پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین سے عوام، پیٹرولیم ڈیلرز اور ٹرانسپورٹرز شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی اتار چڑھائو سے منسلک کیا ہوا ہے لیکن اس پالیسی پر عملدرآمد میں مشکلات نظر آتی ہیں جسکی وجہ سے آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ہڑتال کی کال دی تھی لیکن دونوں ایسوسی ایشنز میں اختلاف کی وجہ سے ہڑتال کامیاب نہ ہوسکی۔تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب، ملائیشیا، جنوبی افریقہ، قطر اور یو اے ای میں تیل کی قیمتیں ماہانہ جبکہ یورپی یونین، کینیڈا اور برطانیہ میں یومیہ بنیاد پر مقرر کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی ہر 15دن بعد قیمتوں کا تعین کرتی تھی لیکن حالیہ امریکہ ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد حکومت نے یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنیکی پالیسی اپنائی اور 18جولائی کو 5.44روپے، 22جولائی کو 4.93روپے، 23 جولائی کو 6.39 روپے، 24 جولائی کو 4.40 روپے اور 25 جولائی کو 3.66 روپے فی لیٹر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور 18 سے25 جولائی کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 19.03 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا۔ روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کرائے اور کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں روزانہ ایڈجسٹ کرنا ممکن نہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پیٹرولیم کمپنیاں اور پمپس مالکان پیٹرول اور ڈیزل کے اسٹاک میں ہیراپھیری کریں۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے سے فائدہ اٹھانے کیلئے پیٹرول پمپس کئی گھنٹے پہلے صارفین کو سپلائی روک دیتے ہیں تاکہ رات 12بجے کے بعد اضافی قیمت وصول کی جاسکے۔ صبح جب موٹرسائیکل سوار پیٹرول پمپ پر پیٹرول ڈلوانے آتے ہیں تو انہیں اندازہ نہیں ہوتا کہ آج ایک لیٹر پیٹرول کیلئے کتنے پیسے دینے پڑیں گے جس سے ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔پاکستان بھر میں 11000سے زائد پیٹرول پمپس ہیں اور انتظامی طور پر اُن کے اسٹاک اور قیمتوں کا تعین کرنا ایک مشکل امر ہے۔ 27 اور 28 جولائی کو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 9.3 فیصد یعنی 8.2 ڈالر فی بیرل کمی سے 81.2 ڈالر پر پہنچ گئی لیکن پاکستان میں 28 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں صرف ایک روپے کی کمی اور ڈیزل کی قیمت میں 3.77 روپے کا اضافہ کردیا گیا اور عوام کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔ پیٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز نے بھی موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت سے ڈیلرز کمیشن میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس وقت پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 2.6 فیصد(8.64 روپے) ہے لیکن پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ ہے کہ ان کے مارجن کو بڑھاکر 8 فیصد (26.17 روپے) کیا جائے جو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 17.55 روپے کا اضافہ کردے گا۔ 25 اپریل کو پیٹرول کی قیمت 335.18 روپے تھی جس میں 80 روپےPDL، 5 روپے کلائمنٹ سپورٹ لیوی، 17.28 روپے کسٹم ڈیوٹی، OMC مارجن 6.95 روپے اور ڈیلر کمیشن 8.64 روپے ہے جو مجموعی 117.10 روپے بنتا ہے جبکہ پیٹرول اور فریٹ کی قیمت 228.08 روپے فی لیٹر ہے۔ اس طرح ایک لیٹر پیٹرول میں حکومتی محصولات PDL ملاکر 35 فیصد ہیں جو پیٹرول کی قیمتوں کو مہنگا کردیتے ہیں۔ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کو ریونیو وصولی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی مدمیں عوام سے 1498ارب روپے وصول کئے تھے جبکہ رواں مالی سال 2026-27 ءمیں حکومت نے 12 فیصد اضافے کیساتھ 1677ارب روپے ہدف رکھاہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے وصول کیا جارہا ہے اور نہ جانے کب تک عوام سے وصول کیا جاتا رہے گا۔ علاقائی ممالک میں امریکہ ایران تنازع سے پیٹرول کی قیمتوں میں بلند سطح پر اضافے کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ قیمت پاکستان میں 40 فیصد (137روپے فی لیٹر) بڑھائی گئی تھی جبکہ بھارت میں 5 فیصد، بنگلہ دیش میں 8 فیصد، سری لنکا میں 10 فیصد، نیپال میں 8فیصد، چین میں 6 فیصد اور یو اے ای میں پیٹرول کی قیمتوں میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا۔ حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ یومیہ بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آزمائشی طور پر کیا جارہا ہے لیکن میرے نزدیک اس کا حل پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن ہے یعنی پیٹرول کی قیمتیں مقرر کرنے کا حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس میں، میں نے شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کی سفارش کی تھی اور مجھے خوشی ہے کہ حکومت میری تجویز پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ حکومت کا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تعین عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھائو صارف کو منتقل کرنے اور قومی خزانے کو خسارے سے بچانا ہے لیکن اس سے مارکیٹ میں پیدا ہونیوالی غیر یقینی صورتحال سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ میری تجویز ہے کہ پاکستان میں ہائبرڈ سسٹم سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے جس میں حکومت کا کم از کم عمل دخل ہو۔