• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، امریکی میڈیا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی اخبار کے مطابق امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران پر تازہ حملوں کا حکم دیدیا، امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے کا نیا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ یہ حملے اس ویک اینڈ پر متوقع ہیں، جس میں ایرانی توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا آپشن موجودہے، جو کئی روز جاری رہ سکتے ہیں اور ان کا مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے۔

امریکی میڈیا کی امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے جنگ کو وسعت دینے کے لیے آپشنز تیار کر لیے ہیں، جس میں ایران کے میزائل تنصیبات کے خلاف 2 ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید بمباری بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی فوج نے ایران کے جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد حملوں کی تیاری کر لی ہے، جن میں تہران کے جنوب میں واقع پکیکس ماؤنٹین بھی شامل ہے، تاہم حملے صرف اسی مقام تک محدود نہیں ہوں گے۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے کابینہ میٹنگ کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی انہیں اشتعال دلارہے ہیں اور ان کا یہ اعتماد کمزور پڑتا جارہا ہے کہ ایران سے ڈیل کی جاسکتی ہے۔

امریکی صدر نے الزام لگایا کہ ایرانی جھوٹ بولتے ہیں، اپنے وعدوں سے پھر جاتے ہیں اور غلط نمائندگی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ  کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر سخت فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں تاکہ ایران مذاکرات کی میز پر آئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر سخت حملے کیے تو قدامت پسند بتدریج کمزور ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ایران پر حملے کے لیے امریکی تیاریوں کی رفتار میں تیزی آئی ہے، امریکی حکام کے مطابق ایران پر امریکا کے ممکنہ تازہ حملوں میں اسرائیل کی شمولیت کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید