• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عشاء خان

شہر کی رونقوں سے دُور کئی آنگن آج بھی اپنی خاموشی میں کسی متروک رہگزر کی طرح ویران پڑے تھے، جن پر ماضی کے جھروکوں سےآتی گرد کی دبیز تہہ جم چُکی تھی، مگر اُن پر لکھی کہانیاں اب تک نامکمل تھیں۔ درودیوار پر ٹھہری ہوئی اداسی محض سکوت نہ تھی بلکہ اِک گزرے زمانے کی مدھم سی بازگشت تھی، جو نیم کے سوکھے پتّوں کے سرکنے سے ماحول کومزید گہرا کردیتی تھی۔

دہائیوں سے انتظار کی یاس سے بوجھل وہ مکان کسی اَن کہی داستان کا آخری باب معلوم ہوتا تھا۔ اُس کی چوکھٹوں پر دھوپ کچھ اس طرح بِکھرتی، جیسے برسوں پرانی رفاقت نبھانے آتی ہو۔ خاموشی میں سرگوشی کرتے وہ دریچے آنگن سے گزرتی ہوا پر یوں جنبش کرتے، گویا اپنے سنگ گم شدہ ماضی کی مہک لیے پھرتے ہوں۔

مکان کے وسط میں اِستادہ وہ نیم کا درخت، جس کی قامت میں تاریخ کے کتنے ہی مشاہدات پوشیدہ تھے۔ اس کی ڈھلکتی ڈالیوں پر آویزاں جھولا نہ جانے کتنے رشتوں، یادوں کے دھاگوں سے بُنا گیا تھا۔ اُس پرجمی گرد تلے کبھی اِک زمانہ سانس لیتا تھا،جن کے اَن مٹ نقوش آج بھی اِسی آنگن کی مٹّی پر ثبت تھے، جنہیں وقت کی بےرحم گردش بھی مدھم نہ کرسکی تھی۔

کبھی جب یہاں شام ڈھلتی تو نیم کی شاخوں سے چھن کر آتی ہوا نہ جانے کتنی مانوس آوازوں کی سرگوشیاں سمیٹے پھرتی۔ بظاہر سب کچھ ویسا ہی تھا۔ پر، اب سکون کی آغوش میں ان جانا تغیّر جنم لے رہا تھا۔ مانوسیت، اجنبیت کا احساس دلاتی تھی۔ زندگی کچھ غیرمعلوم راہوں پرچل پڑی تھی اورنگاہیں اکثر کسی ان دیکھے افق پر جا ٹھہرتی تھیں۔

کُھلے دریچوں سے آتی مہک اب فضا کے بدلتے مزاج میں تحلیل ہورہی تھی اور آنگن کی مٹی مکینوں کے قدموں کو امانتاً سنبھالے ہوئے تھی۔ کسی اور سمت سے آتی ہوا اب کسی نئی منزل کا پتا دے رہی تھی کہ شاید ، اب روانگی قریب تھی۔ بعض اوقات خواہشِ قلبی پر فرض غالب آجایا کرتا ہے۔ ایسا فرض جسے عہدِوفا لازم ہو۔ جہاں فرض کا تعلق ضمیر سے اور عہد کا تعلق خمیر سے ہو، وہاں بچھڑنے والے تمام نقوش وفا کی نشانی کے طور پر چھوڑ آتے ہیں۔

وہ بوجھل دل کے ساتھ نیم کے تنے پر ہاتھ رکھے رہا۔ اِک پل میں سال ہا سال کی تمام یادیں اور رفاقتیں سمٹ کر اُس چھال کے نیچے جمع ہوگئی تھیں، جنہیں اب وہ اِک آخری لمس کے ساتھ الوداع کہہ رہا تھا۔ کیا معلوم تھا کہ آنے والا وقت محض پتے ہی نہیں بدلے گا، یادوں، نسبتوں اور صدیوں پر محیط مانوسیت کے معنی ہی بدل کر رکھ دے گا۔

کچھ ساعتوں بعد وہ ریلوے پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ عجب منظر تھا وہاں۔ یوں لگتا تھا، جیسے پورا ایک عہد ہجرت تو کررہا تھا، مگر اس کی جڑیں اب بھی اُسی مٹّی میں پیوست تھیں، جسے وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ ہر ہاتھ سامان سے بوجھل اور ہر چہرہ کئی جذبات کا مظہرتھا۔ اپنوں سے بچھڑنے کا کرب بھی تھا اور آنکھیں ایک ایسے خواب کی روشنی سے بھی منور تھیں، جس کی قیمت وہ اپنی سب سے عزیز متاع دے کرچُکا آئے تھے۔

صندوقوں اور گٹھڑیوں میں جو کچھ وہ سمیٹ سکے، سمیٹ لائے تھے، مگر جو کچھ وہ پیچھے چھوڑ آئے تھے، اُس کی گنجائش اُن کےدِلوں کے سوا اورکہیں نہ تھی۔ وہ پلیٹ فارم پر بیٹھےمحض مسافر نہ تھے۔ وہ تو اپنی نسلوں اورشناختوں کی امانت سینوں سے لگائے بیٹھے تھے۔ وہ اپنی دہلیزیں، اپنے بچپن کی آوازیں اور برسوں کی مانوسیت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ اُن کے وجود کی پوٹلیوں میں دہائیوں کی محبتیں، قہقہے اور یادیں محفوظ تھیں۔ رقّت انگیزی کا یہ عالم تھا کہ زبانیں تو خاموش تھیں، پر نگاہوں میں اک شور برپا تھا۔

