• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر حملوں کے 6 ماہ مکمل، جنگ کے 6 بڑے اثرات

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کو 6 ماہ مکمل ہو گئے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جس جنگ کو ’مختصر کارروائی‘ قرار دیا گیا تھا، وہ جنگ توقع کے برعکس طول پکڑ گئی ہے۔

ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے، آبنائے ہرمز سے بحری آمد و رفت شدید متاثر ہے اور جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا، حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے ابتداء میں جنگ 4 ہفتوں میں ختم ہونے کی پیش گوئی کی تھی۔

1۔ ٹرمپ کا سیاسی نقصان 

جنگ کے آغاز سے ہی امریکی عوام میں امریکی صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم تھی، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید کم ہو گئی، سروے کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی۔

جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام پر مہنگائی کا دباؤ بڑھایا، جبکہ ٹرمپ نے 2024ء کی انتخابی مہم میں اخراجات کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی شہری جنگ کی حمایت کرتے ہیں۔

نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑھتی قیمتوں پر عوامی غصہ ری پبلکن پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

2۔ عالمی معیشت متاثر 

ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت متاثر ہوئی، آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان تقریباً 34 کلو میٹر چوڑی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کی توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔

جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور عالمی کساد بازاری کے خدشات بڑھے، آئی ایم ایف نے عالمی معاشی ترقی کی پیش گوئی دو مرتبہ کم کی اور اب رواں سال عالمی معیشت کی شرحِ نمو 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

البتہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری سمیت مضبوط اخراجات اور سرمایہ کاری نے عالمی معیشت کو بڑے نقصان سے بچانے میں مدد دی۔

3۔ ایران شکست خوردہ نہیں

جنگ میں ایران کی فوج اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا، تاہم تہران اب بھی میزائل اور ڈرون حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کی صلاحیت بھی برقرار ہے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے 161 بحری جہاز تباہ اور اس کا 82 فیصد فضائی دفاعی نظام ناکارہ کر دیا ہے۔

اس کے باوجود ایران کے پاس میزائل اور ڈرون موجود ہیں اور وہ خطے میں بحری جہازوں اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔

جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایران میں مہنگائی اور تجارتی مشکلات مزید بڑھ گئیں، جولائی میں ایران کے شماریاتی مرکز کے مطابق خوراک کی سالانہ مہنگائی 128 فیصد تک پہنچ گئی۔

4۔ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام 

امریکا اور اسرائیل کی جنگ کا مقصد ایران کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے خطرہ بننے سے روکنا تھا، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس کے نتیجے میں خطہ مزید غیر محفوظ ہو گیا۔

ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی عرب ممالک میں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ خطے میں فضائی سفر بھی متاثر ہوا۔

ایران کے بحری جہازوں پر حملوں اور بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں کے باعث انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھے، جس سے سپلائی چین اور خلیجی معیشتیں بھی متاثر ہوئیں۔

5۔ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے میں تاخیر

امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی 3 معروف یورینیئم افزودگی کی تنصیبات اور جوہری ہتھیاروں سے متعلق کام کے لیے استعمال ہونے والے بعض مقامات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اسرائیلی حملوں میں متعدد اہم جوہری سائنس دان بھی مارے گئے۔

امریکی انٹیلی جنس کے مئی کے جائزوں کے مطابق ایران کو جوہری بم کے لیے درکار افزودہ مواد تیار کرنے میں اب ایک سال تک لگ سکتا ہے، جبکہ جنگ سے پہلے یہ مدت تقریباً 6 ماہ تک سمجھی جاتی تھی۔

تاہم ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتِ حال واضح نہیں، کیونکہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار جوہری تنصیبات پر واپس نہیں جا سکے، عالمی جوہری توانائی ایجنسی تقریباً 440 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورینیئم کے ذخیرے کے موجودہ مقام کی تصدیق بھی نہیں کر سکی۔

6۔ امریکی فوجی صلاحیت پر دباؤ

جنگ کے دوران 18 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 750 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

امریکی فوج نے ڈرونز اور طیارے بھی کھوئے، جبکہ کانگریشنل ریسرچ سروس کے مطابق جنگ میں 42 امریکی فوجی طیارے ضائع ہوئے۔

جنگ کے دوران امریکا نے مخصوص جدید میزائلوں کے اپنے عالمی ذخیرے کا تقریباً پورا حصہ استعمال کر لیا، جولائی تک امریکی فوج کے پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخیرے میں تقریباً 65 فیصد کمی جبکہ تھاڈ میزائلوں کے ذخیرے میں کم از کم 38 فیصد کمی کا اندازہ لگایا گیا۔

امریکا نے یورپ اور ایشیاء پیسیفک سے لڑاکا طیارے، جنگی جہاز اور دیگر فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ منتقل کیے، جس سے دنیا کے دیگر خطوں میں امریکی فوجی تیاری اور وسائل کی دستیابی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید