بھارتی پولیس نے روس میں موجود مسلمان طالب علم کو بھی طلبہ احتجاج کے مقدمے میں نامزد کردیا۔
بھارتی ریاست بہار کے ضلع کشور گنج سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے نیٹ پرچہ لیک کے خلاف گزشتہ ہفتے ہونے والے احتجاج کے مقدمے میں نامزد کر دیا گیا، حالانکہ وہ گزشتہ چار ماہ سے روس میں مقیم ہے۔
محمد صداقت نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ 24 جولائی کو ایل آر پی چوک پر نیٹ پرچہ لیک کے خلاف ہونے والے احتجاج کے مقدمے میں اس کا نام شامل کیا گیا، جبکہ وہ گزشتہ چار ماہ سے روس میں موجود ہے۔
طالب علم نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ چونکہ وہ احتجاج کے وقت ملک میں موجود ہی نہیں تھا، اس لیے اس کا نام مقدمے سے خارج کیا جائے۔
دوسری جانب ضلع کشور گنج کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہری موہن شکلا نے اس بات کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کہ مذکورہ نوجوان مقدمے میں نامزد ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج سے متعلق کسی بھی شخص کو شکایت ہو تو وہ پولیس سے رجوع کر سکتا ہے اور اس کی درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔
بہار پولیس کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ نے بھی ابتدائی طور پر ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے معاملے کی جانچ کا یقین دلایا تھا، تاہم بعد میں یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
واضح رہے کہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف ریاست گیر ہڑتال کے دوران مبینہ طور پر احتجاج میں شامل ہونے پر 694 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں تقریباً نصف کم عمر افراد تھے۔