کوئی اگر گھر چھوڑ آیا تھا تو کسی کے گھر والے چُھوٹ گئےتھے۔ کوئی اپنوں کی قبروں کوآخری سلام کہہ آیا تھا تو کسی کےاپنے بےگوروکفں رہ گئے تھے۔ مال و متاع تو کیا، لوگ یہاں جانوں کے نذرانے دے کر آئے تھے۔ وہ اپنے وجود کے ٹکڑے پیچھے دفن کر آئے تھے۔ کئی بوڑھی ہتھیلیوں میں خشک پتّے تھے۔ کچھ کی مُٹھیوں میں مٹّی تھی۔ گویا ہر فرد اپنے حصّے کا پورا عہد اُٹھائے پھر رہا تھا۔

اسی اثناء، ریل کی سیٹی فضا میں گونجی اور جدائی کے فیصلے پر آخری مُہر ثبت کرگئی۔ ریل کی پٹریاں دُورافق تک پھیلی ہوئی تھیں۔ ایسا لگتا، جیسا دو ادوار کے درمیاں لکیر کھینچ رہی ہوں۔ اُس نے اچٹتی سی نظر منظر پر ڈالی اور پھر گرد آلود فضا میں ایک نظر اٹھائی۔ اُسے وہاں غم کے دھویں میں اُمید کے چند لرزتے ہوئے چراغ دکھائی دیے۔اور شاید انہی چراغوں کے سہارے یہ قافلہ اپنے زخموں سمیت مستقبل کی طرف بڑھ رہا تھا۔

ریل کے ڈبےمیں قدم رکھتے ہوئے اُسے احساس ہوا، جیسے اس کے قدموں تلے دو ادوار کے درمیان بچھا پُل ہو۔ اُسےاُس لمحے پہلی بارمحسوس ہوا کہ بعض محبّتیں اک دوسرے کی ضد نہیں ہوتیں، وہ صرف صُورتیں بدل لیتی ہیں۔ اُس نے آخری بار پلٹ کرنہیں دیکھا۔ ریل آہستہ آہستہ حرکت میں آئی تو یوں لگا، جیسے پہیوں کے نیچے سے ایک پورا زمانہ سرک رہا ہو۔

کچھ نگاہیں حدِ نظر تک پٹریوں کا تعاقب کرتی رہیں اور پھر سب کچھ دھندلانے لگا۔ اُس نے کھڑکی سے سر ٹکا لیا۔ ایک لمحے کو آنکھیں موندیں تو تمام منظر اِک داستان کی طرح آنکھوں میں تیرنے لگا۔ اُس نے جلدی سے آنکھیں کھول دیں۔ رات دھیرے دھیرے اپنے سیاہ دامن میں ہر شے سمیٹ چُکی تھی۔ گردو پیش پر نگاہ ڈالی تو وہی تھکے ہوئے چہرے، گرد آلود لباس اور وہی نم آنکھیں، پرکسی آنکھ میں پچھتاوا یا شکوہ نظر نہیں آیا۔

ان خاموش چہروں اور جاگتی آنکھوں میں اضطراب کم اور انتظار زیادہ تھا۔ دُکھ کے سائے میں ایسی طمانیت تھی، جو یقین سے جنم لے رہی تھی۔ گویا اُن کی نظریں ماضی سے نکل کر آنے والے کل پر مرکوز تھیں۔ پٹریوں پر پھیلی طویل مسافت آہستہ آہستہ سمٹ رہی تھی۔ جب گاڑی اپنی منزل پررُکی تو ہر جانب سویرا پھیل چُکا تھا۔ اُس نے پلیٹ فارم پر قدم رکھا۔ روشنی دھیرے دھیرے زمیں پر اُتر رہی تھی، جیسے ایک طویل رات اپنےحصّے کا دُکھ سمیٹ کر رخصت ہوچُکی ہو۔

وہ دیر تک خاموش کھڑا رہا۔ فضا کی مہک مختلف ضرور تھی، مگر اجنبی نہیں۔ وہ اُس سرزمین پر کھڑا تھا، جس تک پہنچنے والے رستوں میں نہ جانے کتنی دُعائیں، کتنی جدائیاں اور کتنی ہی قربانیاں دفن تھیں۔ ہاتھ میں اب بھی آنگن کی وہ مٹی موجود تھی اور شاید کسی جیب میں وہ نیم کے سوکھے پتّے بھی محفوظ ہوں۔ اُس نے نگاہ اٹھا کر چاروں سمت دیکھا۔ یہاں ابھی بہت کچھ تعمیر ہونا تھا۔ ایک نسل نےخواب دیکھا، ایک نے تعبیر پائی اور اب آنے والی نسلوں کو اس کی تعمیر کا ذمہ سونپا جارہا تھا۔ ویران زمینوں پر بستیاں آباد کرنی تھیں اور بکھرے دلوں کو نئی نسبتوں میں پرونا تھا۔

یہ زمیں اُسے اُن تمام چہروں کی یاد دلارہی تھی، جو اِس صُبح کی قیمت چُکا کر تاریخ کا حصّہ بن چکے تھے۔ اُس نے مٹھی کھولی اور اپنے ماضی کو اپنے مستقبل سے ہم آہنگ کردیا۔ بےاختیار اُس کی پیشانی اپنی نئی مٹی کو بوسہ دینے لگی۔ یہ رب کے حضور محبت و عقیدت کا سجدہ تھا کہ اُس نے تمام قربانیوں، دُعاؤں کا ثمر عطا کردیا تھا۔ ایک خواب کو ایک وطن بنادیا تھا۔ ہائے کتنی عظیم تھی وہ نسل، جو شامِ فراق کو سینے سے لگائے ’’صُبحِ اُمید‘‘ کی بنیاد رکھ گئی تھی۔