ساتھ دیا۔ سکھوں کی اخلاقی امداد ہو یا پھر مجیب کے مخالف بنگالیوں کی خاطر داری، کشمیریوں کے ساتھ جڑت ہو یا افغانیوں کے ساتھ اشتراک، سب میں امیر العظیم آگے آگے ہوتا تھا، اسی وجہ سے ایک دفعہ بھارت نے اس کا نام دہشت گردوں کے حمایتیوں کی فہرست میں ڈال دیا تھا۔ یہ ناچیز صحافی کبھی ریاستی جبر یا دباؤ میں ہوتا تو پہلا فون امیر العظیم کا آتا اور وہ کہتے کہ میرا گھر یا منصورہ میں محفوظ ٹھکانہ موجود ہے، وہاں آجائیں۔ تاریخی راز یہ بھی ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے لندن سے پاکستان آخری واپسی سے پہلے مجھ سے جماعت اسلامی کے امیر سے ملنے اور آپس کی دوریاں دور کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ،وہ اس وقت قومی مصالحت چاہتی تھیں ناچیز صحافی نے مہربان دوست امیر العظیم سے بات کر کے جماعت اسلامی کی طرف سے مثبت اشارہ دے دیا افسوس کہ محترمہ کی شہادت کی وجہ سے یہ ملاقات نہ ہو سکی وگرنہ کم از کم ایک نظریاتی جھگڑا تو طے ہو جاتا۔زندگی کے آخری دنوں میں سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کراچی میں گرما گرمی ہوئی تو اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے پرناچیز سے مشورہ ہوا ۔ امیر العظیم جماعت کیساتھ آخری حد تک مخلص توتھا ہی ، وہ تو مخالفوں کو بھی نقصان پہنچانے کیخلاف تھا۔امیر العظیم اکیلا نظام کو بدل سکا نہ بدل سکتا تھا، وہ نہ جماعت کو بدل سکتا تھا نہ بدل سکا مگرکیا یہ کم ہے کہ آج جماعت سے نفرت کرنیوالا کوئی کم ہی ملے گا ۔ کوئی جماعت کو ووٹ دے نہ دے اسکے خلاف چارج شیٹ عائد نہیں کریگا ۔قاضی حسین احمد اور امیر العظیم کی محبتوں نےماضی کی سب نظریاتی نفرتوں کو کھا لیا تھا۔ گوآج جماعت اسلامی اکیلی ہے اورکسی اتحاد میں شامل نہیں ہوتی کیونکہ امیر العظیم اور انکے ساتھی سمجھتےتھے کہ اتحادوں کی سیاست سے جماعت کوالٹا نقصان ہوا ہے،انکے خیال میںجماعت اسلامی اکیلی چلتی رہے،اسے اقتدار ملےنہ ملے کم از کم لوگوں سے محبت تو ملے ۔ امیر العظیم اس دنیا کو محبت دے کر اور یہاں سے محبت لیکر رخصت ہوا ہے۔

تازہ ترین