امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مذاکرات ناکام ہوئے تو طاقتور فوجی آپریشن کے لیے تیار ہیں، سفارت کاری کو زیادہ وقت نہیں دوں گا، سفارت کاری تیزی سے ہونی چاہیے ورنہ پھر بالکل نہیں ہوگی۔
مشی گن روانہ ہونے کے بعد دوران سفر طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس کافی وقت ہے، ابھی ہم ایران سے بات چیت کر رہے ہیں، ہماری ایران سے اچھی بات چیت ہو رہی ہے، بہت امکان ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمارے پاس بہت زیادہ ہتھیار موجود ہیں، میں مزید ہتھیار بھی چاہتا ہوں، ایران کے معاملے میں ہم اسرائیل کے زیادہ نزدیک ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ روسی صدر پوتن سے ایران کو مشرق وسطیٰ کے سیٹلائٹ امیجز دینے سے متعلق پوچھیں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے جمعہ کے روز ایران پر حملے اس لیے روک دیے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کرنے والے ممالک نے ان سے ایسا کرنے کی درخواست کی تھی۔
دوسری جانب ایران نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن، اسرائیل کے اثر و رسوخ میں آ کر شروع کی گئی پانچ ماہ طویل جنگ میں ’’پھنس چکا ہے اور مشکلات کا شکار ہے‘‘ اور اسے ’’بالآخر اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔‘‘