• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آہ جی :ملک کا بیڑہ غرق ہے غربت ہے بے روزگاری ہے ’’ اگا دوڑتے پچھا چوڑ‘‘ ہے ۔غیر ملکی دورے اور ثالثی پر زور ہے ملک کے جھگڑے اور اندرونی لڑائیاں بڑھ رہی ہیں کوئی امید نہیں ہر طرف آہ ہی آہ ہے۔

واہ جی : بلے بلے ہماری’’ عجت‘‘( عزت) کا شہرہ چار وانگ ہے امریکی صدر ہر طرف ہماری بہادری کے ڈھول بجاتا ہے اور انکا ازلی دشمن ایران بھی ہمارا دوست ہے ایسی کامیابیاں تو75سال میں کسی کو نہیں ملیں واہ جی واہ بلے بھئی بلے۔

آہ جی : خالی خولی عجت( عزت) کا کیا کرنا ہے ’’ پیسہ نہ دھیلہ تے کردی میلہ میلہ‘‘۔ عزت پیسے سے ہوتی ہے وگرنہ بھوکاننگا بھی کبھی باعزت ٹھہرا ہے۔

واہ جی۔ گنگا الٹی نہیں بہتی دنیا کا اصول ہے کہ پہلے عزت ملتی ہے پھر پیسہ خودبخود آجاتا ہے عزت مل گئی اب پیسہ بھی آجائیگا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہوچکا امریکہ سے بھی بات چل رہی ہے پاکستان کے حالات جلد بد ل جائینگے۔

آہ جی : تین سال سے ڈالر آنے کی خوش خبری سن رہے ہیں آیا ایک بھی ڈالر نہیں،دعوے سینکڑوں اربوں ڈالر کے ہو رہے تھے اور ملنے بمشکل دوچار ارب ہیں’’ دکان پکوڑوں کی، باتیں کروڑوں کی‘‘۔

واہ جی : آنکھوں پر پٹی پڑی ہو تو اسے کھولنا ممکن نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں پاکستان کی واہ واہ ہورہی ہے اور تم سڑیل آہ آہ کررہے ہو پاکستان دنیا کی نظر میں گوشہ تنہائی میں تھا افغان جنگ کے بعد دنیا ہمیں پوچھتی تک نہ تھی پاک بھارت جنگ میں فتح اور ایران امریکہ ثالثی نے ہمیں مرکزی اسٹیج پر بٹھا دیا ہے اور بھارت ومودی کو سائیڈ لائن کردیا ہے ایسا تو کبھی تاریخ میں آج تک ہوا نہیں۔ واہ جی واہ، ڈھول بتاشے بجاؤ اور ناچو۔

آہ جی : مانا میں قنوطی ہوں مگر میں حقیقت شناس بھی ہوں تم جھوٹی امیدوں پر رقص کرکے خوابوں کے اندر محل تعمیر کرنے کے عادی ہو۔ بے شک خوشیاں مناؤ مگر یہ تو بتاؤ کہ غیر ملکی قرضے کی اگلی قسط کس ملک سے مانگ کردینی ہے واہ واہ کرنے سے دنیا نہیں بدلتی۔ کچھ کرنے سے تقدیر بدلتی ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے کسی نہ کسی سے قرض ملنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔

واہ جی : بھارت میں مودی کا بوکاٹا ہونیوالا ہے بچوں نے مظاہرے کرکے وزیر تعلیم کو نکلوا دیا ہے پاکستان ایک منظم ریاست ہے بھارت نہ جنگ لڑسکتا ہے نہ ملک کے اندر مظاہرے روک سکتا ہے کیا ہوا جو ہمارا معاشی مسئلہ خراب ہے ہماری مودی کی طرح ساکھ تو خراب نہیں ۔سنا ہے کہ ایک عرب ملک ہمیں50ارب ڈالر دینا چاہتا ہے مگر بعض غیر ملکی سازشی اس کے راستے میں رکاوٹ ہیں وگرنہ سب دلدر دور ہوجائیں۔

آہ جی: واہ جی، حقیقت کی دنیا میں آؤ خیالی باتیں اب چھوڑو۔ یہ دنیامفادات پر قائم ہے۔ ساکھ اور عزت روٹی کی جگہ تو نہیں لے سکتیں۔ شیخ چلّی کی شیخیاں غریبوں کا پیٹ نہیں بھر سکتیں۔

واہ جی: پردہ تو تمہاری آنکھوں پر پڑا ہے، تمہیں یا تو احساسِ کمتری ہے کہ ملک کی عظمت کو ہضم نہیں کر پاتےیا پھر سیاسی تعصب اور بغض نے تمہیں اندھا کر رکھا ہے۔ اب تو پاکستان اور کویت کا دفاعی معاہدہ بھی ہو چکا ، ہن برسنے والا ہے۔ پاکستان پہلی بار مشرقِ وسطیٰ کا اہم ترین کھلاڑی بن چکا ہے۔ واہ جی واہ کیا سفارتکاری ہے اور واہ جی واہ چھوٹے سے غیر متعلقہ ملک نے بھی کس خوبصورت انداز میں ثالثی کرکے دنیا بھرمیں اپنا مقام بنا لیا ہے۔ اندھو!آنکھیں کھولو اور دیکھو آج پاکستان کہاں کھڑا ہے اور جب پچھلی حکومت تھی تو پاکستان کو کہاں لے گئے تھے واہ بھئی واہ۔

