• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آئی تمام انسانوں کو ختم کرسکتی ہے: ’گاڈ فادر آف اے آئی‘ کا خوفناک انتباہ

علامتی فوٹو
علامتی فوٹو

گلاسگو: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے معروف ماہر اور ’گاڈ فادر آف اے آئی‘ کہلانے والے جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں پوری انسانی نسل کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔

نوبیل انعام یافتہ سائنس دان نے برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے ہاتھوں انسانوں کے مکمل خاتمے کا خطرہ تقریباً 10 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

میزبان نے حیرت سے دوبارہ سوال کیا کہ کیا وہ واقعی انسانوں کے ختم ہوجانے کا 10 فیصد امکان سمجھتے ہیں؟ جس پر ہنٹن نے جواب دیا ’ہاں‘۔ ان کے جواب پر بی بی سی کی میزبان بھی چند لمحوں کے لیے حیران ہوکر خاموش ہوگئیں۔

ہنٹن نے کہا کہ اگر مصنوعی ذہانت انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی تو اسے قابو میں رکھنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔

ان کے مطابق انسان اس وقت ایسی ذہانت تیار کر رہے ہیں جو بعض شعبوں میں انسانوں سے تیزی سے بہتر کارکردگی دکھانے لگی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کی طاقتور اے آئی اپنے مفادات اور اہداف خود طے کرنے کے قابل ہوگئی تو صورتحال انتہائی خطرناک ہوسکتی ہے۔

ماہر کے مطابق اے آئی کے ذریعے بڑے پیمانے پر سائبر حملے، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور دیگر تباہ کن کارروائیاں ممکن ہوسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سائنس دانوں کو اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت اور انسانی کنٹرول یقینی بنانے پر بھی فوری توجہ دینا ہوگی۔

ہنٹن نے واضح کیا کہ موجودہ اے آئی نظام فوری طور پر انسانیت کے خاتمے کا سبب نہیں بن رہے، تاہم مستقبل کے زیادہ طاقتور نظاموں کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ انسانوں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ کہیں وہ ایسی ٹیکنالوجی تو نہیں بنا رہے جسے بعد میں خود کنٹرول نہ کرسکیں۔

مصنوعی ذہانت کے ممکنہ وجودی خطرات کے حوالے سے دنیا بھر کے سائنس دانوں میں پہلے ہی شدید بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد کے ساتھ اس کے غلط استعمال اور بےقابو ترقی کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔

ہنٹن نے عالمی سطح پر اے آئی سیفٹی اور مؤثر نگرانی کے لیے مزید اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تاخیر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید