• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تہران کی زندگی کاایک خوبصورت مظہراس کے پارکوں میں زندگی کی صورت پذیری کرتی مہکتی صبحیں ہیں۔ادھرآسمان پر صبح کے اجالے بکھرنے لگتے ہیں ادھر تہران کے پارکوں میں جوانوں، پیرمردوں، زن و مردکے ہجوم بڑھتے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک رضاکارانہ طورپرڈھول کی تھاپ سنبھال لیتاہے اور باقی صفیں باندھ کر اسکی دھن پر ورزش شروع کردیتے ہیں ۔ورزش سے فارغ ہوجانے والے خودکو مختلف کھیلوں میں مشغول کرلیتے ہیں ۔شہرداری تہران کی جانب سے پارکوں میں ورزش کیلئے لگائی گئی مشینیں ،مصنوعی سائیکلیں ،کھیل کے سامان اتنے وافراور اتنے نفیس ہیں کہ سیرکیلئے آنے والوں کا دل ان سے استفادے پر مائل ہوہی جاتاہے ۔راقم کو جب بھی موقع ملے وہ صبح سویرے مہکتی مسکراتی زندگی کا یہ صحت مند روپ دیکھنے تہران کے پارکوں میں نکل جاتاہے ۔راقم کی رہائش کے قریب واقع پارک ملت ،تہران کے بڑے پارکوں میں سے ایک ہے۔ کوہ دماوندکے قدموں میں واقع 34ہیکٹرزیعنی 680کنال پر پھیلاہوا یہ وسیع وعریض پارک اس جگہ پر واقع ہے جہاں 1887ء میں ایران کی پہلی اسٹیم سے چلنے والی ریل کااسٹیشن بنایاگیاتھا۔اسٹیم انجن اور اس کی ٹرین تو قصہ ماضی ہوگئے لیکن پارک ملت کے صدردروازے کے پاس ریل کی پٹری کاٹکڑااور انجن کانمونہ ایک یادگارکے طورپرمحفوظ ہے ۔اندرجائیں توسامنے ایرانی تاریخ کے بڑے بڑے شعرااور فلاسفہ کے نیم تنوں کے بیچوں بیچ قاچاری دورکا امیرالوزرا امیرکبیر فراہانی گویاان کے نگران کے طورپر تن کرکھڑاہے۔ سینما، تھیٹر، کیفے ٹیریا ،باغ وحش یعنی چڑیاگھربھی ہیں۔ ایران پر امریکی حملوں کو مسلسل تیرھویں رات گزری تو میں ایک بارپھر پارک ملت جاپہنچا۔ امریکی حملوں نے تہران کی زندگی یااسکے باسیوں کے معمولات پر کوئی اثرنہیں کیا،میں کچھ زیادہ ہی سویرے پہنچ گیاتھا اس لیے پہلی نگاہ میں یوں لگاجیسے لوگ پہلے کے مقابلے میں کم ہیں لیکن جیسے جیسے دن چڑھتاگیا اس غلط فہمی کاازالہ ہوتاچلاگیا۔ لوگ اسی طرح جوق درجو ق پارک میں آرہے تھے یہاں وہاں صفیں باندھ کر ورزش کے سلسلے شروع ہوگئے جتنے پیرمردتھے اتنے ہی جوان خواتین وحضرات اور سب پوری تیاری اور پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے اپنے گائیڈ کی راہنمائی میں میوزک کی تھاپ پر ورزش میں مصروف تھے۔اس ماحول کو دیکھ کر محض صبح کی سیرکیلئے آنے والوں کا دل بھی ورزش پر مائل ہو جاتاہے اور یوں پارک کی رونق بڑھتی جاتی ہے ۔جب خوب ورزش ہوچکی تو پارک سے باہرنکلے اور اس کی دیوارکے ساتھ ساتھ چلتے چلتے خبرنگاران اور امانیہ کی طرف بڑھے، پل پارک وے ہماری منزل تھا،دیوار کیساتھ ساتھ بڑے بڑے رنگین بورڈ لگے ہوئے تھے جن پرمعصوم بچوں کی تصویریں اور نیچے ان کی کلاس لکھی ہوئی تھی۔ کوئی پہلی جماعت کا طالب علم تھا،کوئی دوسری تیسری یاچوتھی کا۔ تصویریں نہایت پیاری تھیں لیکن جب انکے نیچے لکھی ہوئی تفصیلات پڑھیں تو دل ڈوبنے لگا۔یہ ان بچوں کی تصاویرہیں جو میناب اسکول پر 28؍فروری کو ہونے والے امریکی حملے میں شہیدکردیے گئے ،کلیوں جیسے معصوم بعض بچوں کے ساتھ ان کی والدہ یا والدکی تصویربھی تھی جو اس روز اپنے بیٹے یابیٹی کے ساتھ اسکول گئے اور اپنے پھول جیسے بچے کے ساتھ جنت کو سدھارگئے، بعض بچے اپنی بہن یا بھائی کے ساتھ شہیدہوگئے غرض یہ تصاویر ایک آئینہ ہیں جس میں ہمیں ان بچوں کے قاتلوں کے لیے کہاگیااقبال کا مصرعہ’’ چہرہ روشن اندرون چنگیزسے تاریک تر ‘‘دکھائی دے رہاہے۔ان معصوم بچوںکے سب باپ تو اپنے کلیوں اور غنچوں جیسے بچوں کا نوحہ نہیں لکھ سکے لیکن ہمیں ایک باپ کا نوحہ پڑھنے کا موقع ملا جس کے لیے یہی دن اس کی عزیزازجان بیٹی سے محرومی کا دن ثابت ہوا، اس نوحے کے چنداشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیں :

ای نازنین کہ بی تو دلم غرق خون شدہ!

باز آ، ببین کہ دل ز فراق تو چون شدہ

اے میری پیاری بیٹی تیری جدائی سے میرادل خون ہوگیاہے ،ایک بارپھر اس دنیامیں آاور آکر دیکھ کہ تیری جدائی میں تیرے باپ کا کیاحال ہوگیاہے

آن سر، کہ ہمچو سرو سرافراز و سبز بود

اینک، بنفشہ وار، زِ غم واژگون شدہ

وہ سرجو تیرے ہوتے ہوئے سرو کے درخت کی طرح سرافراز اور سر بلند تھا اب دیکھ کہ شدت غم سے، بنفشہ کی طرح سرنگونی کا شکار ہے۔ شاعری میں بنفشہ کو پھولوں کے حضور غم و افسردگی سے سربسجود دکھایا جاتا ہے۔

بگذار تا بگویم من بی تو کیستم

مرغی کز آسمان بہ زمین سرنگون شدہ

مجھے اجازت دوکہ میں تمہیں بتاؤں کہ تمہارے بعدمیری کیا حالت ہوگئی ہے میں ایک ایسے پرندے کی مانندہوگیاہوں جو آسمان کی بلندی پراڑتے اڑتے زمین پرآگراہو۔

زہرای من! شہید بہ خون خفتہ پدر!

باز آ، ببین کہ بی تو دلم غرق خون شدہ

اپنے خون میں ڈوب کرسوجانے والی ، میری زہرا توایک بارآکر تودیکھ کہ تیری جدائی میں تیرے باپ کا دل کس طرح خون میں غرق ہوچکاہے ۔

یہ اشعار ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر، ایران کے نام وردانشوراور فرہنگستان و بنیادسعدی جیسے اعلیٰ ادبی اداروں کے سربراہ ڈاکٹر غلام علی حدادعادل کے ہیں جوانھو ںنے اپنی عزیز ازجان بیٹی زہراحدادعادل کی شہادت پر کہے جو سیدعلی خامنہ ای اور خاندان کے دوسرے افرادکے ساتھ 28؍فروری کے حملے میں مرتبہ شہادت پرفائزہوئیں ۔ حدادعادل صاحب کی یہ بیٹی ایران کے موجودہ رہبر انقلاب جناب سیدمجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ تھیں۔جناب حدادعادل ایک مدبراورادیب ہی نہیں اعلیٰ پائے کے شاعربھی ہیں جیساکہ ان اشعار سے بھی ظاہر ہے۔ حال ہی میں ان کا تازہ شعری مجموعہ’’آوازپای زندگی‘‘سامنے آیاہے انھوںنے کمال عنایت سے’’بہ نام خدا۔بہ حضورمحترم استادارجمندجناب آقای دکترزاہدمنیرعامرتقدیم شد۔ حدادعادل ، تہران‘‘ کے کلمات اور اپنی دومزیدنئی کتابوں کیساتھ یہ مجموعہ راقم کو عنایت کیا۔ان کتابوں پر بات کسی اور موقع پر ہوگی، یہاں اس مجموعے سے حدادعادل صاحب کی ایک نظم کا شعر قارئین کی خدمت میں پیش کیاجارہاہے۔ اس نظم میں کوہ دماوندسے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاہے کہ


فرداکہ نسلہای دگربرتوبگذرند


زنہاراستواری مارا بہ یاددار


اے کوہ دماوند جب آنے والی نسلیں تجھ پرسے گزریں تو توہماری پائیداری اور استواری کو یاد رکھنا۔ یقیناً آنے والا زمانہ اس پائیداری اور استواری کو یادہی نہیں رکھے گا،اس پر آفرین بھی کہتارہے گا،واقعہ یہ ہے کہ حدادعادل صاحب کو یہ شعرکہنے کا حق حاصل تھا۔

تازہ ترین