آہ جی: آپ خوشامدی ہو واہی تباہی بولنا تمہاری عادت بن چکی ہے ہوش کے ناخن لو عقل اور دلیل سے بات کرو۔ دو سال سے وعدے اور خو شنما خواب دکھائے جا رہے ہیں، امریکہ سے دوستی اور ٹرمپ سے یاری کا غلغلہ ہے مگر کوئی ادارہ جاتی معاہدہ ہوا نہ برآمدات پر کوئی رعایت ملی، نہ ہمیں ایف16 ملے حالانکہ پاکستان کے پیسے پہلے سے امریکہ میں جمع ہیں نہ کوئی نیا ہیلی کاپٹر ملا جو بی ایل اے، طالبان اور داعش کے دہشت گردوں پر حملہ کر سکے، نہ نئی تھرمل گنز ملیں اور نہ جدیدترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی کہ دشمن کو تاک تاک کر مارا جا سکے-

واہ جی: حد ہے مایوسی کی۔ آپ لوگ پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہو پچھلی حکومتوں کے دور میں امریکی وزیر خارجہ سے ملنا محال تھا اور اگر ٹرمپ سے وزیرِاعظم عمران کی ملاقات ہوئی تو کہا گیا کہ آج 1992ء کے ورلڈ کپ جیسا معرکہ سرانجام دیا گیا ہے، اور اب حال یہ ہے کہ آئے روز امریکی صدر اور امریکہ کے وزیر خارجہ سے بات ہوتی رہتی ہے کہاں وہ مایوسی اور کہاں آج کی سفارتی فتوحات۔اصل بات پہنچ اور رسائی کی ہوتی ہے گندم بوئی گئی اب پک چکی ہے صرف فصل کٹنی ہے تھوڑا سا انتظار کرو پھر دیکھنا پو بارہ ہوگی۔

آہ جی: واہ واہ بڑی ہوچکی، کام کی بات بھی تو کرو پاکستان کواب تک ملا کیا ہے آئی ایم ایف کے قرض نہ ملیں توآج ملک ڈیفالٹ ہوجائے۔ سعودی عرب اور چین کے اسٹیٹ بینک میں رکھوائے گئے پیسے واپس ہوجائیں تو ملک قلاش ہوجائے انار کی پھیل جائے اور خوراک کاکال پڑ جائے۔ اعدادوشمار کی بات کرو حساب کتاب کو دیکھو خالی خولی باتوں سے کام نہیں چلتا۔

واہ جی: نفرت واقعی آنکھیں کان اور منہ سب پر اثر کرتی ہے۔ آنکھوں سے اندھے، کانوں کے بہرے اور منہ سے مایوسی کی باتیں کرنیوالے تندرست آنکھیں، کان اور منہ رکھنے کے باوجود نفسیاتی بیماری کا شکار ہوتے ہیں پاکستان کے دروازے دنیا کیلئے کھل گئے ہیں امکانات پہلے مقفل تھے اب وا ہوگئے ہیں اب ہتھوڑا صحیح جگہ پڑنے کی دیر ہے پاکستان عروج کی طرف راکٹ کی اسپیڈ سے جائیگا دیکھتے جاؤ شہباز اسپیڈ کو مقتدرہ کی اسپیڈ کا تڑکا لگتا رہا تو پاکستان اڑان بھرنے لگے گا۔

آہ جی: آپکے لیڈر شہباز شریف اب تک قومی اور صوبائی 17بجٹ دے چکے ہیں گویا وہ 17سال تک کبھی صوبے کے اور کبھی پورے ملک کے سیاہ سفید کے مالک رہے ہیں پچھلے 17سالوں سے تو وہ ذرہ بھر تبدیلی لا نہیں سکے اب جو تھوڑا سا عرصہ انکا رہ گیا ہے اس میں کیا انقلاب لائینگے؟ یہ تو اسٹیٹس کوکے بندے ہیں ان سے کسی بڑی تبدیلی کی توقع واہ واہ کرنیوالے ہی کرسکتے ہیں۔

واہ جی : شہباز اسپیڈ ہی کی وجہ سے انہیں وزیر اعظم بنایا گیا دانش اسکول ہوں یا انڈر پاسز کا جال یہ اسی کا کارنامہ ہے ڈینگی کی وبا آئی تو یہ شہباز ہی تھا جو منہ اندھیرے اٹھ کر اس وبا کے پیچھے ایسا پڑا کہ اسے بھگا کر دم لیا آج تک اس جیسا کوئی وزیر اعظم نہیں آیا فوج اور حکومت میں مکمل ہم آہنگی ہے وگرنہ سول اور ملٹری تعلقات کار کا جھگڑا ہی پڑا رہتا تھا پہلی دفعہ سیاسی وفوجی قیادت ملک کی ترقی،عزت اور خوشحالی کیلئے ایک جیسی سوچ رکھتے ہیں اسلئے ان میں باہم یگانگت ہے۔

آہ جی: چھڈیار، افسانے نہ سنا! شہباز شریف سے کب کوئی فیصلہ ہوتا ہے کبھی وہ رائیونڈ کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی راولپنڈی کی طرف۔ چونکہ مینڈیٹ ہی نہیں ملا اسلئے حکومت میں برکت بھی نہیں۔ ایسی حکومت کی تقدیر پہلے سے ہی لکھی جاچکی ہے یہ اپنے مقدر میں ناکامی ہی لیکر جائیگی۔

واہ جی: جس کا دماغ بند ہو اسے کچھ سمجھانا فضول ہے تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔ تم سے بحث اور مکالمہ فضول ہے مایوس اور متعصب گڑ ھے میں ہی گرتے ہیں اور پھر انہیں کوئی نکالتا بھی نہیں ،یہی تمہارا مقدر ہے اب اسی کو بھگتو…!

تازہ ترین